پاکستانی روپیہ ایشیا کی سستی ترین کرنسی کیسے بنا؟

https://youtu.be/S7djSnoPo0M
جتنی تیزی سے عوام کی نظروں میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گر رہی ہے اس سے بھی زیادہ تیزی سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر گری ہے۔ چنانچہ معاشی ماہرین کی جانب سے پاکستانی کرنسی کو برِ اعظم ایشیا کی بدترین کرنسیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2021 سے اب تک پاکستانی کرنسی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ یہ کمی تھائی لینڈ کی کرنسی تھائی بھات سے اب تک کچھ کم رہی ہے جو 2021 میں 11 فیصد گر چکا ہے۔ پاکستانی کرنسی کی قیمت سات مئی کو انٹر بینک میں 152.28 پیسے تھی۔ لیکن 30 ستمبر کو انٹر بینک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ قیمت 170 روپے 66 پیسے ریکارڈ کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ چار ماہ سے بھی کم وقت میں پاکستانی کرنسی کی قیمت اس قدر زیادہ گر گئی۔ جس سے ماہرین معیشت کے مطابق ملک میں معاشی غیر یقینی اور مہنگائی بڑھی۔ ماہر معیشت اور عارف حبیب سیکورٹیز میں ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس کا کہنا ہے کہ دنیا کی معیشتیں کرونا وبا سے نکلنے کے بعد جس طرح کھلی ہیں تو مجموعی طور پر دنیا بھر میں بشمول مختلف اجناس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور طلب میں اضافہ ریکارڈ کیے جانے کی وجہ سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات بلکہ کوئلہ، اسٹیل، کپاس، گندم، چینی، فرٹیلائزر سمیت مختلف اجناس کی قیمتوں میں یا تو تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے یا اس کے قریب تر پہنچ گئی ہیں۔
طاہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان ان میں سے اکثر اجناس باہر سے منگواتا ہے اور ہماری درآمدات، برآمدات کے مقابلے میں تاریخی طور پر ہمیشہ ہی سے زیادہ رہی ہیں۔ اس کے اثر کے طور پر ہمارا تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھا ہے۔
اُن کے بقول تجارتی خسارہ بڑھنے سے ادائیگیوں کے توازن پر فرق پڑا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اب ہماری کرنسی کا انحصار مارکیٹ پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیرونی ادائیگیاں زیادہ ہوں گی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ ہو گا جس سے لامحالہ روپے کی قدر بھی کم ہو گی۔ اگر دوسری جانب ہمارے پاس اِن فلوز بہتر ہو گئے یعنی ہمارے پاس زیادہ پیسے آنے لگیں، کرنٹ اکاؤنٹ بہتر ہو گیا تو اس کی قدر میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے کرنسی کی قدر کو فکس رکھا ہوا تھا۔ لیکن اب اس کا تعین طلب اور رسد کرتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کی کُل درآمدات کا 25 فی صد ہوتا ہے۔ پھر پاکستان بڑے پیمانے پر غذائی اشیا بھی درآمد کر رہا ہے۔ ان دونوں اشیا کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں تیزی سے بڑھی ہیں۔ اس خسارے کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ بینک نے کرونا وبا کے دوران جو معاشی پیکج دیا تھا جس کے تحت مقامی کاروبار کو سپورٹ کرنے اور انہیں اپنے کاروبار میں توسیع دینے کے لیے سستے قرضے فراہم کیے گئے تھے۔ اس پیکج کے تحت بڑے پیمانے پر مشینری بیرونِ ملک سے منگوائی گئی جس وجہ سے ہماری درآمدات کا بل بڑھا ہے۔ اسی لیے تجارتی خسارے میں کمی لانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے کچھ اقدامات کیے ہیں جن کے تحت پر تعیش اور غیر ضروری اشیا کو کم کرنے کے لیے ان اشیا کی خریداری کے لیے قرض کے حصول کا طریقۂ کار تبدیل کیا گیا ہے۔
لیکن معاشی امور کے ماہر اور وزارتِ خزانہ میں کئی سال تک تعینات رہنے والے سابق افسر ڈاکٹر اشفاق حسن روپے کی قدر میں کمی کا ذمے دار اسٹیٹ بینک کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک نے درآمدات بالخصوص غیر ضروری اشیا کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان نے ڈھائی ارب ڈالرز سے زائد کے موبائل فونز درآمد کر لیے، اسی طرح غیر ملکی گاڑیاں، دودھ سے بنی ہوئی اشیا، جانوروں کی غذائی اشیا، شیمپوز اور صابن سمیت دیگر سیکڑوں ایسی مصنوعات ہیں جنہیں بیرون ملک سے نہ منگوانے سے کوئی بحرانی کیفیت پیدا نہیں ہو جاتی۔ لیکن ایسی اشیا کی درآمد پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
اُن کے بقول اب جب کہ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے تو ایسی اشیا پر 100 فی صد کیش مارجن نافذ کرنے اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بڑھانے کے اقدامات کافی تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں۔
ادھر عالمی ریٹنگ ایجنسی فِچ کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت 180 روپے تک جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ریٹنگ کمپنی نے 165 روپے فی امریکی ڈالر رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ہے۔ خیال رہے کہ کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر گرنے سے اس کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عام طور پر ایسے میں بے یقینی کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کار ایسے میں محتاط ہو جاتے ہیں اس کیے اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ مندی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔
