چوھدری فواد اور واوڈا نے اسد عمر اور شاہ محمود کو کیسے دھویا؟

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات منظرعام پر لانے والے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے دوران فیصل واوڈا کے ساتھ مل کر شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو دھو ڈالو اور یہ الزام عائد کردیا کہ وزارت عظمی کے یہ دونوں امیدوار وزیراعظم کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔
عمران خان حکومت کو کمزور کرنے کی سازشوں کے الزام پر اجلاس کا ماحول تلخ ہو گیا۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس صورتحال سے بھرپور لطف اٹھا رہے ہیں کیونکہ ان کی جگہ لینے کی کوششوں میں مصروف اسد عمر اور شاہ محمود قریشی پوری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کابینہ کا اجلاس ختم ہونے کے بعد اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ فواد چوہدری نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ جہانگیر ترین کو پارٹی میں نکلوانے میں میرا بنیادی کردار تھا لہذا فواد سے بازپرس کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری نے اسد عمر سے کہا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں صرف وزیراعظم کو جوابدہ ہوں۔ آپ بھی میری طرح ایک وزیر ہیں لہذا سخت لہجے میں میرے متعلق بات نہ کریں۔ اس سے اجلاس کا ماحول انتہائی تلخ ہو گیا تاہم وزیراعظم کی جانب سے فواد کو بات کرنے کا موقع دیا گیا تو انہوں نے یہ وضاحت دی کہ میرے انٹرویو سے متعلق جو باتیں کی جارہی ہیں ان پر کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ذرا انٹرویو کو تسلی سے دیکھ اور سن لیں کیونکہ اس میں کی گئی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فواد چوہدری نے دعوی کیا کہ میں نے اپنے انٹرویو میں جناب وزیراعظم کی تعریفوں کے پل باندھے ہیں اور یہ رونا رویا ہے کہ ہمارے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں میں جو باہمی چپقلش ہے اس کی وجہ سے حکومت کا نقصان ہو رہا ہے اور پارٹی کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ فواد چوہدری نے یہ بھی وضاحت پیش کی کہ میں نے صرف اس اسد عمر کا ذکر نہیں کیا بلکہ میں نے مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی مخاصمت کے حوالے سے بھی بات کی ہے اور جو کہا ہے وہ سوفیصد سچ ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری کی باتیں سننے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ایک مافیا کے خلاف برسرپیکار ہیں اس لیے ہمیں نفاق کی بجائے باہمی اتحاد و یگانگت سے کام کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو ہدایت کی کہ کوئی بھی کسی کے بارے میں اختلافی بات نہ کرے جس پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا کہ فواد چوہدری نے کونسی غلط بات کی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی وزارت عظمیٰ کے امیدوار بننے کو کوشش میں ہیں۔ کیا یہ لوگ آپ کی ٹانگیں نہیں کھینچ رہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیصل واڈا کی بات سننے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس ختم کرنے کا اعلان کیا اور بعدازاں واوڈا کو اپنے ساتھ ایک جانب لے گئے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری نے اپنے انٹرویو میں اور فیصل واوڈا نے کابینہ اجلاس میں جو باتیں کیں، وزیراعظم ان سے ناراض نہیں بلکہ خوش ہیں کیونکہ کپتان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ڈی فیکیٹو ڈپٹی وزیراعظم کے طور پر حکومتی معاملات چلانے والے اسد عمر وزیر اعظم بننے کے خواہاں ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز سے کپتان کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کپتان کے کھلاڑیوں نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے عزائم کا پردہ چاک کر کے یقینا وزیر اعظم کے لئے آسانی پیدا کی ہے۔
خیال رہے کہ فواد چوہدری کے وائس آف امریکہ کو دیئے گئے حالیہ انٹرویو کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں ہلچل مچ گئی ہے، پارٹی رہنما ایک دوسرے کے مخالف ہو گئے ہیں جبکہ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے پارٹی تقسیم ہو گئی ہے۔ اہنے انٹرویو میں فواد نے الزام عائد کیا تھا کہ اسد عمر، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی لڑائیوں نے پارٹی کی ساکھ اور منتخب اراکین کو متاثر کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پارٹی کےسینئر رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے غیر منتخب اراکین کو کابینہ کا حصہ بننے کی اجازت ملی جو وزیراعظم کے وژن سے لاعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے لڑائی میں پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو کابینہ سے نکلوایا اور پھر جب وہ کابینہ میں واپس آئے تو انہوں نے جہانگیر ترین کو آؤٹ کروا دیا۔
کابینہ اجلاس میں جب فواد چوہدری غیر منتخب اراکین کے خلاف اپنے بیان پر قائم رہے تو وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واپڈا نے بھی کابینہ کے کچھ سینئر رہنماؤں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔اس حوالے سے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ فواد چوہدری کا معاملہ اجلاس میں زیر غور آیا تھا اور وزیر اعظم نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ شبلی فراز کے بقول وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات سے متعلق برہمی کا اظہار کیا اور رہنماؤں کو پارٹی کے اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ وائس آف امریکہ کے لیے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی آپس کی رسہ کشی کی وجہ سے سیاسی لوگ کھیل سے باہر ہوگئے اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کو نئے لوگوں نے پر کیا ہے جن کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سمجھانے کی بھی کوشش لیکن بات نہیں بنی جب اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو جہانگیر ترین نے زور لگا کر انہیں وزارت سے فارغ کروایا پھر اسد عمر نے دوبارہ آنے کے بعد کوششیں کر کے جہانگیر ترین کو فارغ کروادیا۔اسی طرح شاہ محمود قریشی کی بھی جہانگیر ترین سے ملاقاتیں ہوئی لیکن بات نہیں بنی، انہوں نے کہا کہ پارٹیوں میں اختلافات، گروہ بندی عام بات لیکن آپ جس شاخ پر بیٹھے ہوں اس کو تو نہیں کاٹا جاتا۔اس لیے مجھے محسوس ہوتا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں اندرونی اختلافات نےنہ صرف پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا بلکہ پوری سیاسی کلاس آؤٹ ہوگئی اور ان کی جگہ بیوروکریٹس نے لے لی۔
