بزدار نے کپتان سے روحانی تعلق ہونے کا اعتراف کرلیا

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے بالآخر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ان کا وزیر اعظم عمران خان سے روحانی تعلق ہے اور وہ درباروں اور درگاہوں پر جا کر دعائیں بھی لیتے ہیں۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے کالم نگار ارشاد بھٹی کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں کیا جس کی تفصیل انہوں نے روزنامہ جنگ کے لئے تحریر کی ہے۔ اس غیر رسمی گفتگو میں عثمان بزدار نے اپنی دوسری شادی کی افواہوں کی سختی سے تردید کی اور اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وزارت اعلی سے فارغ ہونے کے بعد پنجاب کے عوام ان کو اصلی خادم اعلی کے طور پر یاد رکھیں۔
اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ارشاد بھٹی نے بزدار سے پہلا سوال مبینہ طور پر5 کروڑ کی رشوت لیکر شراب کی فروخت کا لائسنس دلوانے کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں بزدار نے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے، مجھے اسکا علم ہے اور نہ ہی یہ میرا کام ہے۔ لائسنس کے حوالے سے جو بھی کیا ڈی جی ایکسائز نے کیا۔ جب سوال کیا گیا کہ ڈی جی ایکسائز تو آپ ہی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن چکا اور اس کا کہنا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا وزیراعلیٰ کے حکم پر کیا، تو بزدار بولے: "میرا کوئی تحریری حکم نامہ، کوئی ثبوت دکھا دیں کہ یہ سب میں نے کروایا۔ جب بزدار کو بتایا گیا کہ شراب لائسنس جاری کرنے کے عوض آپ کے عزیز نے 5 کروڑ رشوت لی تو مسکرا کر بولے، اس رشوت کا کوئی ثبوت موجود ہے تو فوری سامنے لائیں۔
جب عثمان بزدار سے یہ پوچھا گیا کہ کیا لاہور ،تونسہ ٹھیکے میں گھپلوں والی بات بھی جھوٹی ہے تو بولے کہ ہاں، بالکل جھوٹی ،کوئی ایک گھپلا ثابت کردیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ٹھیکیدار تنویر کون ہے جس کو آج کل ہربڑا ٹھیکہ مل رہا تو بزدار نے پوچھا کون تنویر؟ میں کسی تنویر کو نہیں جانتا۔ جب وزیر اعلی کو بتایا گیا کہ یہ بھی سناجارہا کہ آپ نے اپنے بھائیوں ،عزیزوں ،فرنٹ مینوں کے نام پر کافی زمینیں خریدلی ہیں اور اسی لیے نیب نے آپ سے آپ کی جائیدادوں کی تفصیل مانگی ہے تو انہوں نے جواب دیا میں نے بھی یہی سنا ہے، میرا کیس اب نیب میں ہے، اگر ایسا کچھ ہوا تو سامنے آجائے گا۔ سوال کیا گیا کہ آپ کے بارے میں اتنے ڈھیروں الزامات کیوں لگ رہے ہیں اور نیب آپ کے اثاثوں کے بارے میں کیوں پوچھ رہا ہے؟ تو بزدار نے جواب دیا کہ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ساؤتھ پنجاب کا ایک غریب شخص وزیراعلیٰ بن گیا ہے اور ایلیٹ کلاس اور وڈیروں کو ہضم نہیں ہورہا، بس اتنی سی بات ہے۔
عثمان بزدار سے پوچھا گیا کہ پنجاب میں گورننس کا اتنا برا حال کیوں ہے؟ جواب میں بولے کہ انہوں نے دو برس میں بہت کچھ کیا ہے اور عنقریب ساری کارکردگی سامنے لائیں گے، جب پوچھا گیا کہ مصنوعی مہنگائی، بڑھتے جرائم، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ہر محکمے میں کرپشن کی کہانیاں، آٹا، گندم، چینی بحران، یہ ہے آپ کی حکومتی کارکردگی؟ جواب میں بزدار بولے، 11 سال کے مسائل، 11 کروڑ لوگوں کا صوبہ، ،مصائب کا انبار، میں نے بہت کچھ کیا، اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ جب ٹوکتے ہوئے ان سے پوچھا گیا کہ دو لفظوں میں بتا تو دیں کہ دراصل انہوں نے کیا کیا ہے ان دو برسوں میں؟ تو بولے کہ ہفتہ دس دن رک جائیں ،ہم سب بتانے والے ہیں، پوچھا گیا کہ یہ آپ کی کیسی کارکردگی ہے جو نظر نہیں آرہی اور آپ کے بتانے سے ہی سامنے آئے گی، تو بزدار بولے کہ عمران خان اکثر مجھے کہتے ہیں کہ عثمان، تم پکے مسلمان ہو، نیکی کر کے دریا میں ڈال دیتے ہو اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی، یعنی کام کرتے بھی رہتے ہو اور کسی کو کچھ بتاتے بھی نہیں۔ بس کچھ ایسا ہی سلسلہ ہے۔
جب وزیر اعلی پنجاب سے یہ سوال کیا گیا کہ عمران خان آپ پر اتنا اعتمادکیوں کرتے ہیں اور اس بھروسے کی وجہ کوئی روحانی تعلق تو نہیں؟ تو بزدار نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ روحانیت کی ایک پوری دنیا ہے، میں خود بھی روحانی لوگوں سے ملتا ہوں اور دعائیں لینے کے لیے بزرگوں کے درباروں اور درگاہوں پرجاتا ہوں۔ جب بزار سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کبھی زندگی میں سوچا تھا کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے تو جواب دیا کہ بالکل بھی ایسا نہیں سوچا تھا۔
عثمان بزدار نے بتایا کہ ماضی میں وہ پورے پانچ برس تب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ملنے کے لیے درخواستیں دیتے رہے اور فیکس بھیجتے رہے لیکن ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ بزدار سے پوچھا گیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے کراچی نہیں دیکھا، جواب میں وزیر اعلی قہقہہ مارکر بولے، یہ ہوائی کہانی ہے کہ میں نے کراچی نہیں دیکھا یا مجھے لاہور کا کچھ پتا نہیں، میں کراچی بھی جاچکا اور مجھے لاہور کی بھی ایک ایک سڑک کا علم ہے، بلکہ میں 2001 میں بحیثیت اسٹیٹ گیسٹ امریکہ بھی جاچکا ہوں، جب سوال کیا گیا کہ کیا یہ سچ کہ آپ کو موبائل فون کے بارے میں کچھ زیادہ پتا نہیں، جواب میں بولے کہ ہاں، یہ سچ ہے، مجھے صرف موبائل سے کال کرنا، کال سننا یا کبھی کبھارواٹس ایپ میسج کرنا آتا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ آجکل سوئمنگ سیکھ رہے ہیں۔ بولے کہ ٹیوب کی مدد کے ساتھ سوئمنگ کر کے مجھے مزہ آتا ہے، اور میں انجوائے کرتاہوں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے دوسری شادی کرلی ہے تو بولے کہ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ میری ایک بیوی اور تین بیٹیاں ہیں بس۔
جب پوچھا گیا کہ آپ کی کیا خواہش ہے کہ جب آپ وزارت اعلیٰ سے ہٹیں تو لوگ آپ کو کیسے یاد رکھیں، تو عثمان بزدار نے جواب دیا کہ میں پنجاب کا اصلی خادمِ اعلیٰ بننا چاہتاہوں اور میری خواہش ہے کہ لوگ میرے جانے کے بعد بھی مجھے اصلی خادمِ اعلیٰ کے طور پر یاد رکھیں۔
دریں اثنا جیو ٹی وی کے سینئر اینکر منیب فاروق کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں عثمان بزدار نے کہا ہے کہ میرے جانے کی افواہیں پھیلانےوالےصوبہ اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن سڑکوں پرآئے یابازاروں میں، ہمیں فرق نہیں پڑتا، مجھےوزیراعظم کا اعتماد حاصل ہے اورکچھ لوگوں کویہ بات پسند نہیں۔ پیشی کے موقع پر نیب کے رویے کےبارے میں پوچھے گئےایک سوال کےجواب میں عثمان بزدارنےکہاکہ نیب کارویہ میرےساتھ ٹھیک تھا لیکن کسی کو پولیٹکل گراؤنڈز پر تنگ کرنا مناسب نہیں ہے۔ نیب کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ جب میرے بارے میں کوئی بات ہوگی تو پھر میں بھی بات کروں گا۔ ان سےسوال کیا گیاکہ آپ خود کو وسیم اکرم جیسا سمجھتے ہیں یا شیر شاہ سوری جیسا؟ تو بزدار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میں جو کچھ بھی ہوں آپ کے سامنے موجود ہوں۔
