بھارت کے ڈیفنس چیف کی موت کوئی حادثہ ہے یا سازش؟


بھارتی افواج کے ڈیفنس چیف جنرل بپن راوت کی اہلیہ سمیت ایک طیارہ حادثے میں موت کے بعد بھارتی میڈیا یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا ان کے جہاز کو واقعی حادثہ پیش آیا یا وہ کسی سازش کا نشانہ بنے۔ یاد رہے کہ جنرل بپن ڈیفنس چیف بننے سے پہلے بھارتی فوج کے آرمی چیف تھے اور انڈیا میں اپنے پاکستان مخالف جنگجو بیانیے کے لیے مشہور تھے۔ اسی وجہ سے انہیں پاکستان میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
جب فروری 2019 میں پاکستان میں بالاکوٹ کے مقام پر ہونے والے بھارتی ’سرجیکل سٹرائیک‘ سے پاکستان اور بھارت کی دو ایٹمی قوتیں جنگ کے دہانے پر پہنچیں، تب جنرل بپن راوت انڈین آرمی چیف تھے۔
اس حملے کے مرکزی کردار جنرل بپن راوت تھے۔ اس سے قبل ستمبر 2016 میں آزاد کشمیر میں ہونے والے ایک اور بھارتی ’سرجیکل سٹرائیک‘ کے وقت وہ نائب آرمی چیف تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس سے قبل وہ منی پور میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کے بعد میانمار میں بھارتی فوج کے ’سرجیکل سٹرائیک‘ کے مرکزی کرداروں میں سے بھی ایک تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بپن کو بھارتی میڈیا نے ماسٹر آف سرجیکل سٹرائیکز‘ کا خطاب دیا تھا اور وہ ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف تھے۔ لیکن اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کا جہاز بھی کسی سرجیکل سٹرائیک کے نتیجے میں تباہ ہوا کیونکہ وہ جس علاقے میں پرواز کر رہے تھے وہ تامل نارو کا علاقہ تھا جہاں علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز موجود ہیں۔ اسی لیے بھارتی حکومت نے اس طیارہ حادثے کی اعلی سطحی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ حادثہ تھا یا کوئی سازش۔
حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جن میں بظاہر دیکھا جاسکتا ہے کہ ایم آئی 17 وی فائیو ہیلی کاپٹر کو فضا میں ہی آگ لگ گئی تھی۔ بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر گرایا گیا کیونکہ جس حصے سے ہیلی کاپٹر کو آگ لگنا شروع ہوئی وہاں کسی بھی فنی خرابی سے آگ نہیں لگتی۔ یہ وہ حصہ ہے جسے باہر سے جب تک کوئی چیز نہ ماری جائے، اسے آگ نہیں لگ سکتی۔ چنانچہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو زمین سے شولڈر میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہو۔
ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اُس نے ہیلی کاپٹر کو آسمان سے گرتے ہوئے دیکھنے سے قبل خوفناک شور سنا تھا۔ کرشنا سوامی نامی شخص کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ہیلی کاپٹر کو نیچے آتے ہوئے دیکھا، یہ ایک درخت سے ٹکرایا اور جلنے لگا۔ جب میں بھاگتے ہوئے وہاں پہنچا تو گہرا دھواں اٹھ رہا تھا۔ کچھ ہی منٹوں میں آگ میرے گھر سے بھی بلند ہو گئی تھی۔’ درختوں اور جھاڑیوں سے اٹی ہوئی پہاڑی میں کریش ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بپن بھارتی چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ انہیں 2019 میں ریٹائر ہونے کے بعد ڈیفنس چیف کے عہدے پر فائز کرنے کا فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ ماضی میں بپن راوت پاکستان کے حوالے سے کئی مرتبہ خبروں میں رہے اور انہیں اس کے لیے پاکستان میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ستمبر 2020 میں انہوں نے بیان دیا تھا کہ بھارتی فوج پاکستان اور چین کے ساتھ دو محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر پاکستان نے بھارت میں کسی ’مس ایڈونچر‘ کی کوشش کی تو پاکستان کو ’بھاری نقصان‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل بپن راوت ’پاکستان مخالف بیان بازی سے اپنا کیریئر بنانے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ امور پر توجہ دیں۔‘
مرحوم جنرل بپن ستمبر 2019 میں یہ بھی کہہ چکے تھے کہ بھارتی فوج آزسد کشمیر میں ایکشن کرنے کے لیے تیار ہے اور ادے صرف حکومتی اجازت کا انتظار ہے۔ بپن پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ بھی کر چکے تھے۔
جنرل بپن کی بھارتی فوج کی حالیہ تاریخ میں کافی اہمیت رہی ہے۔ ان پر ’ہندوتوا‘ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔
نومبر 2018 میں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو بھارت سے دوستی کے لیے پاکستان کو سیکیولر ریاست بننا پڑے گا۔ ان کا یہ بیان وزیراعظم عمران خان کے بھارت سے دوستی کے حوالے سے بیان پر آیا تھا۔ جنوری 2018 میں بپن راوت نے، جو اس وقت آرمی چیف تھے، پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’حکومت اگر حکم دے تو بھارتی فوج پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھمکی یعنی (nuclear bluff) کی پروا کیے بغیر سرحد پار کر کے کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔‘
جنرل بپن راوت حال ہی میں ایک اور تنازع کا شکار ہوئے تھے جب ان کی اپنے ہی ایئر چیف کے ساتھ اختلافات سامنے آئے تھے۔ جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ بھارتی فضائیہ بری افواج کو مدد فراہم کرتی ہے جب کہ اس کے جواب میں بھارتی ائیر چیف مارشل راکیش کمار نے کہا تھا کا فضائیہ کا کام صرف اعانت نہیں بلکہ فضائی طاقت جنگ کا ایک اہم حصہ ہے۔ جنرل بپن راوت نے ایک ماہ قبل پاکستان اور چین کا بھارت کے لیے تقابل کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کا سب سے بڑا دشمن پاکستان نہیں بلکہ چین ہے۔ تاہم پاکستانی فوجی ترجمان نے جنرل بپن راوت کی طیارہ حادثے میں موت پر اظہار افسوس کیا ہے۔
یاد رہے کہ بپن راوت بھارتی ریاست اترکھنڈ کے ضلع پاوری میں 16 مارچ 1958 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو کئی نسلوں سے فوج میں شمولیت اختیار کرتا رہا۔ بپن راوت بھارتی فوج کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف تھے۔ وہ 17 دسمبر 2016 سے بھارتی فوج کے 27ویں چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیے گئے تھے۔ 30 دسمبر 2019 کو ان کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد انہیں 31 دسمبر 2019 سے بھارتی فوج کا سی ڈی ایس مقرر کر دیا گیا تھا۔ بپن راوت کے لیے یہ عہدہ تخلیق کرنے کے علاوہ بھارتی حکومت نے فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کی حد عمر بھی 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کر دی تھی۔
مودی حکومت نے سی ڈی ایس کے عہدے کو تخلیق کرنے کی وجہ عسکری امور پر حکومت کے لیے ’ون پوائنٹ ایڈوائزر‘ مقرر کرنا بتائی تھی۔ اس عہدے کا مقصد تینوں مسلح افواج کے امور کو ایک فرد واحد کے ذریعے نمٹانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار
بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) اور انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون (آئی ایم اے) سے تربیت حاصل کرنے والے بپن راوت دسمبر 1978 میں بھارتی فوج میں شامل ہوئے تھے۔ انہیں ان کے والد کی طرح ہی 11 گورکھا رائفلز میں کمیشن دیا گیا تھا۔
بھارتی فوج میں اپنی چار دہائیوں پر مبنی ملازمت میں بپن راوت نے بریگیڈئیر کمانڈر، جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف سدرن کمانڈ، جنرل سٹاف آفیسر گریڈ ٹو اور کرنل ملٹری سیکرٹری اور ڈپٹی ملٹری سیکریٹری کے عہدوں پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ جنرل بپن راوت ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں اقوام متحدہ کی امن قائم رکھنے کے لیے تعینات افواج کا حصہ بھی رہے۔

Back to top button