پاکستان جبری گمشدگی کو جرم قرار دے: ایمنسٹی انٹرنیشنل


پاکستان میں خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں جبری گمشدگیوں کو قانوناً جرم قرار دیا جائے تاکہ یہ سلسلہ رک سکے۔ ایمنسٹی نے یہ بھی قرار دیا یے کہ پاکستان میں فوج کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو گمشدہ کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے، میڈیا میں بھی اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر ہے جس کی بنیادی وجہ اس معاملے کے پیچھے طاقتورریاستی اداروں کا ہونا ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس کو اندرون اور بیرون ملک انسانی حقوق فورمز میں کافی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے۔
اب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں اور جبری گمشدگیوں کو قانوناً جرم قرار دیں۔ ایمنسٹی کے مطابق جبری طور پرغائب کیے جانے والوں کو تشدد اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اس کے علاہ رہائی کے بعد یہ افراد جسمانی اور نفسیاتی صدمے کا شکار رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ اب تک جبری طور پر گم شدہ ہونے والے درجنوں افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ بلوچستان میں زیادہ شدت سے جاری ہے جام بلوچ قوم پرستوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ نواب اختر مینگل نے عمران خان کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
عالمی ادارے ایمنسٹی نے جبری گمشدگیوں کو ’دہشت گردی کا ایک طریقہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا یے کہ اب پاکستانی وزارت دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ 8 ماہ قبل لاپتہ ہونے والے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔ ایمنسٹی کی جانب سے 18 جون 2020 کو جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ چھپن سالہ ادریس خٹک گزشتہ برس نومبر میں خیبر پختوخواہ سے لاپتہ ہوے تھے اور تب سے ریاستی ادارے یہ تسلیم کرنے سے گریزاں تھے کہ وہ ان کی تحویل میں ہیں۔
یاد رہے کہ ادریس خٹک ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مشیر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ وہ کئی سالوں سے خیبر پختونخواہ اور سابقہ وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے موضوع پر کام کر رہے تھے۔
انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق ادریس خٹک پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو عدالت میں کسی مقدمے کا سامنا کرنے کا موقع دیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ 16 جون کو وزارت دفاع کے اعتراف کے بعد خٹک کے اہل خانہ، ساتھی کارکنان اور عالمی اور مقامی انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم شروع ہو گئی۔ تاہم ابھی تک خٹک کا پتہ نہیں چل سکا ہے اور ان پر عائد الزامات کی وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ بھی اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ ادریس خٹک پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے ہیں، جن میں انسانی حقوق کے کارکنان، نسلی اور مذہبی اقلیتی گروپوں کے ممبران اور ملک کی طاقتور فوج کے ناقدین شامل ہیں۔ ایمنسٹی نے ایک بیان میں کہا، ’پاکستان میں، جبری گمشدگی کو فوج کی پالیسیوں پر اختلاف رائے اور تنقید کرنے والوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔‘ انسانی حقوق کی تنظیم نے مزید کہا کہ جبری گمشدگی دہشت گردی کا ایک طریقہ کار ہے جو صرف فرد واحد کو نہیں بلکہ اس کے اہل خانہ اور معاشرے کو متاثر کرتا ہے لہذا مستقبل کے لیے جبری گمشدگی کو قانوناً جرم قرار دے دیا جائے تاکہ یہ سلسلہ بند ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button