پاکستان بار کونسل کا سابق ڈی جیFIA کے انکشافات پر انکوائری کا مطالبہ

پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کے انکشافات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بشیر میمن نے الزام عائد کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف تحقیقات کےلیے اہم حکومتی شخصیات نے ان پر دباؤ ڈالا تھا۔ محمد فہیم ولی کی سربراہی میں ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک اعلیٰ سطح کے عدالتی کمیشن کے ذریعے ان ‘انکشافات’ کی انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ایک ٹی وی ٹاک شو میں بشیر میمن نے الزام عائد کیا تھا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے انہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر کارروائی کرنے کا کہا تھا۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ انہوں نے اس سے انکار کردیا تھا کیوں کہ ایف آئی اے کے پاس ایسا کرنے کا کوئی جواز نہیں بالخصوص جبکہ معاملہ سپریم کورٹ کے جج کا ہے۔ حالیہ انکشافات سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرِثانی درخواست منظور کرنے اور ان کے خلاف ایف بی آر اور دیگر حکومتی اداروں کےلیے گئے ایکشن کو غیر قانونی قرار دینے کے اکثریتی فیصلے کے ایک روز بعد سامنے آئے تھے۔ ان الزامات کے نتیجے میں شہزاد اکبر نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کو قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔ اپنے نوٹس کے ذریعے شہزاد اکبر نے مطالبہ کیا تھا کہ بشیر میمن اپنے ریمارکس واپس لے کر عوامی سطح پر معافی مانگیں یا ان کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کے ہرجانے کے طور پر 50 کروڑ روپے اور 20 لاکھ روپے قانونی فیس ادا کریں یا نتائج کا سامنا کریں۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا جمعرات کے روز ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پی بی سی کے نائب چیئرمین خوشدل خان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی، ان کے علاوہ ہارون الرشید، محمد احسن بھون، محمد مسعود چشتی، حسن رضا پاشا، سید قلبِ حسن، سید امجد شاہ اور عابد ساقی نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات پر گفتگو کے علاوہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی دائر کردہ نظرِثانی درخواست پر دیے گئے تاریخی فیصلے کی حمایت اور تعریف میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ کمیٹی نے کہا کہ ‘اس سے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے تعین میں بہت طویل سفر طے ہوگا’ اور اس معاملے میں انصاف فراہم کرنے کےلیے عدالت عظمٰی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کمیٹی نے وفاقی وزیر قانون اور شہزاد اکبر کے مبینہ کردار پر ان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button