بھارتی اداکار کس ڈپریشن کے زیر اثر خودکشیاں کر رہے ہیں؟

بالی ووڈ کے نامور اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی نے بھارتی فلم نگری میں تیزی سے پھیلنے والے ان دیکھے ڈپریشن کو بے نقاب کردیا ہے جو ان اداکاروں کو اپنی جان خود لینے پر مجبور کر رہا ہے جن کے سپنے ٹوٹ جاتے ہیں۔
بلاک بسٹر فلم پی کے میں سرفراز کا کردار ادا کرنے والے سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی خبر نے بھارتی فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ سشانت کے مداح ہوں یا ساتھی اداکار سب ہی ان کی موت پر سکتے میں ہیں کیونکہ اس کی موت ناقابل یقین ہے۔
چونتیس سالہ سشانت سنگھ کی سابقہ خاتون مینیجر دیشا سالیان نے بھی چند روز قبل ڈیپریشن کے ہاتھوں خودکشی کر لی تھی۔ سشانت کی خودکشی کی تفتیش میں شامل اہلکار اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آیا سابقہ مینجر کی خودکُشی بھی اس معاملے سے جڑی یے یا نہیں؟ یاد رہے کہ دیشا سالیان ممبئی کی ایک چودہ منزلہ عمارت سے کود گئی تھیں۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران اداکاروں کی خودکشیوں کے واقعات نے بھارتی فلم انڈسٹری کے اس تاریک پہلو کو اجاگر کر دیا ہے، جس میں تنہا ہو کر ڈپریشن کے شکار شوبز سٹارز خود اہنی جانیں لے رہے ہیں۔ گزشتہ برس چھبیس دسمبر کے روز ایک اور اداکارہ کوشل پنجابی نے بھی ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر پھندہ لگا کر موت کو گلے لگایا تھا۔ ان کے علاوہ خودکشی کرنے والوں میں پراتیاوشا بینر جی، جیا خان، کنال سنگھ اور سائے پرشانت خاص طور پر نمایاں ہیں۔ حیران کن طور پر ان چاروں کی عمر تیس سال سے کم اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بالی ووڈ میں نوجوانوں میں خود کشی کا رجحان کافی زیادہ ہے۔
ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ سینما کی دنیا کو ڈپریشن سے استثنیٰ حاصل نہیں اور اس انڈسٹری سے وابستہ افراد میں شدید دباؤ، اینگزائٹی اور ذہنی امراض اس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب انہیں نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ذہنی پریشانیوں کے حامل کچھ لوگ اپنا مسئلہ دوسروں کو بیان کر دیتے ہیں اور کچھ ایسا کرنے سے قاصر رہتے ہوئے تنہائی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور سشانت بھی ایک ایسا ہی انسان تھا جو اپنی ذاتی زندگی میں بھی کافی کم گو اور شرمیلا تھا اور کسی سے اپنے ذاتی مسائل ڈسکس نہیں کرتا تھا۔
اس سے پہلے رواں برس مئی میں پچیس سالہ اداکارہ پریکھشا مہتا نے بھی اپنے آبائی شہر اندور میں پنکھے سے جھول کر خودکشی کی تھی۔ وہ ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری میں قدم جمانے میں ناکام رہنے پر شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں۔ اداکارہ نے خودکشی سے قبل ایک مصرعہ ‘سب سے برا ہوتا ہے سپنوں کا مر جانا‘ لکھ کر چھوڑا تھا۔ یہ مصرعہ بھارت کے مشہور پنجابی شاعر اوتار سنگھ سندر کا ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ ذہنی امراض کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی کووڈ انیس کی وباء سے خاص طور پر تنہا رہنے والے افراد میں خودکشی کا رجحان بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق کورونا وائرس لاک ڈاؤن نے ذہنی امراض، خاص طور پر ڈپریشن کو شدید کر دیا ہے اور اس نے انسانی طرز معاشرت کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لاک ڈاؤن نے ایسے منفی جذبات اور احساسات کو پیدا کیا ہے، جن کا تعلق اپنی ذات کو نقصان پہچانے سے ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وباء کے دوران ذہنی پریشانیوں سے متاثرہ لوگوں کا نفسیاتی معالجین تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔
بھارتی فلم انڈسٹری کی مقبول اداکارہ دیپکا پڈکون نے 2015 میں اپنے ڈپریشن کو شکست دے کر ایک غیر منافع بخش تنظیم ’لیو، لو لاف فاؤنڈیشن‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ دیپکا پڈکون کے مطابق ذہنی پریشانی کی شدت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے، جو اس میں سے گزرا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیفیت میں ملاقاتیں، گفتگو اور اظہار ہی وہ ذرائع ہیں، جو ڈپریشن کے حامل افراد کو سکون دے سکتے ہیں۔
