پرویز الہی حمزہ شہباز سے زیادہ مشکل میں کیوں ہیں؟

منحرف اراکین کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے نے وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے لیے تو مشکلات کھڑی کی ہی ہیں لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے لیے مسائل کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے جسے سرکرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی حکومت پر کئی طرح کے قانونی سوال کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ ان کے وزیر اعلٰی بننے میں تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے۔ یہی منحرف اراکین اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کی زد میں ہیں۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ‘لوٹوں’ کی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد حمزہ شہباز اب وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے اور اگر وہ فوری طور پر مستعفی نہ ہوئے تو تحریک انصاف انہیں گھر بھیجنے کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔
تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دیں گے اور وفاقی اور پنجاب حکومتیں اگست 2023 تک اپنی مدت پوری کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ منحرف اراکین کی ممکنہ نااہلی کے باوجود پنجاب اسمبلی میں نمبرز گیم نون لیگ کے حق میں ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں پنجاب میں سیاسی صورت مزید بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے صدر عارف علوی سے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں آئینی بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور گورنر کا تقرر کریں تاکہ صوبائی کابینہ تشکیل دی جا سکے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر کو بہاولپور سے پارٹی کے وفادار بلیغ الرحمٰن کو گورنر لگانے کی سمری بھیجی تھی تاہم صدر علوی اسے قبول نہیں کر رہے اور ان کے خیال میں عمرانڈو قبیلے سے تعلق رکھنے والے عمر سرفراز چیمہ اب بھی گورنر پنجاب ہیں جنہیں مرکزی حکومت نے دس روز پہلے فارغ کر دیانتھا۔
لیکن سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس سیاسی بحران میں چوہدری پرویز الٰہی سب سے زیادہ پھنسے ہوئے فریق ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سب کی نظریں تو حمزہ شہباز پر چلی گئیں ہیں تاہم حمزہ سے بھی زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا چوہدری پرویز الٰہی کو ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر اس کا اطلاق پنجاب میں کرنا ہے تو اس کا ایک آئینی طریقہ کار ہے جس کے مطابق صوبے کا گورنر وزیراعلٰی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے گا۔ لیکن اس وقت پنجاب میں مستقل گورنر کا عہدہ خالی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے سپیکر صوبائی اسمبلی پرویز الٰہی کو قائم مقام گورنر تعینات کر رکھا ہے تاہم انہوں نے ابھی تک اس عہدے کا چارج نہیں سنبھالا۔ یہی وہ صورت حال ہے جو اب پرویز الٰہی کے لیے مشکل کا سبب بنے گی۔ اگر وہ حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں گورنر کا عہدہ سنبھالنا ہوگا۔ لیکن جیسے ہی وہ ایسا کریں گے، ڈپٹی سپیکر دوست مزاری پنجاب اسمبلی کے سپیکر بن جائیں گے جو پرویز الٰہی کے خلاف اسمبلی میں جمع عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروا سکتے ہیں۔ اس طرح گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پرویز الٰہی وزیراعلٰی کے انتخاب میں حصہ بھی نہیں لے سکیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے مروجہ آئین کے مطابق اگر کوئی وزیراعظم یا وزرات اعلٰی کا امیدوار سادہ اکثریت نہیں لے سکتا تو دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے اسمبلی میں اکثریت رکھنے والا امیدوار کامیاب تصور ہوگا۔ اسی وجہ سے اب پرویز الٰہی کے لیے آسمان سے گر کر سیدھے کھجور میں اٹکنے والی صعرت حال ہے اور اب ان کی سیاست صرف اور صرف تحریک انصاف کی مرہون منت ہوچکی ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے 25 اور مسلم لیگ ن کے 4 اراکین اسمبلی وزیراعلٰی کے اعتماد کے ووٹ میں ووٹنگ کے عمل کا حصہ نہیں بن سکیں گے جس کے بعد فریقین کی نمبر گیم تقریباً ایک دوسرے کے برابر ہوجائے گی۔
مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغا کے مطابق، سپیریم کورٹ کے فیصلے بعد ان کی جماعت قانونی مشاورت کر رہی ہے اور جلد اپنا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ انکے مطابق جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ پرویز الٰہی مشکل میں ہیں یہ ان کی بھول ہے۔ ڈی سیٹ ہونے والے 25 اراکین میں سے پانچ سیٹیں خواتین اور مخصوص نشستوں کی ہیں۔ جو فوری نوٹیفائی ہو جائیں گے تو نمبر گیم ہمارے حق میں آجائے گی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حمزہ کی حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہم نے بھی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی الیکشن کمیشن سے فیصلہ آنا ہے اور ہمارا تو کیس ہی یہی ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین تکنیکی اور قانونی طور پر منحرف نہیں ہیں اس لیے اس فیصلے کا اطلاق ان پر ہوگا ہی نہیں۔
