سرینا عیسیٰ نظرثانی درخواست سے تین ججوں کے اخراج کی مخالف

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے منگل کے روز ذاتی طور پر سپریم کورٹ رجسٹرار کو درخواست پیش کی ہے جس میں ان تمام ججوں کو فل کورٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے جنہوں نے ان کے شوہر کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کا فیصلہ کیا تھا اور 19 جون کو ایک مختصر فیصلہ جاری کیا تھا۔
انہوں نے اپنی ایک صفحے کی درخواست میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جب اس ناانصافی کو معزز چیف جسٹس کے دائرے میں لایا جاتا ہے، جن کا میں بہت عزت اور احترام کرتی ہوں تو وہ آپ کو [رجسٹرار] کو ہدایت دیں گے کہ وہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی(جنہوں نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھے) کو میری نظرثانی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ سے خارج نہ کریں۔ سرینا عیسیٰ جو عوامی داخلی راستے سے عدالت کے احاطے میں داخل ہوئی تھیں تو چھڑی کے سہارے چل رہی تھیں تاہم انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔انہوں نے اپنی درخواست میں کہا کہ میں اور میرے بچے کسی بھی معاملے میں (صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواستوں) میں فریق نہیں ہیں، اس کے باوجود فیصلوں میں 194بار ہمارا ذکر کیا جا چکا ہے جس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے (81مرتبہ)، جسٹس مقبول باقر نے (39 بار)، جسٹس فیصل عرب نے(7 بار)، جسٹس سید منصور علی شاہ نے (54 بار) اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے (13 بار) ذکر کیا۔28 اکتوبر کو جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل سات ججوں کے فل کورٹ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف ریکی ، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین شاہنواز اسماعیل اور بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کی جانب سے مشترکہ ایک صفحے کی درخواست کو قبول کرنے کے بعد 16 نومبر تک سماعت ملتوی کردی تھی۔انہوں نے بینچ سے استدعا کی تھی کہ وہ 28 اکتوبر کی کارروائی ملتوی کریں اور چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کے سامنے معاملہ پیش کریں تاکہ وہ ان تمام ججوں پر مشتمل ایک لارجر بینچ تشکیل دیں جو اس سے قبل جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کر چکے ہیں۔اپنی درخواست میں سرینا عیسیٰ نے روشنی ڈالی کہ ججوں نے ان کے مقدمے کی سماعت جنہوں نے اس بات کو زیادہ ضروری سمجھا کہ ان کی نظر ثانی کی درخواست کو یہ سب سنیں، انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آئین آرٹیکل 188 کے تحت مجھے یہ حق دیتا ہے اور سپریم کورٹ کے قوانین اس کی تصدیق کرتے ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ اگر تین ججوں کو خارج کردیا گیا تو ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعہ فریق تھے اور عہدے کا حلف تھا اور ضابطہ اخلاق مکمل غیر جانبداری کا تقاضا کرتے ہیں۔درخواست میں یاد دلایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان درخواستوں میں جوابدہ ہے جس میں ان کی طرف سے نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں اور اب اپنے عہدے کی وجہ سے ہی اس کا چیئرمین بھی ہیں۔جسٹس عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سمیت نظرثانی درخواستوں میں 3 سے 11 کے پیراگراف پر نظرثانی کی استدعا کی گئی جس میں یہ استدلال کیا گیا کہ 19 جون کے مختصر آرڈر میں ان پیراگراف کی ہدایت / مشاہدات یا مندرجات غیرضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیر قانونی ہیں اور اس طرح یہ ضروری ہے کہ ان کا جائزہ لیا جائے اور حذف کیا جائے کیونکہ انہوں نے غلطی اور ریکارڈ کی غلط انداز میں عکاسی کی۔مختصر حکم میں پیراگراف 3 سے 11 کے ذریعے سات ججوں نے ریفرنس کو مسترد کردیا تھا لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو حکم دیا تھا کہ وہ سپریم جوڈیشل کے سیکریٹری کو وہ رپورٹ پیش کرے جس میں ان لینڈ ریونیو کمشنر کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کی برطانیہ میں تینوں املاک کے لیے فنڈز کی نوعیت اور ذرائع کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔اس فیصلے کی تفصیلات کے مطابق رپورٹ کی وصولی پر سپریم جوڈیشل کونسل اپنے ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے مقاصد کے لیے کوئی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
اپنی نظرثانی درخواست میں سرینا عیسیٰ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ٹیکس کے معاملات بھی کسی دوسرے شہری کی طرح رازداری میں رہنے چاہئیں، انہوں نے مزید کہا کہ نجی شہری کے ٹیکس امور نہ تو دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثرانداز ہوتے ہیں اور نہ ہی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے، درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ اس حکم کے تحت نجی شہریوں کی عوامی اہمیت کے حامل امور کی ٹیکس واجبات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ اس سے بنیادی حقوق اور عوامی اہمیت کی خلاف ورزی کے ضروری نکات کو پورا نہیں کیا جاسکتا ہے جس کا سپریم کورٹ کے آرٹیکل 184 (3) کے اختیارات میں ذکر کیا گیا ہے۔نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غیر ملکی اثاثوں اور آف شور چوری کو پہلی بار فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے 30 جون 2019 کو متعارف کرایا گیا تھا۔درخواست گزار نے کہا کہ انہوں نے سال 2018 اور 2019 کے اپنے ٹیکس گوشواروں میں تین آف شور جائیدادوں کا اعلان اس قانون میں تبدیلی کے بعد کیا تھا جس میں ان کو اس طرح کے قرار دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور آج تک انہیں سالانہ ٹیکس یا ٹیکس ریٹرنز کے سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں ملا، چے جائے یہ کہ انہوں نے ظاہر نہیں کیا یا کم ظاہر کیا یا غلط تفصیلات فراہم کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button