بزدار کی نااہلی سے ڈینگی پنجاب بھر میں کیسے پھیلا؟

ماضی کی حکومتوں کے برعکس بزدار سرکار کی نااہلی اور عدم توجہی کے باعث بالخصوص پنجاب میں ڈینگی اپنے خونی پنجے گاڑ چکا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈینگی کے وار نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ ان میں مزید شدت آنے والی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ڈینگی کیسز میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے تاہم حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور کے ایکسپو سینٹر کو ڈینگی کے لیے فیلڈ ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی سے ہلاکتوں کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں تقریباً ساڑھے سات ہزار سے زیادہ ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ کیسز لاہور شہر میں پائے جاتے ہیں۔اس وقت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں تقریبا 1300 سے زائد مریض زیر علاج ہیں جبکہ 25 سے زائد افراد کی ڈینگی کے باعث موت واقع ہوئی۔
ڈینگی کا شکار افراد شکوہ کناں ہیں کہ ڈینگی کی تباہ کاریاں حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کرونا وائرس پاکستان آیا تو معلوم تھا کہ یہ نئی بیماری ہے اور دنیا بھر کے لیے اسے کنٹرول کرنا مشکل ہے لیکن ڈینگی کو کنٹرول کرنے اور اس سے لڑنے کا آزمودہ طریقہ کار سابقہ حکومت نے دیا تھا۔ پہلے ڈینگی ٹیمیں بار بار آیا کرتی تھیں اور سپرے کیے جاتے تھے لیکن اس بارکوئی ٹیم تو کیا آگاہی مہم کے لیے بھی کوئی نہیں آیا۔لوگ تو بھول چکے تھے ڈینگی کو، یہ تو اس وقت دوبارہ یاد آیا جب کیسز رپورٹ ہوئے۔ گذشتہ حکومت نے ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 90 روپے مقرر کی تھی۔ اب لیب والے 750 روپے چارج کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر 90 روپے میں ٹیسٹ کروانا ہے تو ڈاکٹر سے لکھوا کر لاؤ کہ ڈینگی ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی اپنے تشخیصی ٹیسٹ میں زیادہ تفصیل چاہتا ہے تو وہ ٹیسٹ 2900 روپے کا ہے۔ اگر پلیٹلیٹس لگوانے ہیں تو کراس میچ سمیت دیگر ٹیسٹوں پر اٹھنے والا خرچہ لگ بھگ 31 ہزار کا ہے۔ یہی نہیں اس کے لیے بھی تقریباً سو افراد لائن میں کھڑے ہیں۔ ایسے حالات میں عام شہری حکومت وقت سے شکوہ نہ کرے تو کیا کرے۔
حکومت وقت سے اکثر لوگوں کو شکوہ ہے کہ ڈینگی ٹیموں کی جانب سے اس طرح کا کوئی کام سامنے نہیں آیا جیسا پچھلی حکومت کی جانب سے کیا جاتا تھا۔لاہور کی ایک ٹائروں کی مارکیٹ میں بیٹھنے والے دکاندار محمد حفیظ نے بتایا کہ ہماری دکان مین روڈ پر واقعہ ہے اور آج کل ڈینگی ٹیمیں باقاعدگی سے دورہ کرتی ہیں۔چیکنگ کے بعد ہمیں تلقین بھی کی جاتی ہے کہ ٹائروں کو خشک رکھا جائے اور کہیں پانی نہ جمع ہونے دیا جائے۔تاہم اس مرتبہ تنگ گلیوں اور چھوٹے علاقوں میں موجود دکانداروں کا تجربہ اس سے مختلف تھا۔ایسے میں یہی عموعی تاثر پایا جاتا ہے کہ انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ڈینگی کو نہیں روکا جا سکا۔
تاہم حکومت پنجاب کی جانب سے بنائی گئی کیبنٹ کمیٹی برائے ڈینگی کنٹرول کے رکن ڈاکٹر وسیم اکرم کہتے ہیں کہ اس سال ڈینگی کے پھلاؤ کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ یا حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔وہ کہتے ہیں 2020 اور 2021 میں پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث ڈینگی کی مہم میں کمی آئی۔ جس کی وجہ سے لاروا پیدا ہوا اور اسے ختم نہیں کیا جا سکا اور اب وہ مچھر میں تبدیل ہو گیا۔’ دیکھا جائے تو ڈینگی کی سخت مانیٹرنگ کے لیے انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں جو انھیں کرونا کا مقابلہ کرنے لیے ایک بڑی تعداد میں چاہیے تھے۔ یہی نہیں آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پولیو کی جنگ کو بھی جاری رکھنا بھی ضروری تھا۔ اس کے باوجود بھی ٹیمیں فیلڈ میں کام کرنے جاتی رہی ہیں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ انسانی لاپرواہی بھی کئی علاقوں میں ہوئی ہو گی۔انھوں نے مزید کہا کہ ’یہاں یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ لوگوں نے کورونا کے خوف کی وجہ سے ڈینگی ٹیموں کو گھروں میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس دفعہ کی ڈینگی ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ ڈینگی چھوٹے علاقوں کے بجائے شہروں کے پوش علاقوں سے شروع ہوا۔’بڑے بڑے گھروں میں ہر کونا ہر وقت صاف اور خشک رکھنا زیادہ مشکل یے۔ بڑے بڑے فوارے اور خوبصورتی کے لیے رکھے گئے گملوں میں پانی پوری طرح خشک نہیں جاتا جس کی وجہ سے لاروا پیدا ہوا۔’جہاں تک بات سپرے نہ کرنے کی ہے تو ہم اب بھی ہر طرف سپرے نہیں کر رہے۔ اگر کسی گھر سے لاروا برآمد ہوتا ہے اور اس کے ارد گرد کے 50 گھروں میں سپرے کیا جاتا ہے۔’اس کی بنیادی وجہ یہ کہ اس سپرے اور مچھر مار دھواں میں انتہائی مضر صحت کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے ماحولیاتی نظام کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ جب ہم نے پچھلے دور میں یہ سپرے اور دھواں زیادہ مقدار کیا تھا تو جگنو اور تتلیاں تک لاہور شہر سے غائب ہو گئی تھیں۔ڈاکٹر وسیم کے مطابق ڈینگی کے خاتمے کے لیے آج بھی وہی پالیسی اور سسٹم چل رہا ہے جو گذشتہ دور حکومت میں تھا اور یہ انتہائی اچھا اور مفید سسٹم ہے۔ تاہم کورونا کے باعث اس پر مناسب انداز میں عمل درآمد نہیں ہو پایا۔’یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دینا کے باقی چند ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈینگی ایک مخصوص پیٹرن پر سر اٹھاتا ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہر تین یا چار سال بعد یہ بیماری اتنی بڑھتی ہے کہ اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سنگاپور میں بھی اس مچھر کی ایک قسم ایسی ہے جو وہاں دو سال بعد متحرک ہو جاتا ہے۔’اس مچھر کے لاروا کی پیداوار کا سال بھر میں دو مرتبہ سیزن ہوتا ہے۔ جو زیادہ تر برسات کے موسم میں جنم لیتا ہے۔ اس لیے ان دنوں میں انھیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ڈاکٹر وسیم کے مطابق اگر یہ کہا جائے کہ آنے والے چند دن میں ڈینگی کنٹرول ہو جائے گا تو یہ ممکن نہیں۔’لاروا مچھر بن چکا ہے اس لیے یہ طریقے سے ختم ہو گا۔ ہاں اگر سردی پڑنا شروع ہو گئی تو اس سے بھی فرق پڑے گا۔ ابھی لوگ صرف زیادہ سے زیادہ احتیاط کریں۔ پورے بازوؤں والی قمیض پہنیں، ماحول کو صاف اور خشک رکھیں۔ کوڑے کے ڈرم کو ڈھانپ کر رکھیں تاکہ اس بیماری سے بچ سکیں۔
