بشیر میمن کے الزامات کے بعد کپتان کی ساکھ پر سوالات

ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن کی جانب سے عمران خان پر سنگین الزامات لگائے جانے کے بعد وزیراعظم نے دباؤ میں آتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے خواجہ محمد آصف کے سوا بشیر میمن کو کبھی کسی کے خلاف کیس دائر کرنے کا نہیں کہا۔
یاد رہے کہ بشیر میمن نے ایک انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں نہ صرف سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر کیس درج کرنے کو کہا تھا بلکہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے خلاف بھی کیسز فائل کرنے کو کہا تھا۔ وزیراعظم نے 29 اپریل کو خود پر لگے الزامات کی وضاحت دینے کے لیے صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی اور تفصیلی گفتگو کی۔ وزیراعظم نے بشیر میمن کے الزامات کو مسترد کیا۔
‘جیو نیوز’ سے منسلک سینئر صحافی شہزاد اقبال کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات میں اکثر باتوں کو خفیہ رکھنے اور ریکارڈ پر نہ لانے کی درخواست کی لیکن بشیر میمن کے معاملے پر انہوں نے کھل کر بات کی۔ وزیراعظم نے بشیر میمن کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو میری یا حکومت کی جانب سے کبھی قاضی فائز عیسی کے خلاف کوئی کیس درج کرنے کو نہیں کہا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے کبھی بھی خاتون اول کی تصویر کے معاملے پر بشیر میمن کو مریم نواز کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنانے کا نہیں کہا، انکا کہنا تھا کہ میں نے بشیر کو خواجہ آصف کے سوا مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کسی اور رہنما کے خلاف کیس کرنے یا تحقیقات کرنے کا نہیں کہا۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ خواجہ آصف کے حوالے سے بشیر میمن کو یہ بات کہی گئی تھی کہ وہ چیک کریں کہ کیسے ایک شخص غیر ملکی اقامہ رکھتا ہے، تنخواہ لیتا ہے اور اس کے بعد باوجود وہ وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے عہدے پر رہتا ہے کیونکہ یہ تو مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات صرف بشیر میمن کو نہیں کہی گئی تھی بلکہ اس پر باقاعدہ کابینہ میں بحث ہوئی تھی جس کے بعد سابق ڈی جی ایف آئی اے کو یہ بات کہی گئی تھی۔ عمران خان نے مزید بتایا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے کیس میں بشیر میمن کو کسی قسم کی ہدایات نہ وزیر اعظم ہاوس نے دیں اور نہ ہی حکومت نے دیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دونوں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے وزیر اعظم اور حکومت پر دباؤ ڈال کر مخالفین کے خلاف مقدمات بنوانے سمیت سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے ‘جیو نیوز’ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان، ان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم سے ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ بطور ایک ادارہ اپنی ساکھ خراب نہیں کرسکتے۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے خلاف مقدمات بنانے پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ بشیر میمن نے کہا تھا کہ شہباز شریف کے بیٹے اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت دیگر مسلم لیگ (ن) رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے لیے کہا گیا جبکہ مریم نواز کے حوالے سے تین مختلف اوقات میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا کہا گیا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ جب سوشل میڈیا پر خاتون اول کی تصویر سامنے آئی اور جج ارشد ملک سے متعلق ویڈیو اسکینڈل میں پریس کانفرنس کے معاملے پر مریم نواز کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرنے کا بہت دباؤ تھا اس کے علاوہ شہباز شریف، مریم اورنگزیب، حمزہ شہباز، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف، خرم دستگیر، پیپلزپارٹی سے خورشید شاہ، نفیسہ شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت جو بھی حکومت کے خلاف بات کرتا تھا، اس کو پکڑنے اور اس کے خلاف انکوائری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ تاہم وزیراعظم کا اصرار ہے کہ بشیر میمن کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
دوسری جانب بشیر میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تعلق پولیس سروس سے ہے اور انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے جو الزامات عائد کیے ہیں انہیں کس طرح ثابت کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں اور میں بغیر ثبوت کے کوئی الزام نہیں لگاتا۔ بشیر میمن نے مزید بتایا کہ ان کے پاس عمران خان، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کے خلاف لگائے الزامات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو وہ وقت آنے پر سامنے لے آئیں گے۔
