بلاول بھٹو کیسی لڑکی کوجیون ساتھی بنانے کی خواہش رکھتے ہیں؟


چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بالآخر بتادیا ہے کہ وہ کس طرح کی خاتون سے شادی کریں گے اور اس کا تعلق کہاں سے ہوگا۔ جیو ٹی وی کے پروگرام ایک دن جیو کے ساتھ میں بات کرتےہوئے بلاول بھٹو زرداری نے نہ صرف اپنی شادی بلکہ اپنی سیاست اور والدہ کی شہادت اور بچپن سے متعلق بھی باتیں کیں۔ پروگرام میں میزبان سہیل وڑائچ نے بلاول بھٹو زرداری کو بتایا کہ وہ اس وقت پاکستان کے ایسے غیر شادی شدہ لڑکے ہیں، جن کی شادی بارے سب سے زیادہ باتیں ہوتی ہیں اور ساتھ ہی پی پی پی چیئرمین سے پوچھا کہ آخر وہ شادی کے لیے کیسی خاتون کے انتظار میں ہیں جس کی تلاش ختم ہی نہیں ہو رہی؟میزبان کے سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں یہ سن کر اچھا لگا کہ ان کی شادی پاکستان میں موضوع بنی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی اور اپنی بہنوں کی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب سے ان کی والدہ کی شہادت ہوئی تب سے وہ اور اس کی بہنیں ایسی سوچ میں نہیں تھے کہ انہیں شادی بھی کرنی ہے اور گھر میں خوشی کا سماں بھی ہونا ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے بتایا کہ شادی جیسے معاملات میں والدہ کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اب والدہ کے بعد وہ اور اس کی بہنیں آہستہ آہستہ معمول کی زندگی میں لوٹ رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح کی لڑکی پسند کرتے ہیں اور کیسی لڑکی سے شادی کریں گے تو انہوں نے واضح کیا کہ جب شادی ہو جائے گی تو لوگوں کو معلوم ہوجائے گا۔ تاہم میزبان نے ان سے پھر سوال کیا کہ وہ مغربی لڑکی سے شادی کرنا چاہتےہیں یا ان کی پسند مشرقی ہے؟ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے ہنستے ہوئے بتایا کہ یہی موضوع ان کے گھر میں بھی چلتا ہے لیکن ہم پاکستانی ہونے کے ناطے اپنی الگ ثقافت اور پہچان رکھتے ہیں اور ہماری ایک الگ تاریخ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ ان کی دلہن بننے والی اور ان کے خاندان کی بہو بننے والی لڑکی کو بہت قربانیاں دینی پڑیں گی۔ بلاول نے ایسا شاید اس لیے کہا کہ انہوں نے اپنی والدہ اور والد کو سیاست میں قربانیاں دیتے اور قیدیں کاٹتے ہوئے دیکھا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ اگرچہ مغربی لڑکی کی خوبیاں زیادہ ہیں، تاہم وہ ذاتی طور پر پاکستانی لڑکی اور یہاں کی پیدائشی خاتون سے متعلق سوچتے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اداکارہ مہوش حیات کا ایک انٹرویو وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شادی ان سے کروائی جائے تو انہیں کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بعد ازاں مہوش حیات نے مذکورہ انٹرویو پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہی مستقبل میں جس سے بھی شادی کریں گی لوگوں کا معلوم ہوجائے گا اور یہ کہ ان کے پرانے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اس کی ہیڈلائنز نہ بنائی جائیں۔
بلاول نے اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران انہوں نے بچپن کی یادوں پر بھی بات کی اور بتایا کہ ان کی والدہ نے کبھی بھی ان کے ٹیوشن کے لیے دوسرا ٹیچر نہیں رکھا، وہ انہیں خود پڑھاتی اور سکھاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اور ان کی بہنیں چھوٹی تھیں تب والدہ ہر جمعے کو انہیں آخری آسمانی کتاب قرآن پاک ساتھ بٹھا کر پڑھواتیں اور پھر نماز جعمہ کی ادائیگی کے لئے مسجد میں بھجواتیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے ملک سے غربت ختم کرنےکے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ بڑھائیں گے، جس کے بعد وہ لوگوں کے سماجی تحفظ کے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کی سیاسی تقریروں میں عوام سے جھوٹ نہ بولیں، کیوں کہ اگر وہ جھوٹ بولیں گے تو مستقبل میں انہیں شرمندگی ہوگی اور پھر وہ عوام کا سامنا بھی نہیں کرسکیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ایک ایسی سیاسی پارٹی سے ہے، جن کے لیے لوگ اپنے پورے اہل خانہ سمیت قربانیاں دینے کو تیار رہتے ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے کارکنان کے لیے کسی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button