کامیڈی کنگ عمر شریف کا اصل قاتل ایک قصاب ڈاکٹر


معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ کامیڈی کنگ عمر شریف کی موت کا اصل ذمہ دار وہ قصاب نما ڈاکٹر ہے جس نے کچھ عرصہ پہلے آپریشن کرتے ہوئے انکی لاڈلی بیٹی کی جان لے لی تھی۔ اس واقعے کے بعد عمر شریف ایک زندہ لاش بن گئے تھے جس کی تدفین مزار عبداللہ شاہ غازی کے احاطے میں ہو چکی۔
اپنی تازہ تحریر میں یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ عمر شریف کی حالت بیماری کی تصویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر پاکستانی کی طرح مجھے بھی بے حد تکلیف ہوئی، دل میں سوچا کہ یہ تو وہ شخص ہے جو لاکھوں لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا، اسے یکدم کیا ہوا! پھر پتا چلاکہ گزشتہ برس فروری میں عمر شریف پر ایک قیامت گزر ی تھی جس کے بعد وہ ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔ اُن کی بیٹی کو گردے کا مرض لاحق تھا، اُس کے گُردے کی پیوند کاری ہونا تھی، جس ڈاکٹر نے عمر شریف کی بیٹی کا یہ آپریشن کیا اُس کا نام فواد ممتاز تھا جو لاہور جنرل اسپتال میں سرجن تھا۔ عمر شریف تب تین ماہ کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے اور لاہور میں اُن کا بیٹا اپنی بہن کے آپریشن کے معاملات دیکھ رہا تھا۔ بیٹے کو علم نہیں تھا کہ جس ڈاکٹر سے وہ آپریشن کروا رہے ہیں وہ 2017 میں ایک خاتون کے گُردے کی غیر قانونی پیوند کاری کے الزام میں ایف آئی کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے، اُس آپریشن میں خاتون کی موت واقع ہو گئی تھی اور اِس الزام میں پنجاب کی ینگ ڈاکٹر تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر التمش کھرل کو بھی دو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد نام نہاد ڈاکٹر فواد کی ضمانت مسترد ہوئی مگر بعد ازاں ضمانت منظور بھی ہو گئی اور وہ نہ صرف رہا ہوا بلکہ جنرل اسپتال میں ڈیوٹی بھی کرتا رہا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کے خلاف پرچے بھی درج ہوتے رہے۔
یاسر پیرزادہ کے مطابق عمر شریف کے خاندان سے اُس ڈاکٹر نے گردے کی پیوند کاری کے 34 لاکھ روپے وصول کیے اور آزاد کشمیر کے ایک نا معلوم مقام پر آپریشن کیا گیس جو ناکام ہو گیا۔ عمر کے بیٹے کی درخواست پر ایف آئی اے نے ڈاکٹر فواد ممتاز کے گھرپر چھاپہ مارا مگر اُس کی گرفتاری نہ ہو سکی۔ اِس واقعے نے عمر شریف کی دنیا اجاڑ دی، انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اُن کے اپنے ملک میں اُن کی اکلوتی بیٹی کی سرجری ایک جرائم پیشہ ڈاکٹر کرے گا جس کی وجہ سے اس کی جان چلی جائے گی۔عمر شریف کی بیٹی کا ’قاتل ‘ آج بھی زندہ ہے اور شاید تا حال گرفتار نہیں ہو سکا، عین ممکن ہے کہ اب بھی وہ جعلی آپریشن کر رہا ہوا ور معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہو۔یہ قاتل اگر گرفتار ہو بھی گیا تو اسے سزا نہیں ہو پائے گی کیونکہ ایسے جرائم پیشہ ڈاکٹروں کو پکڑنے کے لیے موجود ہ قوانین ناکافی ہیں۔ اگر کوئی شخص جعلی ڈاکٹر کے خلاف شکایت درج کرواتا ہے تو پنجاب کی حد تک یہ قانون ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن اس پر جرمانہ عائد کر سکتا ہے اور یہ جرمانہ بھی قانونی موشگافیوں کے مراحل سے گزرکر عائد کیا جاتا ہے۔ کمیشن اُس ڈاکٹر کا کلینک بھی سر بمہر کر سکتا ہے مگر جرائم پیشہ ڈاکٹر اس کی پروا نہیں کرتے اور وہ کرائے کی دکان چھوڑ کر کہیں اور پریکٹس شروع کر دیتے ہیں۔ میرے علم میں ایسے کئی واقعات ہیں جن میں ایسے ڈاکٹروں نے لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگایا اور ابھی تک کھلے عام پھر رہے ہیں، قانون اُن کا کچھ نہیں بگاڑ پایا۔
یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر شریف کی موت کا جو ماتم کیا ہے وہ اپنی جگہ مگر ایسے ماتم کا کیا فائدہ ؟ وفاق، پنجاب اور سندھ کی حکومتیں جو عمر کی موت کے بعد سے تعزیتی پیغامات جاری کر رہی ہیں اُن کا اب کیا کسی نے اچار ڈالنا ہے، اُن کے ذمے جو کام تھا وہ تو ہو نہیں سکا، اب تعزیتی ٹویٹس کرکے کیا قومی فریضہ نبھا رہے ہیں ! اگر کسی کو واقعی عمر شریف کی وفات کا دکھ ہے تو اس کے لیے کم سے کم کرنے کا کام یہ ہے کہ اُس جرائم پیشہ ڈاکٹر کو گرفتار کرے جس نے عمر شریف کی بیٹی کا آپریشن کیا تھا اور اسے قانون کے مطابق سزا دلوائے۔ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پورے ملک میں ایسے جرائم پیشہ ڈاکٹروں کی فہرست بنا کر اسے ویب سائٹ پر مع اُن کی تصاویرکے ایسے اپ لوڈ کر دیا جائے جیسے سنگین جرائم میں مطلوب افراد کی تصاویر کو مشتہر کیا جاتاہے، اِس سے یہ ہوگا کہ کسی ڈاکٹر کے جھانسے میں آنے سے پہلے لوگ اِس ویب سائٹ پر اُس کی پڑتال کرکے معلوم کر سکیں گے کہ کہیں یہ جرائم پیشہ یا جعلی تو نہیں۔ اور اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں عمر شریف کی موت کا غم منانے کا کوئی حق نہیں۔ بقول یاسر پیرزادہ ہم چونکہ دعائیں مانگنے اور ماتم کرنے والی قوم ہیں، اس۔لیے عملی کام پر یقین نہیں رکھتے، اِس لیے میری دعا ہے کہ حکومت عمر شریف کے ’قاتل‘ کو فوری گرفتار کرے تاکہ اُن کی روح کو قرار آ سکے،یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اُن کا قاتل وہی ڈاکٹر ہے جو اُن کی بیٹی کی موت کا ذمہ دار ہے۔

Back to top button