بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کو دہلی میں شکست فاش

بھارتی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کو دارالحکومت نئی دہلی کے انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 62نشستیں جیت کر انتخابات میں شاندار فتح حاصل کر لی ہے۔
ریاستی انتخابات کی 70 نشستوں پر ووٹنگ 8 جنوری کو ہوئی تھی اور ووٹوں کی گنتی کا عمل 11 فروری کے روز مکمل ہوا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عام آدمی پارٹی(اے اے پی) کو دارالحکومت میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے 36نشستوں پر فتح درکار تھی لیکن 11 فروری کو جاری حتمی نتائج کے مطابق اروند کیجروال کی پارٹی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 70 میں سے 62 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اروند کیجروال ممکنہ طور پر 16فروری کو نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔
واضح رہے کہ وزر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے یہ گزشتہ 2سال کے دوران ایک اور بڑا دھچکا ہے جہاں علاقائی سطح پر ہونے والے انتخابات میں انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف علاقائی انتخابات سے قطع نظر گزشتہ سال عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہلی میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ علاقائی انتخابات میں مسلسل شکستوں سے مودی حکومت کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جسے نئے متنازع شہریت قانون کے سبب ملک بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے اور ماہرین مودی حکومت کی دہلی میں شکست کی بھی بنیادی وجہ اسی قانون کو قرار دے رہے ہیں۔
نئی دہلی میں بدترین شکست کے باوجود بی جے پی نے دہلی میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پانچ مزید سیٹیں حاصل کیں اور اپنی نشستوں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 8 کر لی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے 2015 میں دہلی اسمبلی کی 70 میں 67 نشستوں میں کامیابی حاصل کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی انتخابات میں کامیابی پر اپنے حریف ارویندر کیجروال کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے پر میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے نئی دہلی کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقابلے میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی کامیابی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی متنازع پالیسیوں کا منہ توڑ جواب قرار دیا۔
نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور اے اے پی کے رہنما اروند کیجروال نے نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں کامیابی کو ‘نئی سیاست کا آغاز’ قرار دیا۔ انہوں نے کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ‘میں نئی دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو ایک مرتبہ پھر کامیاب بنایا’۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ‘آج نئی دہلی نے بھارت کی تاریخ میں نئی سیاست کی بنیاد رکھ دی اور یہ کارکردگی کی سیاست ہے’۔ حکمران جماعت بی جے پی نے دہلی انتخابات کی مہم میں متنازع شہریت قانون کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن ملک میں بھر میں مسترد کیے گئے اس قانون کو مہم میں استعمال کرنے کا نتیجہ مودی کی جماعت کو دارالحکومت میں ایک مرتبہ پھر شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
واضح رہے کہ دارالحکومت نئی دہلی سمیت بھارت بھر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف شدید مظاہرے کیے گئے تھے اور ان مظاہروں میں تشدد کے نتیجے میں کم از کم 25افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انتخابات سے قبل بھی بی جے پی رہنماؤں نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے منتخب ہونے کی صورت میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلانات کیے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک نائب وزیر نے انتخابی ریلی کے دوران احتجاج کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہوئے ان پر فائرنگ کا نعرہ لگایا جس پر انہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا، ان کے اس نعرے کے بعد دہلی میں مظاہروں پر تین مرتبہ فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ حکمران جماعت کے ایک اور وزیر نے اروند کیجروال کو دہشت گرد قرار دیا جبکہ بی جے پی کے کچھ حلقے انہیں پاکستان کا ایجنٹ بھی قرار دیتے رہے۔ عام آدمی پارٹی کے نائب سربراہ منیش سسودیا نے کہا کہ بی جے پی منافرت کی سیاسی کر رہی ہے۔
11 فروری کو انتخابی نتائج آنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے ایک کامیاب رہنما کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں ان کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔ بی جے پی کے برعکس 51سالہ کیجروال نے مقامی لوگوں کے مسائل اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے الیکشن میں شرکت کی۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پانی اور بجلی کے ساتھ ساتھ خواتین کے تحفظ جیسے دیرینہ مسائل کو بھی کامیابی سے حل کیا جس سے وہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ دہلی کے انتخابات میں سب سے بڑی ہزیمت گاندھی اور نہرو کی کانگریس کو اٹھانی پڑی جو دارالحکومت کی 70 میں سے کوئی بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کانگریس نے اس سے قبل 15سال تک دہلی پر حکومت کی تھی لیکن 2013 میں اروند کیجروال نے انہیں شکست دے کر حکومت بناتے ہوئے پہلی مرتبہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔
