بزدار سرکار کا پنجاب میں افیون کی فیکٹری لگانے کا انوکھا فیصلہ


پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں حیرت انگیز طور پر ایک افیون کی فیکٹری لگانے کے لئے 10 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ خیال رہے کہ وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی نے گذشتہ برس سابق فاٹا میں اسی قسم کی فیکٹری لگانے کا اعلان کیا تھا تو اس پر بے پناہ تنقید کی گئی تھی۔ تاہم پنجاب حکومت نے مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے صوبے میں افیون سے ادویاتی مادے کشید کرنے کے لئے فیکٹری قائم کرنے کی غرض سے بجٹ میں دس کروڑ روپے بھی مختص کردیئے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے اللہ کو جان دینے کے لیے بے تاب شہریار آفریدی نے پشتو خطاب میں کہا تھا کہ ہم قبائلی علاقے میں ایک فیکٹری لگا رہے ہیں، کیونکہ عمران خان کی یہ خواہش ہے کہ ہم ہر سال ہیروئین، چرس اور افیُون کی جو بہت بڑی مقدار پکڑ کر جلا دیتے ہیں، اس سے دوائیں بنائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیکٹری پر کام شروع ہے، عمران خان کا ارادہ ہے کہ ہم یہ فیکٹری تیراہ میں لگائیں تاکہ ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی بہتر ہو جائے۔ اگرچہ پاکستان میں افیون اور دیگر منشیات کے بلا روک ٹوک استعمال کی وجہ سے اسے بری چیز سمجھا جاتا ہے تاہم اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں افیون کا جائز، قانونی اور طبی استعمال بہت قدیم ہے۔
قیام پاکستان کے وقت ہی پاکستان نے بھارت سے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کے علاقے غازی آباد میں قائم فیکٹری سے پاکستان کو افیون فروخت کی جاتی تھی۔یہ افیون جائز اور قانونی طریقے سے لی جاتی تھی اور طبی استعمال میں لائی جاتی تھی۔ جنرل ایوب خان میں باقاعدہ افیون کے ٹھیکے ہوا کرتے تھے۔ اقوام متحدہ ہی کی دستاویزات بتاتی ہیں کہ افیون سے پیٹ کے امراض، ملیریا، جسم کے درد اور پیچش وغیرہ کا علاج کیا جاتا تھا۔یہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ اُس وقت سالانہ 500 من افیون طبی استعمال میں لائی جاتی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کو خطرہ تھا کہ بھارت سے افیون کی سپلائی بند نہ ہو جائے اس لیے پاکستان نے منٹگمری موجودہ ساہیوال میں افیون کاشت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے4600 ایکڑ مختص کیے گئے۔1951 ء میں 982 ایکڑ پر افیون کاشت کی گئی اور 784 کلوگرام افیون حاصل ہوئی۔اس تجربے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ افیون کی مزید کاشت اب ریاست بہاولپور اور صوبہ سرحد موجودہ کے پی کے میں کی جائے گی۔ چنانچہ اگلا تجربہ مردان اور رحیم یار خان میں کیا گیا۔ 1953 ء میں صوبہ سرحد میں 756 ایکڑ پر افیون کاشت کی گئی اور 128 من حیران کن پیداوار حاصل ہوئی۔اقوام متحدہ کی دستاویز بتاتی ہے کہ یہ 128من افیون بھی پاکستان کی جائز اور قانونی ضرورت کا صرف 28 فیصد تھا۔
واضح رہے کہ افیون کے طبی استعمال کے لیے پاکستان میں پہلی فیکٹری 1950ء میں لاہور میں قائم کی گئی تھی۔یہی نہیں گورنمنٹ فارسٹ کالج ایبٹ آباد اور پنجاب یونیورسٹی میں افیون پر باقاعدہ تحقیق شروع کی گئی کہ افیون کی مختلف اقسام کو کیسے کاشت کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سنگل کنونشن آن نارکوٹکس ڈرگز کے تحت افیون کی طبی مقاصد کے لیے کاشت جائز اور قانونی ہے۔ بھارت دنیا میں طبی مقاصد کے لیے افیون کا سب سے بڑا مینو فیکچرر ہے۔نیمچھ اور غازی پور میں خود بھارتی حکومت نے فیکٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں بھارت میں صرف ایک سال میں افیون کاشت کرنے کے 44 ہزار سے زائد لائسنس دیے گئے۔ ترکی نے بھی افیون کا باقاعدہ قانونی اور جائز کاروبار کیا اور 2005 ء میں اس جائز کاروبار کے صرف ایک جزو یعنی مارفین کی ایکسپورٹ سے 60 ملین ڈالر کمائے ہیں۔ وہاں ساڑھے چھ لاکھ لوگ اس کی کاشت کے قانونی عمل سے روزگار کما رہے ہیں۔
بھارت اور ترکی سے افیون قانونی طریقے سے برطانیہ اور امریکہ کو بیچی جا رہی ہے اور اس کام میں گلیکسو سمتھ ، ایبٹ، جانسن اینڈ جانسن جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ انٹر نیشنل کونسل آن سکیورٹی ایند ڈیویلپمنٹ یہ تجویز بھی دے چکی ہے کہ افغانستان میں پوست کے کاشتکاروں سے باقاعدہ معاہدہ کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں فارما سوٹیکل کمپنیوں کو جائز طریقے سے افیون بیچا کریں۔
ڈبلیو ایچ او کی ڈرگ رپورٹ کے مطابق فارماسوٹیکل کمپنیوں کو افیون کی اتنی شدید ضرورت ہے کہ اسے پورا کرنے کے لیے دنیا میں افیون کی پیداوار کو پانچ گنا بڑھانا ہو گا۔ چنانچہ برطانیہ ہی نے ، چلی نے بھی افیون کی کاشت کی اجازت دے رکھی ہے۔واشنگٹن اور کولوریڈو میں بھنگ کاشت کرنا جائز اور قانونی کام قرار دیا جا چکا ہے۔یوروگوئے میں اب چرس کی خریداری کا باقاعدہ بازار بن چکا جہاں سے فارماسوٹیکل کمپنیاں مال اٹھاتی ہیں۔جرمنی میں عدالت محدود پیمانے پر بھنگ کی کاشت جائز قرار دے چکی ہے۔اس وقت دنیا کے نوے فیصد افیون افغانستان میں پیدا ہوتی ہے ہندوستان ماضی قریب تک چودہ سو میٹرک ٹن افیون پیدا کرتا تھا مگر اس نے عقلمندی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے افیون کی کاشتکاری کو سرکاری نگرانی میں لے لیا اور پکی ہوئی افیون عالمی ادارہ صحت کے پاس اچھے خاصے مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دی۔ یہ یاد رہے کہ اسی افیون سے مورفین کی ادویاتی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ ہندوستان کے دیکھا دیکھی اب امریکہ میں بھی سرکاری نگرانی میں افیون کی کاشت ہونے لگی ہے۔
اگرچہ پاکستان کو 2001ءسے افیون سے پاک ملک کا درجہ حاصل ہے تاہم پنجاب حکومت نے افیون کے بطور منشیات کے استعمال کو روکنے اور مختلف آپریشنز میں پکڑے جانے والی افیون کو تلف کرنے کی بجائے اس سے ادویات بنانے کی غرض سے رواں مالی سال کے دوران صوبے میں افیون کی فیکٹری لگانے کے لئے باقاعدہ فنڈز مختص کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button