بلوچستان میں ’پاکستان زندہ باد‘ کی رنگ ٹون لازمی قرار

شورش زدہ بلوچستان میں قوم پرستوں کی جانب سے تخریبی کارروائیوں میں تیزی آنے کے بعد حکومت نے ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ صوبے بھر کے تمام سرکاری افسران اپنے موبائل فونز پر پاکستان زندہ باد کی رنگ ٹون لگائیں گے۔ تاہم یہ حکومتی ہدایت نامہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہدایت نامے بلوچ عوام کو پرایا ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایسے ہدایت نامے ملک کے دیگر صوبوں میں جاری کیوں نہیں کئے گئے اور صرف بلوچ قوم کو ہی کیوں سنگل آوٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟
بلوچستان حکومت نے تمام محکموں کے سربراہان اور سینیئر سرکاری افسران کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون نمبرز پر رنگ بیک ٹون ’پاکستان زندہ باد‘ لگا لیں۔ اردو نیوز کے مطابق 28 ستمبر کو محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی بلوچستان کے انتظامی شعبے کے سیکشن افسر بہادر خان کے دستخط سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ چیف سیکریٹری بلوچستان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا تا کہ کہ وطن پرستی کا جذبہ مذید فروغ پا سکے۔ اعلامیے میں تمام سرکاری محکموں کے سیکریٹریز، ایڈیشنل سیکریٹریز، ڈپٹی سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کی سختی سے تعمیل کریں ورنہ انکی جواب طلبی کی جائے گی۔
اعلامیے میں مختلف موبائل فون آپریٹرز کے نمبرز پر ’پاکستان زندہ باد‘ رنگ ٹونز کیسے سیٹ کرنی ہے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ یہ مراسلہ تمام محکموں کے سربراہان کے علاوہ، ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی بھیجا گیا ہے جبکہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے تمام ایڈیشنل سیکریٹریز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف خود بلکہ اپنے ماتحت افسران کے موبائل فون پر بھی ’پاکستان زندہ باد‘ رنگ ٹون لگائیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین نے بلوچستان حکومت کے اس فیصلے پر مختلف انداز میں تبصرے کیے ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور بعض نے افسوس کا۔ سینئر صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ ’ہر مرتبہ بلوچ بھائیوں کو پاکستان زندہ باد نعرہ لگانے کا کیوں کہا جاتا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو اب تک یہ یقین کیوں نہیں ہے کہ وہ بھی ہم جیسے بلکہ ہم سے ذیادہ زیادہ محب وطن ہیں۔‘
رشید بلوچ نامی صحافی نے کہا کہ اس طرح کے ہدایت نامے بلوچ عوام کو پرایا ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ہدایت نامے ملک کے دیگر صوبوں میں جاری کیوں نہیں کئے گئے اور صرف بلوچ عوام کو ہی کیوں سنگل آوٹ کیوں کیا جا رہا ہے۔
حسیب رئیسانی نامی ایک صارف نے اس ہدایت نامہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صوبائی حکومت کے ممکنہ اگلے اقدام کی پیشین گوئی بھی کردی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’سرکاری افسران کو صرف سفید شلوار اور سبز کرتہ پہننے کی ہدایت کردی گئی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ’پاکستان زندہ باد دل سے کہنا ہوتا ہے لہازا اس کے لیے سرکاری حکم نامہ جاری کرنے کی کیا تک بنتی ہے؟ صارف شمس تمرانی نے کہا کہ ’بلوچستان کے لوگ سب سے زیادہ محب وطن ہیں لیکن اس طرح کے حکومتی ہدایت نامے ان کے جذبہ حب الوطنی پر ہتھوڑے کی طرح برستے ہیں۔
