بیان حلفی ریکارڈ کراتے وقت اکیلا تھا

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے کہا ہے کہ بیان حلفی ریکارڈ کراتے وقت وہ اکیلے تھے، رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران سابق چیف جج رانا شمیم سے صحافی نے سوال کیا آپ نے میاں نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کربیان حلفی بنایا، کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے؟ چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو آپ انہی سے پوچھیں جو ایسا کہہ رہے ہیں، پھر سوال کیا گیا کہ کیا کہ آپ نے اکیلے یہ حلف نامہ دیا تھا؟ اس پر سابق جج نے کہا کہ بالکل، بیان حلفی ریکارڈ کراتے وقت اکیلا تھا۔
دوسری جانب آج برطانیہ سے منگوایا گیا رانا شمیم کا اصل بیان حلفی عدالت میں پڑھے جانے کا بھی امکان ہے، گزشتہ سماعت پر اتفاق ہوا تھا کہ اٹارنی کی موجودگی میں اصل بیان حلفی کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے چیف جج کا بیان حلفی برطانیہ سے کورئیر سروس کے ذریعے ہائیکورٹ کو موصول ہوا اور گزشتہ سماعت پراٹارنی جنرل کی عدم موجودگی کے باعث سربمہرلفافہ کھولانہیں گیا تھا، عدالت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل کی موجودگی میں بھی اصل بیان حلفی کھولا جائے گا۔
رانا ایم شمیم نے اپنے مصدقہ حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ تھے جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائیکورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔
سابق چیف جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ’’میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔‘‘
دستاویز کے مطابق، شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10؍ نومبر 2021ء کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔ مکمل پڑھیں۔

Back to top button