پاکستان سپورٹس بورڈ: رکنیت کا کوئی لیٹر نہیں ملا

کاروبار اور سٹاک ایکسچینج کی دنیا میں بڑا نام عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے رکنیت کا کوئی لیٹر موصول نہیں ہوا، پر مبارک باد کی پیغام بہت موصول ہوئے ہیں۔ حال ہی میں وزیر عظم عمران خان نے صوبہ سندھ کا دورہ کیا جس میں ان کی ملاقات سندھ کی مختلف سیاسی، سماجی، کاروباری اور میڈیا کی شخصیات سے ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے حوالے سے ایک شیڈول بھی ترتیب دیا گیا جس کی سوشل میڈیا پر کافی تنقید بھی ہوئی تھی۔

تنقید کی وجہ تھے مشہور بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈیڈھی۔ گورنر ہاؤس میں دعوت کے موقعے پر وزیر اعظم عمران خان کی عقیل ڈیڈھی سے ہونے والی ملاقات کو شیڈول میں واضح تو کیا گیا تھا البتہ غلط نام سے۔ شیڈول میں ان کا خاندانی نام ‘ڈیڈھی’ لکھنے کے بجائے انگریزی کا لفظ ‘ڈیڈی’ لکھ دیا گیا تھا جس کا مطلب ہے ‘باپ’ یا ‘والد’۔ تاہم اس ملاقات کے کچھ روز بعد ایک اہم خبر سامنے آئی جس کے مطابق چند اہم شخصیات کے ہمراہ معروف بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈیڈھی کو پاکستان سپورٹس بورڈ کا رکن مقرر کردیا گیا ہے۔ عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا تھا کہ نہ ہی وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات میں پاکستان سپورٹس بورڈ کا کوئی ذکر ہوا تھا اور نہ ہی انہیں اب تک حکومت کی جانب سے سپورٹس بورڈ میں ان کی رکنیت کا کوئی لیٹر موصول ہوا ہے لیکن واٹس ایپ پر اب تک انہیں چار سو سے پانچ سو مبارک باد کے میسجز آچکے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا: ‘اگر میری رکنیت کنفرم ہوجاتی ہے تو میں سب سے پہلے پاکستان میں خواتین کی ہاکی ٹیم بناؤں گا۔ میں نے بچپن سے سپورٹس کھیلی ہے اور مجھے سپورٹس کا کافی شوق ہے۔’

خیال رہے عقیل کریم ڈیڈھی (اے کے ڈی) گروپ کی ‘اراکیڈین’ نامی کمپنی پی ایس ایل کی ٹیم کراچی کنگز کی سپانسر ہے۔ اس کے علاوہ پی ایس ایل کے پچھلے سیزن میں عقیل ڈیڈھی نے ملتان سلطانز کی ٹیم کی فرنچائز خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم یہ ڈیل نہیں ہو پائی اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے یہ ٹیم خرید لی تھی۔ جب بھی پاکستان سٹاک مارکیٹ کا ذکر ہوتا ہے تو عقیل کریم ڈھیڈی عرف اے کے ڈی کا نام ضرور آتا ہے۔ اس ہی اثر و رسوخ کی وجہ سے کچھ لوگ انہیں ‘بگ ڈھیڈی’ بھی کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کراچی کے کچھ نوجوان بزنس مین سٹاک مارکیٹ کی اوپننگ بیل پر ‘ریڈی، سٹیڈی، ڈیڈھی’ کا نعرہ لگا کر کاروباری معاملات کا آغاز کرتے تھے۔ پاکستان کے بڑے بزنس گروپس میں سے ایک ‘اے کے ڈی گروپ’ کے مالک عقیل کریم ڈیڈھی کی پیدائش کراچی میں 18 جولائی 1957 کو ہوئی۔ ان کے والد حاجی عبدالکریم ڈیڈھی ایک نمایاں کاروباری شخصیت تھے۔ عقیل ڈیڈھی کے مطابق ان کے والد نے ریئیل اسٹیٹ بزنس اور ایکویٹی مارکیٹ کا کاروبار شروع کیا جسے انہوں نے آگے بڑھایا اور اے کے ڈی گروپ کی شکل دی۔ آج اے کے ڈی گروپ پانچ مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے جس میں مالیاتی سروسز، ریئیل سٹیٹ، ٹیلی کام، انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں انویسٹمنٹ کی جاتی ہے۔

اے کے ڈی گروپ پاکستان کی ریئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بڑا گروپ مانا جاتا ہے۔ اس کی مثال کراچی کے ساحلی پٹی پر بنے لگژری اپارٹمنٹس کریک ویو اور کریک ٹیریسس ہیں جو کراچی گولف کلب کے قریب واقع ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروپ گوادر میں فری ٹریڈ زون کے قیام کے لیے سنگاپور پورٹ اتھارٹی (پی ایس اے) کے ساتھ پارٹنر بھی ہے۔ عقیل کریم ڈیڈھی نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز 13 سال کی عمر سے کیا تھا۔ کاروبار کی ابتدا انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ کی مگر کچھ وقت بعد خود سے روئی کے کاروبار کا آغاز کیا جب وہ ساتویں جماعت میں تھے۔ انہوں نے 1976 میں کراچی سٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) میں تجارت شروع کی اور 27 سال کی عمر میں انہوں نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں اپنا دفتر بنا لیا۔ عقیل ڈیڈھی کے مطابق وہ روزانہ سکول کے بعد اپنے والد کے آفس جایا کرتے تھے۔ وہاں انہیں یہ احساس ہوا کہ بزنس کرنا تو سکول کی پڑھائی سے زیادہ آسان ہے اس لیے کاروبار میں ان کی دلچسپی بڑھ گئی اور انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی مگر ان کے مطابق یہ غلط ہے اور نوجوانوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

2001-1996 کے دوران عقیل ڈیڈھی کا شمار کراچی سٹاک مارکیٹ کی اہم شخصیات میں ہوتا تھا۔ ایکیویٹی مارکیٹ میں ایک لمبے سفر کے بعد انہوں نے 2013 میں کراچی سٹاک ایکسچینج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔ ڈیڈھی کو اکتوبر 2005 میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوران خدمات انجام دینے پر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ‘ستارہ امتیاز’ سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں بزنس انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن (بزٹیک) اور انڈس انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے اعزازی پی ایچ ڈی سے بھی نوازا گیا ہے۔ اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل ڈیڈھی کی چار بیٹیاں ہیں جن کے حوالے سے انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب سے ان کی بیٹیوں نے ان کا کاروبار سنبھالا ہے ان کی کمپنیوں نے کئی گنا ترقی کی ہے۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی حنا ڈیڈھی اے کے ڈی گروپ میں ایکویٹی اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے شعبے کو سنبھالتی ہیں، ان کی دوسری بیٹی عائشہ ڈیڈھی تعمیراتی کاروبار کو دیکھتی ہیں، جبکہ تیسری بیٹی انعم ڈیڈھی کمپنی کے اسیٹس مینیجمنٹ کو دیکھتی ہیں اور سب سے چھوٹی بیٹی افشین ڈیڈھی کمپنی کے تمام نئے کاروبار اور پراجیکٹس کو مینیج کرتی ہیں۔

عقیل ڈیڈھی کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں کو چار یا چھ گھنٹوں سے زیادہ آفس میں کام کرنے نہیں دیتے کیونکہ انہیں اپنے گھر کے معاملات بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔ عقیل ڈیڈھی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیوں نے ان کی سوچ سے کئی گنا زیادہ بہتر کام کیا ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ چار بیٹیوں کے باپ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button