بلوچستان میں قوم پرستوں کے حملوں میں اچانک اضافہ کیوں؟

ایک جانب تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں کالعدم بلوچ قوم پرست علیحدگی پسند تنظیموں کی عسکری کارروائیوں میں بھی تیزی آگئی ہے اور وہ سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہی ہیں۔
بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں 25 دسمبر کوایک ہی دن میں 9 بم دھماکوں نے سکیورٹی فورسز کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ صرف کوئٹہ میں چھ گھنٹے کے دوران دستی بم دھماکوں کے چھ واقعات رونما ہوئے جن میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے بیشتر حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ سال 2022 کے آغاز سے ہی بلوچستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسندتنظیموں کے حملوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس میں سکیورٹی فورسز کو خصوصی طور پر ہدف بنایا جا رہاہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ سال کی نسبت رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 11 فی صد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں رواں برس دہشت گردی کے 290 واقعات میں 125 افراد ہلاک اور 417 زخمی ہوئے۔
کوئٹہ میں تعینات ایک سینئر سکیورٹی افسر نے بتایا کہ صوبے میں بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات تو باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں مگر 25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کا تعلق بی ایل اے کے اہم ترین فیلڈ کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو کی چوتھی برسی سے تھا۔ ان کے بقول ، جن رہنماؤں کی برسی کے موقع پربم دھماکے ہوتے ہیں، ان میں بلوچ سیاسی رہنما نواب اکبربگٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما غلام محمد بلوچ، بی ایل اے کے بانی رہنما بالاچ مری اوراسلم اچھو شامل ہیں۔ سکیورٹی افسر نے بتایا کہ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر بھی صوبے میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اسلم اچھو بی ایل اے کے اہم رہنما تھے جنہیں سکیورٹی اداروں نے نومبر 2018 میں چین کے قونصل خانے پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔ اس حملے کے ایک ماہ بعد ہی افغانستان کے شہر قندھار کے پوش علاقے عینو مینہ میں ایک خودکش حملے میں اسلم اچھو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھال لی تھی۔ کوئٹہ میں تعینات سکیورٹی افسر نے بتایا کہ جولائی 2020 میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد "براس” کی تشکیل کے بعد سے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے)، بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) اور بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) نے جولائی 2020 میں پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانےکے لیے ‘براس’ نامی اتحاد قائم کیا تھا۔ بعد ازاں سندھ کی ایک عسکریت پسند تنظیم سندھو دیش ریوولوشنری آرمی نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ستمبر کے وسط میں گلزار امام نامی شخص کو گرفتار کیا تھاجنہیں بلوچستان میں شورش کے لیے اہم کردار قرار دیا جاتا ہے۔ گلزار امام نے رواں سال جنوری میں بلوچ نیشنلسٹ آرمی یعنی بی این اے نامی نئی علیحدگی پسند تنظیم تشکیل دی تھی۔ کوئٹہ کے سکیورٹی افسر نے دعویٰ کیا ہےکہ گلزار امام کی گرفتاری کے سبب حالیہ مہینوں میں بڑی تعداد میں بی ایل ایف اوربی ایل اے کے عسکریت پسند حکومتی کارروائیوں میں ہلاک یا گرفتار ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، "بلوچستان بھر میں 25 دسمبر کو ہونے والے حملوں کے ذریعے ‘براس’ میں شامل تنظیمیں خصوصاً بی ایل اے اس تاثر کو رد کرنا چاہ رہی ہے کہ گلزار امام کی گرفتاری سے بلوچ مسلح تحریک پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ گلزار امام کے منظر سے غائب ہونے پر بی ایل اے نے نومبر میں جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ گلزار امام عرف شمبے لاپتا ہونے کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں۔ اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ گلزار امام کی گرفتاری کب، کہاں اور کیسے ہوئی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ گلزار امام کو ایران سے ترکیہ لینڈ کرنے پر گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا۔ گلزارامام سے دورانِ تفتیش حاصل کی جانے والی معلومات نے پاکستانی سکیورٹی اداروں کو مکران کے علاقے میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں کافی مدد کی۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی شورش کا رواں سال کا جائزہ لیا جائے تو بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اپنی حکمتِ عملی میں منظم اورتجربہ کارظاہر ہورہی ہیں۔ انکے مطابق بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں "گن اینڈ بم” دھماکوں کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے کیمپوں پرحملے کررہی ہیں۔ رواں سال بی ایل اے کی جانب سے ہرنائی اور زیارت میں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا کر اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ بلوچ علیحدگی پسند گروہ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بلوچستان سے باہر بھی حملے کرتے ہیں جس کے لیے انہوں نے جنوری میں لاہورکے انارکلی بازار اوراپریل میں جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کی گاڑی پر خودکش حملے کی مثال دی۔
