محکمہ زراعت کے ملازم اپنے مالکوں کے خلاف کیوں بولنے لگے؟

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر عرف احتساب اکبر کے محکمہ زراعت کے بارے میں ایک حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ اس اہم قومی محکمے کے مالیوں نے اپنے خالقوں کو آنکھیں دکھانا اور جگتیں لگانا کیوں شروع کر دیں ہیں؟
ہماری سیاست میں ہر دور میں ذو معنی اور طنزیہ اصطلاحات کا استعمال ہوتا رہا ہے جن میں سے ایک حالیہ اصطلاح محکمہ زراعت کی بھی ہے۔ آج کے دور کی سیاسی اصطلاحات کے تانے بانے شاید تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے اور 2018 کے عام انتخابات سے ملائے جا سکتے ہیں جیسے ’ایمپائر کی انگلی‘، ’خلائی مخلوق‘، ’گاڈ فادر‘، ’35 پنکچر‘ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وغیرہ۔ لیکن ایسی اصطلاحات زیادہ تر اپوزیشن کے لوگ استعمال کرتے ہیں خاص طور پر جب انہوں نے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر طنز کرنا ہو۔
تاہم شاید یہ حالیہ سیاسی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ محکمہ زراعت کے عسکری گملوں میں پروان چڑھنے والے وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر عرف احتساب اکبر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے بڑوں کو ہی جگت لگا دی اور یہ عندیہ بھی دے دیا کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ اور کپتان سرکار کے مابین سب اچھا نہیں ہے۔ نیز یہ کہ دونوں مخالف سمتوں میں چل رہے ہیں۔ تاہم رات گئے ایمپائر کی انگلی کی چبھن محسوس کرتے ہوئے احتساب اکبر نے اپنے بیان پر وضاحت جاری کی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔ تاہم عسکری گملے میں نشوونما پانے والے کپتان کے مشیر برائے احتساب کی طرف سے محکمہ زراعت کی دلچسپ اصطلاح اسی محکمے کے خلاف استعمال کیے جانے کے بعد سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری ہے۔
قصہ کچھ یوں یے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو لکھے جانے والے خط سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے شہزاد اکبر سے سوال کیا کہ ’یہ بتا دیں کہ اگر وزیر اعظم عمران خان شریف فیملی کو این آر او نہیں دے رہے تو پھر انھیں سزا ہو جانے کے باوجود ملک سے باہر جانے کے لیے این آر او کس نے دیا؟‘ اس سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے مسکراتے ہوئے ذومعنی اندازمیں کہا کہ ’ آپ اپنے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے محکمہ زراعت سے رابطہ کریں۔‘ یعنی شہزاد اکبر کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ نوازشریف کو اگر کسی نے این آر او دیا ہے تو وہ محکمہ زراعت والے ہیں اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ یہاں محکمہ زراعت سے شہزاد اکبر کی مراد پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں لندن میں موجود نوازشریف کی جانب سے بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ فون پررابطے اور سیاسی گفتگو کے بعد وزیر اعظم کی دم پر پاؤں آچکا ہے اور انہوں نے سابق وزیراعظم کو گرفتار کرکے پاکستان واپس لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کپتان سرکار کا اندرون خانہ یہ مؤقف ہے کہ میاں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت محکمہ زراعت نے دی تھی اور یہ طے ہوا تھا کہ وہ بیرون ملک صرف علاج کروائیں گے اور سیاست نہیں کریں گے۔ تاہم اب جبکہ نواز شریف سیاسی طور پر متحرک ہوچکے ہیں تو کپتان سرکار نے انکے اس ایکشن کو محکمہ زراعت کی یقین دہانی کے بر خلاف قرار دیتے ہوئے انہیں وطن واپس لانے کے لیے قانونی اقدامات کرنے کا اعلان کر دیا یے۔
سوشل میڈیا پر بیرسٹر شہزاد اکبر کا وہ کلپ وائرل ہے جس میں انھوں نے محکمہ زراعت کا ذکر کیا۔ بعض لوگ ان الفاظ کو ’اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ شہزاد اکبر نے ایسا اپنے کپتان کے کہنے پر کیا ہوگا جو کہ شہزاد اکبر کی طرح خود بھی عسکری گملے میں پروان چڑھنے والوں میں سے ہے۔ جب سوشل میڈیا پر اکثر صارفین نے شہزاد اکبر کے بیان پر سوالات اٹھائے تو انھوں نے ٹوئٹر پر رات ڈیڑھ بجے اپنے موقف کی وضاحت میں دو ٹویٹ کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری پریس کانفرنس میں اس محکمہ زراعت کا ذکر تھا جو نون لیگ کے ہونہار انجینیئر نما ڈاکٹر، میاں شہباز شریف اور صاحبزادی پہ مبنی تھا جنھوں نے کمال مہارت سے پیوند لگا کر پوری قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا، انکا کہنا تھا کہ یہ لوگ نیب کی 34 ترامیم کے ذریعے حکومت سے این آر او مانگ رہے ہیں جو کہ کسی صورت نہیں ملنا۔‘
شہزاد اکبر نے کہا کہ ’یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے بیان سے اگر قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہو تو وہ بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے اور کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘ لیکن عسکری گملے کی پیداوار شہزاد اکبر کی اس کھوکھلی وضاحت سے حکمراں جماعت کے ناقدین پر زیادہ اثر نہ پڑ سکا۔ مسلم لیگ نواز سے منسلک میاں عالمگیر شاہ نے لکھا کہ ’اس سے بڑی لیکس اور کیا ہے کہ آج حکومتی ترجمان نے محکمہ زراعت کی بات کر کے تسلیم کر لیا کہ عمران خان سمیت سب حکومتی وزرا دراصل محکمہ زراعت کے بھرتی کیے ہوئے مالی ہیں۔
لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محکمہ زراعت کی نادر اصطلاح کب اور کیوں استعمال ہونا شروع ہوئی؟ اس اصطلاح کا پس منظر یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن کے ایک امیدوار نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار انہیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اسی پریس ٹاک کے دوران موجود ان مبینہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی نشاندہی بھی کر دی۔ یہ معاملہ اس روز تمام دن میڈیا کی زینت بنا رہا۔ اگلے روز وہی صاحب ایک بار پھر میڈیا کے سامنے آئے اور گذشتہ روز پیش آنے والی ’غلط فہمی‘ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کو وہ انٹیلی جنس ایجنسی کا اہلکار سمجھتے رہے وہ دراصل محکمہ زراعت کے اہلکار تھے جن کے ساتھ ان کے اپنی کھیتی باڑی کے بارے میں کچھ معاملات چل رہے تھے۔ انہوں نے حلفاً کہا کہ اس سارے معاملے کا کسی انٹیلی جنس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معاملہ اس بات پر ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن صحافی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے، اسی شام ٹیلی وژن چینلز پر شور مچ گیا کہ کس طرح ’محکمہ زراعت‘ کے ان اہلکاروں نے اس مسلم لیگی امیدوار کو اس کے گودام میں بند کر کے مکوں اور لاتوں کے ذریعے ملکی زراعت بہتر کرنے کے نسخے سمجھائے جس کے بعد امیدوار موصوف نے اپنا وہ مشہور زمانہ محکمہ زراعت والا بیان جاری کیا جو پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ تو بن چکا ہے لیکن اس کے استعمال پر پابندی ہے۔ محکمہ زراعت کی اہمیت کا پہلے پہل ہمیں اندازہ ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا۔ جب اس محکمے کی شبانہ روز کاوشوں سے ملک میں ایک دہائی سے زیادہ ہریالی رہی۔ زرعی ترقی کے لیے امریکی ٹیموں کو یہاں کاشت کے لیے دعوت دی گئی اور کئی رقبے زرعی تجربات کے واسطے ان کے حوالے کر دیے گئے۔ یہ محکمہ زراعت کا ہی کمال تھا کہ اس وقت ہمارے تنومند فیلڈ مارشل کی 56 انچ کی چھاتی پر ملکہ برطانیہ بھی فخر کرتی تھی۔
انھی دنوں بدزبان لکھاریوں کی فصل کو کیڑا لگ گیا۔ اس کے حل کے لیے رائٹرز گلڈ کا پودا لگایا گیا جو کہ فوری طور پر پھل دینے لگا۔ اگرچہ شعروادب کی سنگلاخ زمینوں پر یہ پودا بہت پائیدار ثابت نہیں ہوا۔ مسلسل آبیاری سے پھل تو فوری دینے لگا لیکن جڑ نہ پکڑ سکا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایوب خان کے دس سالہ جشن کے سرمستی میں اس سرزمین کو اتنا پانی دیا گیا کہ ساری فصل کو ہی پالا مار گیا۔ یحییٰ خان نے بڑی مشقت سے خراب زمین اور زرخیز مٹی کو الگ الگ کیا۔ محکمہ زراعت کی اہمیت کا مزید اندازہ ہمیں ضیا دور میں بھی ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکن بیج یہاں بویا گیا اور روسی سنڈی سے نجات کے لیے محکمے نے دن رات کوششیں شروع کر دیں۔ امریکی جہادی بیج کے لیے یہ زمین بہت موافق ثابت ہوئی۔ جلد ہی یہ فصل پک کر تیار ہو گئی اور اس کے پودے اتنے تناور ہو گئے کہ روسی سنڈی کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے۔
لیکن اس بیج کا نقصان یہ ہوا کہ بہت سے خود رو پودوں نے جنم لے لیا جنکی جڑیں پاکستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود محکمہ زراعت نے وفاداری نبھائی ان خودرو پودوں کو سینے سے لگا کر ان کی حفاظت کی۔ تاہم جنرل مشرف اقتدار میں آئے تو محکمہ زراعت کو معلوم ہوا کہ جہادی فصل کو پھپھوندی لگ گئی ہے اور اس کے پھل کو کیڑا لگ گیا ہے اس لیے ایک دن اس فصل کو کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیج کی رسد تو ختم ہو گئی لیکن خودرو پودے اب سر اٹھا چکے تھے۔ ان کے تنے اتنے مضوط ہو گئے تھے کہ دو دفعہ تو مشرف تک کا پتہ صاف ہونے لگا تھا۔
اس سے کوئی انکار نہیں کہ گرمی ہو یا سردی، جمہوریت ہو یا آمریت اس ملک میں محکمہ زراعت ہر وقت کام کرتا رہتا ہے۔ یہی فیصلہ کرتا ہے کہ کب اس زمین پر کون سی فصل بیجنی ہے۔ یوریا کا کون سا برانڈ زرخیزی کے لیے اب مناسب ہے، کہاں پانی دینا ہے، کہاں زمین کو بنجر کرنا ہے، کہاں بارش برسنی ہے ، کہاں بادل آنے ہیں، کہاں گھن گرج ہونی ہے، کہاں سیلاب لانے ہیں، کب پھل کے پکنے کا اعلان کرنا ہے۔ کب فصل کاٹ لینی ہے اور کب نقصان کے اندیشے کے سبب لگی لگائی فصل کو نذر آتش کر دینا ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن کی رات سے لیکر اب تک نہایت جانفشانی اور محنت کے ساتھ ساتھ کپتان کے اقتدار کا درخت لگوانے اور اسکی حفاظت کرنے والے محکمہ زراعت کو اب ان کے اپنے لگائے ہوئے ہوئے پودے دو دو ٹکے کی باتیں سنانے لگے ہیں۔
