بونگے چوہان نے فواد چوہدری کے سوڈا واٹر کو شراب قرار دے دیا

اپنی بد زبانی اور ننگی گفتگو کے حوالے سے شہرت رکھنے والے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان ایک بار پھر اپنی ہی جماعت کے وفاقی وزیر فواد چوہدری پر حملہ آور ہو گئے اور ان پر شراب نوشی کا جھوٹا الزام عائد کر دیا.
ایک انٹرویو میں فواد کی جانب سے پارٹی میں دھڑے بندی تسلیم کئے جانے کے بعد چوہان نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے فواد چوہدری پر لائیو ٹی وی پروگرام میں شراب پینے کا بے سروپا الزام عائد کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فواد چوہدری نے پروگرام کے دوران جو مشروب پیا وہ شراب ہرگز نہیں بلکہ ملکی برانڈ کا سوڈا واٹر تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے فواد چوہدری اپنے مخالفین کوزبان کی بجائے ہاتھ سے جواب دینے کہ حوالے سے مشہور ہیں اس لیے اب چوہان کو بھی مبشر لقمان جیسے انجام سے دوچار ہونے کے لئے ذہن بنا لینا چاہیے۔
خیال رہے کہ فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان کے مابین چپقلش خاصی پرانی ہے۔ 2018 میں عام انتخابات کے بعد مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو فواد چوہدری کو وفاقی وزیر اطلاعات لگایا گیا اور فیاض چوہان کو پنجاب میں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ چوہان نے پنجاب میں اپنی بدزبانی کی وجہ سے تحریک انصاف کے لیے کئی مشکلات پیدا کیں۔ اس دوران وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہباز گل کے ساتھ بھی فیاض چوہان کی نہیں بنتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہی دنوں فواد چوہدری نے وزیراعظم کو قائل کیا تھا کہ فیاض چوہان جیسے بدزبان ترجمان سے پارٹی کو فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے لہذا اسے ہٹا دینا ہی بہتر ہوگا۔ مارچ 2019 میں چوہان نے ہندو برادری سے متعلق نازیبا بات کی تو کپتان نے فوراً انہیں گھر بھجوا دیا۔ چند ہفتوں بعد فواد چوہدری کی بھی وزارت تبدیل ہوگئی تاہم مختلف معاملات کے حوالے سے فواد چوہدری اور فیاض چوہان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے ہیں۔
فواد چوہدری کی جانب سے وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران تحریک انصاف میں دھڑے بندیوں کا اعتراف کرنے کے بعد فیاض الحسن چوہان کھل کر فواد چوہدری کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اور یہ الزام لگایا ہے کہ فواد چوہدری لائیو پروگرام میں بھی شراب پیتے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے بدزبان وزیر چوہان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ میڈیا کے سامنے جب بیٹھنا ہے تو کس طرح بات کرنی ہے، یہ تو لائیو ٹی وی پروگرام میں بھی شراب نوشی سے باز نہیں آتے۔ چوہان نے اعتراض اٹھایا کہ فواد چوہدری کبھی علماء دین کے خلاف بولنا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی پارٹی کے خلاف، مجھے 7 مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا، لیکن میں نے ہمیشہ پارٹی کے دفاع کی جنگ لڑی ہے۔ چوہان کا کہنا تھا کہ جب آپ پارٹی قیادت کی عزت کرتے ہیں تو آپ کو اپنا من مارنا پڑتا ہے، اس طرح کے بیانات دے کر پارٹی سے وفاداری کی مثال نہیں دی جا سکتی۔
چوہان نے فواد چوہدری پر جس ویڈیو کلپ کی بنیاد پر یہ الزام لگایا کہ وہ لائیو پروگرام میں شراب کہتے ہیں وہ کلپ دراصل سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا اور اس کلپ کو شیئر کرنے والے تعصب برتتے ہوئے جس بوتل کو شراب کی بوتل قرار دیا اس میں دراصل ملکی سوڈا واٹر تھا اور اس پر واضح الفاظ میں سوڈا لکھا ہوا تھا ۔ فواد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ رات کے کھانے کے بعد اکثر ہاضمے کے لیے سوڈے کی بوتل پیتے ہیں۔ تاہم سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والے چوہان نے فواد کے بغض میں یہ الزام لگا دیا کہ وفاقی وزیر لائیو پروگرام کے دوران بھی شراب نوشی سے باز نہیں آتے۔
فواد چوہدری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں چوہان کی بد زبانی اور الزامات پر شدید غصہ ہے۔ اگرچہ فواد چوہدری نے کسی فورم پر اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری اپنے مخالفین کو زبان کی بجائے مکوں اور تھپڑوں سے جواب دینے کے عادی ہیں۔ ماضی قریب میں فواد چوہدری ساکھ کے بحران کے شکار اینکرز مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم کو جھوٹے الزامات لگانے پر اسی انداز میں سبق سکھاچکے ہیں لہذا اب چوہان کو بھی فواد چوہدری کی جانب سے اسی قسم کے ردعمل کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔
