کرکٹر حسن علی کو گلی میں ڈانس کرنا مہنگا پڑ گیا

کمر کی تکلیف کے باعث فٹنس مسائل سے دوچار قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر حسن علی کی ڈھول کی تھاپ پر ڈانس کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں کچھ ناقدین نے ان کے پروفیشنلزم پر سوال اٹھا دیئے ہیں وہیں ان کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ یہ ویڈیو پچھلے سال قومی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران بنی جب وہ لندن کی گلیوں میں میں ساتھی کرکٹرز کے ساتھ انجوائے کرنے نکلے تھے۔ انکا کہنا یے کہ حسن علی نے پاکستانی کرکٹ کٹ بھی نہیں پہن رکھی اور انجوائے کرنا ہر انسان کا حق ہے لہذا اس معاملے کو ایشو بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے حسن علی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دورہ انگلینڈ کے دوران وہ شاہین آفریدی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھومنے کےلیے نکلے تھے تو ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 20 سیکنڈ کی ویڈیو میں انہیں سڑک کنارے بیٹھے ایک شخص کی ڈھول کی تھاپ پر ڈانس کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں حسن علی ڈانس کرتے ہوئے کافی خوشگوار موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ حسن کی ڈانس ویڈیوز کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ مکی آرتھر نے ناقدین سے نہ صرف اختلاف کیا بلکہ انہیں یاد دہانی کرائی کہ حسن علی کیسے کھلاڑی ہیں۔ مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ حسن علی کو ڈانس پر تنقید کا نشانہ بنانا حیران کن ہے، وہ ایک اچھے کرکٹر ہیں اور پاکستان کو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حسن علی ایسے ہی مزاج کے انسان ہیں، ان کا یہی انداز انہیں کرکٹ میں بھی مدد کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے حسن علی کی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی جاتی رہی ہیں جن میں وہ پاکستان سے باہر راہ چلتے میوزیشنز کے پاس رک کر رقص کرتے دکھائی دیے۔ ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد کچھ صارفین نے اسے تفریح قرار دے کر حسن علی کے عمل کو پسند کیا تو کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے بیرون ملک پاکستانی کھلاڑی کی اس حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
آسٹریلوی کوچ کے تبصرے پر کچھ صارفین نے ان کی پذیرائی کی تو کچھ نے پوچھا کہ ‘اگر یہی کام عمراکمل نے کیا ہوتا تو تب آپ کا تبصرہ کیا ہوتا؟’ ایک صارف نے مکی آرتھر کے تبصرے کو سراہتے ہوئے لکھا ’مجھے یقین ہے کہ کھلاڑی میدان میں اور اس کے باہر ایسے ہی ہوتے ہیں‘۔ ایک صارف نے الگ پہلو کے ساتھ سامنے آئے تو لکھا ’پاکستانی کرکٹرز میں پروفیشنل ازم کی کمی کی وجہ متعلقہ شعبے میں ان کی کم تعلیم ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی ان کی حرکات پر سوال کرتے ہیں۔ یہ کرکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کریں‘۔
حسن علی کی ڈانس کرتے ویڈیوز کے ناقدین نے یہ موقف بھی اپنایا تھا کہ وہ جس مقصد کےلیے بیرون ملک ہیں اس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس پر جوابی تبصرہ کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ حسن علی کو محظوظ ہونے دیا جائے۔ وہ قومی کٹ پہنے ہوئے بھی نہیں اور نہ ان کا انداز نامناسب ہے۔ دعا کریں کہ وہ جلد صحت مند ہو کر پاکستان کی خدمت کر سکیں‘۔گفتگو کا حصہ بننے والے کچھ صارف ایسے بھی تھے جو گزشتہ واقعات اور ان سے متعلق رویوں کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ معاملے میں تضاد کی نشاندہی کرتے رہے۔
پاکستانی کرکٹر صہیب مقصود نے اپنے تبصرے میں لکھا ’حسن کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ کھیل رہے ہوں یا نہ کھیل رہے ہوں میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہ وہ کرکٹ سے محظوظ ہوتے ہیں‘۔ 25 سالہ پاکستانی کرکٹر حسن علی نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو 2016 میں کیا تھا جب کہ پاکستان کےلیے پہلا ٹیسٹ میچ 2017 میں کھیلا تھا۔ اب تک قومی ٹیم کےلیے 92 انٹرنیشنل میچوں میں 148 وکٹیں لینے والے کھلاڑی کمر کی تکلیف کے باعث ٹیم سے باہر ہیں۔ پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم ہونے والے حسن علی کو ایک برس کے دوران دو مرتبہ کمر کی ایک ہی جیسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے 2 گھنٹوں پر محیط آن لائن ری ہیب سیشن میں شرکت کی تھی۔
اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ کرکٹ میں واپسی تک حسن علی کی مالی معاونت جاری رکھے گا، پی سی بی کی جانب سے یہ فیصلہ انجری کے سبب حسن علی کے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم رہ جانے کےباعث کیا گیا۔
