بلا جواز از خود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ تنقید کی زد میں

نواز لیگی قیادت کے خلاف کرپشن کیسوں کی تحقیقات کرنے والے ادارے ایف آئی اے میں افسران کے تبادلوں کا ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ اور اس کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ناقدین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے مطالبے پر صرف ایک تاثر کی بنیاد پر حکومت کے خلاف ازخود نوٹس لینا پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی ساکھ پر سوال اٹھا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ ازخودنوٹس اپنے ساتھی جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے کہنے پر لیا ہے جنہیں اسٹیبلشمنٹ اورایجنسیوں کے کافی قریب تصور کیا جاتا ہے۔ موصوف جج ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی پر خصوصی عدالت کا سزائے موت کا فیصلہ بھی معطل کر چکے ہیں لہذا خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سارے عمل کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے جو موجودہ حکومت پر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن افسروں کے حالیہ تبادلوں اور فوجداری مقدمات پر اثرانداز ہونے کی مبینہ کوششوں کی میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیا ہے جسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ترجمان سپریم کورٹ کے بیان کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔ ان تمام ججوں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی لائن لے کر چلتے ہیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک جج کی سفارش پر موجودہ حکومت کی اعلٰی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف فوجداری مقدمات میں پراسیکیوشن برانچ کے آزادانہ کام میں مداخلت کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ بیان کے مطابق خدشہ ہے کہ حکومت کی جانب سے پراسیکیوشن پر اثرانداز ہونے اور اس کے پاس موجود شواہد اور ثبوتوں کو مٹانے اور اہم عہدوں پر موجود افراد کے تقرر اور تبادلے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے ترجمان نے اپنی پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ ایسے اقدامات اور میڈیا میں نیب قوانین میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے آنے والی خبریں ملک کے کریمینل جسٹس سسٹم پر اثرانداز ہونے اور بحیثیت مجموعی معاشرے کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے اور عوام کے ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی پر اعتماد کو ختم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ عمران خان نے حالیہ دنوں میں متعدد مرتبہ جلسوں میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے افسران کو ڈرایا اور ان کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ خود شریف خاندان کے کیسز سننا شروع کرے کیونکہ ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں۔ عمران نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیسز کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے افسران کی موت کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر تاثر کی بنیاد پر سو موٹو لیا گیا تو یہ سپریم کورٹ کے اپنے تاثر کے لیے تباہ کن ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران نے انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ایسے لوگوں کو اہم عہدوں پر لگایا ہوا تھا، جو غلط کیسز بنارہے تھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا غلط مقدمے بنانے والوں کا ٹرانسفر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا غلط مقدمات، تفتیش پر قائم مقدمات کا فیصلہ ہونے سے پہلے حق سچ تصور کرلیا جائے گا؟ وفاقی وزیر داخلہ نے استفسار کیا کہ شہزاد اکبر کے چیلوں نے غلط مقدمات بنائے، کیا اُن کے لوگوں کو ہٹانا ظلم و زیادتی ہوگی؟ ایسے لوگوں کے خلاف تو سپریم کورٹ نے کوئی سوموٹو نہیں لیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ نارکوٹکس ڈیہارتمنٹ میں غلط مقدمات بنانے والے اب بھی بیٹھے ہیں، کیا انہیں نہیں ہٹانا چاہیے، انکا کہنا تھا کہ میری ضمانت لینے والے جج کو واٹس ایپ پر ٹرانسفر کرنے والوں کے خلاف تو کوئی سوموٹو نوٹس نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب نواز لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جب عمران خان کھلی آئین شکنی کر رہا تھا تب تو کسی قسم کا کوئی سوموٹو نوٹس نہیں لیا گیا لہذا اب ایسا کیا ہوا کہ سپریم کورٹ کو برسوں بعد سوموٹو نوٹس لینا یاد آگیا۔ اس دوران تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کے عوام کو ایک اور بہت بڑی فتح مبارک ہو، سپریم کورٹ نے آزادانہ انویسٹیگیشن میں حکومتی مداخلت کا نوٹس لیا ہے، چیف جسٹس کا یہ اقدام قانون کی عملداری اور رول آف لا کے ضمن میں ایک بہت بڑا قدم ہے، اور اب شہباز شریف اور ان کے ساتھی اپنے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ ضائع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔
