بشریٰ انصاری کے دوسرے شوہر کی سابقہ اہلیہ نے خاموشی توڑ دی

بشریٰ انصاری کے موجودہ شوہر کی سابق اہلیہ اینکر پرسن فرح سعدیہ نے خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق شوہر اقبال حسین سے طلاق کے بعد اپنے بچوں کی کفالت کا تمام تر بوجھ ان کے کاندھوں پر ہے کیونکہ انکا باپ بچوں کو کسی قسم کا کوئی خرچہ نہیں دیتا۔
یاد رہے کہ فرح سعدیہ کے سابقہ شوہر اقبال حسین نے نامور ٹی وی اداکارہ بشریٰ انصاری سے دوسری شادی کرلی ہے جبکہ پہلی بیوی فرح سعدیہ میں سے ان کے دو بیٹے ہیں۔ دراصل یہ بشریٰ انصاری کی بھی دوسری شادی ہے جنہوں نے 63 برس کی عمر میں خود سے 20 سال چھوٹے اقبال حسین سے شادی کی ہے۔ اس سے پہلے 40 برس کی رفاقت توڑتے یوئے انہوں نے اپنے پہلے شوہر اور پروڈیوسر اقبال انصاری سے تین برس پہلے طلاق لے لی تھی۔ یاد رہے کہ بشری انصاری کے دوسرے شوہر اقبال حسین بھی ایک پروڈیوسر ہیں۔
ایک ٹی وی چینل پر مارننگ شو کی میزبانی کرنے والی اقبال حسین کی پہلی بیوی فرح سعدیہ نے طلاق کے بعد سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی تاہم اب کچھ ٹویٹس کے ذریعے انہوں نے پہلی مرتبہ اپنے دو بیٹوں کی پرورش کے مسائل اون ان کے باپ کے حوالے سے لب کشائی کی ہے۔
فرح سعدیہ نے ایک ٹویٹ میں اپنے حالات زندگی بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طلاق کے بعد سے ان کا شوہر انہیں کسی قسم کا کوئی خرچہ نہیں دے رہا جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی پرورش خود کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وہ معاشرے میں تمام تر ہراسانی، حق تلفی اور استحصال کے باوجود ڈٹ کر حالات کا سامنا کر رہی ہیں اور دن رات سخت محنت کرتی ہیں۔ انہوں نے مذید لکھا کہ وہ ظلم برداشت کرنے کی بجائے بغاوت کو ترجیح دیتی ہیں۔ شاید وہ اپنے خاوند پر گھریلو تشدد کا الزام عائد کرنا چاہتی ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے کھل کر بات نہیں کی۔
اقبال حسین کی طرف سے بے وفائی اور راہیں جدا کرنے کے بعد مسلسل خاموشی رکھنے والی معروف اینکر نے 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ سے سلسلہ وار ٹوئٹس کے ذریعے نہ صرف اپنے شوہر کی بے مروتی کو کھل کر بیان کیا بلکہ کئی تلخ سوالات بھی اٹھائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں کو اکیلے پال رہی ہیں اور اسی لئے دوبارہ شادی نہیں کی۔ انہوں نے لکھا کہ میں دن رات سل لیے کام کرتی ہوں کہ کوئی مرد میرے بیٹوں کی کفالت کا بوجھ نہیں اُٹھاتا کہا تک کہ انکا باپ بھی ایسا نہیں کرتا۔ انھوں نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہعئے لکھا کہ سچ کا سامنا کریں اور کتابی باتوں اور جھوٹے رومانس سے نکلیں، کیونکہ زندگ کی سچائیاں بہت تلخ ہوتی ہیں۔
اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انھوں نے کہا کہ لوگ اسلام کو صرف خواتین کی حق تلفی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے گزراوقات کیلئے سخت محنت کے دوران جنسی ہراسگی، استحصال اور حق تلفی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن میں اپنی اخلاقی اقدار پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے باوقار طریقے سے آگے بڑھ رہی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مشکل وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا اور مجھے احساس ہے کہ اکیلی ماں کو اپنے بچوں کی پرورش کیلئے کن مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو وہ ہاری ہیں اور نہ ہی حوصلہ ہاریں گی بلکہ آخری سانس تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
فرح سعدیہ نے مزید کہا کہ باتیں کرنے والے لوگ ہر وقت فتوٰی صادر کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ انسانیت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے لوگ خود خدا خوفی اور خدا ترسی سے کام لینے کی بجاۓ دوسروں کو خدا کے نام سے ڈرانے کو ہی جہاد سمجھتے ہیں۔ فرح نے کہا کہ ایسے لوگ اپنی اصلاح کے بجاۓ دوسروں پر تنقید کرنا زیادہ باعث ثواب سمجھنے ہیں۔ پتہ نہیں ایسے لوگ روز قیامت اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
فرح سعدیہ نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کیا کہ دنیا میں 4 قسم کے لوگ ہیں۔ ایک ظالم اور ظلم کا ساتھ دینے والے ، دوسرے ظلم سہنے اور خاموش رہنے والے ، تیسرے ظالم کا ہاتھ روکنے والے اور چوتھے خاموش تماشائی جو سوچتے ہیں کہ چلو ایسا ہمارے ساتھ تو نہیں ہو رہا، ضرور اسی کا کوئی قصور ہو گا، فرح کہتی ہیں اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے کن لوگوں میں شمار ہونا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ اللہ سب عورتوں کو ہمت دے کہ وہ نہ تو ظلم کریں اور نہ ہی ظلم کو سہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کہنا کہ مرد تو سارے ظالم ہوتے ہیں اپنے اوپر ظلم ہے۔ ہر مرد برا نہیں ہوتا اور ہر عورت بھی بدکردار نہیں ہوتی۔ اچھے برے لوگ دونوں طرف پاۓ جاتے ہیں۔
اپنی ٹویٹس کا اختتام فرح سعدیہ نے قتیل شفائی کے اس شعر پر کیا کہ
دنیا میں قتیل اُس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button