بھارت کی ہوا خطرناک ترین سطح پر

دہلی کی ہوا کا مجموعی معیار جس میں 2.5 پی ایم آلودگی کے ذرات جانچے گئے وہ 488 تک بڑھ گیا ہے جو پیر کو 500 کے اسکیل پر 477 کی سطح پر تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق ہوا میں پائے جانے والے خطرناک مضر صحت مادہ 2.5 (پی ایم) جو دل کی بیماریوں اور سانس کی بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتا ہے وہ نومبر 2019 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور یہ عالمی ادارہ صحت کے تحفظ کی حد سے 30 گنا زیادہ ہے۔ دہلی کرونا وائرس کے انفیکشن کی ’تیسری لہر‘ سے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس سال میں آلودگی کی بدترین لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ پڑوسی ریاستوں میں فضلوں کو جلانے اور مقامی گاڑیوں کے دھوئیں کا اخراج ہے۔ اس حوالے سے لوکل سرکلز کے بانی کا کہنا تھا کہ ‘دہلی کے تقریباً 85 فیصد گھرانوں میں کم سے کم ایک فرد کی جانب سے دیگر علامات کے ساتھ سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی گئی‘۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نجی سطح پر کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 6 سے 9 نومبر کے درمیان تقریباً 6 ہزار خاندان فضائی آلودگی سے متاثر ہوئے۔ اس سال کی شروعات میں دہلی میں اس وقت آلودگی بالکل ختم ہوگئی تھی جب کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے قومی سطح پر لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا لیکن اگست کے اختتام پر حکومت کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے کے آغاز کے بعد سے یہ دوبارہ ہوگئی۔ حکام کی جانب سے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دیوالی پر پٹاخوں اور دیگر آتش بازی کے سامان کی فروخت اور استعمال پر پابندی لگائی گئی لیکن ماہرِین ماحولیات نے حکومت سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکام اور کاروباری حضرات پریشان ہیں کہ صنعتی سرگرمیوں کی بندش سے معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں ماحولیات کی مانیٹرنگ کرنے والی مرکزی ایجنسی سفر نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں جمود ہواؤں اور نمی کی سطح بڑھنے سے صورتحال خراب رہے گی جس کے باعث فضائی آلودگی دیر تک رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button