بلند فشار خون کو کنٹرول کرنیوالی نئی دوا کے حوصلہ افزاء نتائج

ہائی بلڈ پریشر اور جسم کے مختلف حصوں میں خون کی ترسیل میں رکاوٹ پر قابو پانے والی نئی دوا کے تیسرے اہم ترین ٹرائل کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہائی بلڈ پریشر اور جسم کے مختلف حصوں کو خون کی ترسیل میں رکاوٹ ایک عام مرض ہے، جس سے کئی بڑے امراض لاحق ہوسکتے ہیں اور ان سے اچانک اموات بھی ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ دنیا میں پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر اور خون کی ترسیل کو بہتر بنانے کی ادویات موجود ہیں مگر نئی دوا سے ماہرین کو امید ہے کہ وہ حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دوا ساز کمپنی ’مرک اینڈ کو‘ نے بتایا ہے کہ ان کی نئی دوا ’سوٹیٹرسیپ‘ (Sotatercept) کے تیسرے اہم ترین ٹرائل کے نتائج امیدوں کے عین مطابق ہیں۔

رپورٹ میں کمپنی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرائل کے دوران رضاکار دوا کے استعمال کے بعد ہائی بلڈ پریشر اور جسم کے دیگر حصوں میں خون کی ترسیل میں رکاوٹ کے دوران بھی 6 منٹ کے دورانیے تک چلنے کے قابل رہے۔
رپورٹ کے مطابق

تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 24 ہفتوں تک نئی دوا دی گئی اور اس دوران ان کے مختلف ٹیسٹس بھی کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ ’سوٹیٹرسیپ‘ (Sotatercept) کے استعمال سے خون کی ترسیل میں نمایاں بہتری ہوئی جب کہ بلڈ پریشر میں بھی کمی دیکھی گئی۔

دواساز کمپنی کو امید ہے کہ مذکورہ دوا کے تیسرے اہم ترین ٹرائل کے حوصلہ کن نتائج کے بعد اب انہیں اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت مل جائے گی اور ساتھ ہی کمپنی کو امید ہے 2026 تک مذکورہ دوا کے عام استعمال میں دگنا اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ مرک اینڈ کو نے مذکورہ دوا دوسری دوا ساز کمپنی سے خریدی تھی۔اور جسم کے مختلف حصوں میں خون کی ترسیل کو بہتر بنانے اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی یہ دوا مختلف ادوایات پر مشتمل ہے۔

Back to top button