بھارت نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں کیسے بجا دیں


بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تین اہم ترین کمیٹیوں کی سربراہی حاصل کر لینے سے اسلام آباد میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں. یاد رہے کہ بھارت نے دو برس کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جن 3 کمیٹیوں کی سربراہی حاصل کی ہے ان میں طالبان سینکشن کمیٹی، کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی اور لیبیا سینکشن کمیٹی شامل ہیں۔ انڈیا کی ان تین کمیٹیوں کی سربراہی کو پاکستان بڑی تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے کیوں کہ جہاں ایک طرف انڈیا کو پاکستان کا حریف سمجھا جاتا ہے وہیں آنے والے دنوں میں چند ایسے معاشی معاملات بھی آنے والے ہیں جن میں پاکستان کا خیال ہے کہ انڈیا اس کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
سفارتی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم یعنی انسدادِ دہشتگردی اور طالبان سینکشن کمیٹی وہ دو شعبے ہیں جن کے تحت انڈیا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر مزید پابندیاں لگوا سکتا ہے۔ طالبان سینکشن کمیٹی ان ممالک کی فہرست بناتی ہے جو طالبان کی مالی معاونت کرتے ہوں یا پھر کسی اور طرح ان کے ساتھ شریک ہوں۔ اس کی بنیاد پر پوری دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک اپنے قوانین میں ترامیم کرتے ہیں اور ان افراد کے ناموں کو کالعدم تنظیموں اور افراد کی فہرست کا حصہ بنا دیتے ہیں، جس کے بعد ان پر منی لانڈرنگ اور مالی معاونت پر بننے والے قوانین کا اطلاق ہو جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان کو ان تین کمیٹیوں سے متعلقہ تین معاملات کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کا آنے والا ورچوئل اجلاس ہے۔
اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو اکتوبر 2020 میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 میں سے 21 سفارشات مکمل کر لی تھیں۔ لیکن رہ جانے والی چھ سفارشات کو ایف اے ٹی ایف نے خاصا اہم قرار دیا ہے، اور اس کی ڈیڈ لائن فروری 2021 میں مکمل ہوگی۔ اس کے بارے میں پاکستان کے سفارتی حلقوں میں ایک خیال یہ ہے کہ انڈیا اپنا زور لگا کر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے، جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے میں ناکام ہونے پر انڈیا پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈنگ بھی رکوا سکتا ہے۔
دوسری جانب افغان امن عمل ہے۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اطلاعات مشاہد حسین سید نے بتایا کہ ‘یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر نہیں ہے، کیونکہ طالبان سینکشن کمیٹی جسکا افغانستان سے تعلق ہے اور کاؤنٹر ٹیررزم کمیٹی جس کی انڈیا 2022 میں سربراہی کرے گا، یہ دونوں پاکستان کے بنیادی مفادات ہیں۔ ان دونوں مسائل پر انڈیا پاکستان کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اب افغان امن عمل میں انڈیا کو پیچھے کے دروازے سے شمولیت کا موقع مل گیا ہے۔’ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان نے ایک طرف امریکہ اور طالبان کے درمیان اور دوسری جانب افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان بنیادی مفادات کو انڈیا نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے۔’
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر آپ اس پیشرفت کو بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھیں تو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ ایسا کرنے کے پیچھے ایک قانونی وجہ ہے۔ جب آپ بطورِ ملک انسدادِ دہشتگردی کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں، تو آپ اقوامِ متحدہ کے قانونی ڈھانچے کے تحت کام کرتے ہیں نا کہ بطورِ ملک کوئی اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں، پھر تو آپ پر بڑی ذمہ داری ہے۔’. اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے ان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف یہ قانون کسی ملک کو کسی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، وہیں دوسری جانب کوئی بھی ملک اس قانون کا استعمال کرتے ہوئے کسی پڑوسی ملک کے خلاف یکطرفہ اقدام نہیں اٹھا سکتا۔ اس لیے انڈیا کی ذمہ داری پہلے کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنا مفاد دیکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف ازخود کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب آپ سی ٹی سی یعنی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی اور طالبان سینکشن کمیٹی کے سربراہ ہیں تو آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ افغانستان کے معاملات میں آپ کا کردار مداخلت میں نا تبدیل ہو جائے۔ آپ کو مدد کرنی ہے لیکن آپ غیر قانونی مداخلت نہیں کر سکتے۔ انڈیا نے اس کمیٹی کی سربراہی کا بیڑا اٹھا کر خود پر زیادہ بڑی ذمہ داری ڈال لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button