برٹش ورجن آئی لینڈ ٹیکس چوروں کی جنت کیوں ہے؟

https://youtu.be/6WKjQu4N9Fs

پنڈورا پیپرز سے بدنام ہونے والا بحیرہِ کیریبین میں واقع برطانوی عملداری والا خطہ برٹش ورجِن آئی لینڈز دنیا بھر کے ٹیکس چوروں کی جنت قرار دیا جاتا ہے۔ برٹش ورجِن آئی لینڈز ٹیکس بچانے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں قائم آف شور کمپنیاں ہر سال تقریباً ساڑھے 37 ارب ڈالرز کے برابر ٹیکس نقصان کی ذمہ دار ہیں۔
یاد رہے کہ پنڈورا پیپرز میں زیادہ تر برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ کمپنیوں کا ذکر ہے۔ 153 مربع کلومیٹر رقبے اور صرف 36 ہزار آبادی والے اس ملک میں چار لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں یعنی فی شخص 18 کمپنیاں قائم ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوٹا سا برطانوی خطہ فلک بوس عمارتوں اور دھواں چھوڑتی فیکٹریوں سے بھرا ہو گا اور زبردست معاشی سرگرمیاں جاری ہوں گی ۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہاں خوبصورت ساحل اور محض کاغذات پر درج کاروباری کمپنیاں چل رہی ہیں۔ اسے ٹیکس چھپانے یا بچانے کا سب سے بڑا ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی ٹیکس بچانے کا کوئی بھی بین الاقوامی سکینڈل سامنے آتا ہے تو ٹیکس کی محفوظ ترین پناہ گاہ ’برٹش ورجن آئی لینڈ‘ کا نام سرخیوں میں آتا ہے۔ جیسا کہ بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس یا آئی سی آئی جے کے صحافی ول فٹزگبن کہتے ہیں کہ یہ جزائر دنیا بھر سے ’قانونی کمپنیوں، مشہور شخصیات، ارب پتی افراد اور مجرموں کو یکساں طور پر اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔
مشرقی کیریبین میں واقع برٹش ورجن جزائر چار بڑے جزیروں اور 32 چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل علاقے کا نام ہے، جن میں سے تقریباً بیس جزائر غیر آباد ہیں۔ انھیں کرسٹوفر کولمبس نے 1493 میں دریافت کیا تھا۔ یہ جزیرے 16 ویں صدی میں ہسپانوی سلطنت کے قبضے میں تھے ۔ 1648 تک ٹورٹولا نامی جزیرہ ان میں سب سے بڑا جزیرہ تھا، جو ہالینڈ کے بحری قزاقوں کے قبضے میں ہوتا تھا۔ پھر چند دہائیوں کے بعد یہ جزائر برطانوی سلطنت کے کنٹرول میں آگئے، جس نے 1773 میں وہاں ایک مقامی سول حکومت تشکیل دی، جزوی طور پر منتخب قانون ساز کونسل کی تشکیل اور آئینی عدالتوں کے قیام کی اجازت دی۔
برٹش ورجن آئی لینڈز نے 1970 کی دہائی میں ایسی قانون سازی شروع کی جس نے اس خطے کو غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا۔’ بی وی آئی جزائر پر تقریباً کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہے، وہاں کوئی کیپٹل گین ٹیکس عائد نہیں، وراثت ٹیکس بھی لاگو نہیں دینا، کوئی گفٹ ٹیکس بھی نہیں دینا پڑتا، سیلز یا ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی نہیں ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے دوسری کشش وہ سہولیات ہیں جو سستی اور سادہ کاغذی کمپنیاں بنانے کے لیے دستیاب ہیں۔ یہ سہولیات آف شور کمپنیوں کے مالکان کو اپنے نام عوام کی نظروں سے خفیہ رکھنے کا اچھا موقع فراہم کرتی ہیں۔ آف شور کمپنیاں مالکان کو رازداری کے لیے کسی پراکسی کے پیچھے چھپنے کی اجازت دیتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈز کے کل بجٹ کا نصف حصہ اسی قسم کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن پر مشتمل ہے۔ اس کی آمدن کا دوسرا بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔ یہ آمدن اسے کینیڈا، جرمنی اور فرانس جیسی ترقی یافتہ معیشتوں سے بہتر بنا دیتی ہے۔ تاہم، چونکہ ان جزائر میں سرمایہ کاری محظ کاغذات میں ہوتی ہے اس لیے ائی لینڈز پر اس سرمایہ کاری کے حقیقی اثرات بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔
ٹیکس جسٹس نیٹ ورک این جی او کا کہنا ہے کہ ‘آف شور کمپنیوں کے رجسٹر کیے جانے کے عمل نے برٹش ورجن آئی لینڈز کو دنیا بھر میں ہر قسم کی بدعنوانیوں اور جرائم کو چھپانے اور سہل کرنے میں مدد گار بنا دیا ہے۔ چنانچہ برٹش ورجن آئی لینڈز عالمی سطح پر ہر سال تقریباً ساڑھے سینتیس ارب ڈالر کے برابر ٹیکس کے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔

Back to top button