تحریک انصاف، پیپلزپارٹی کے درمیان اتحاد کیوں نہیں ہو سکا؟

موجودہ الیکشن میں تحریک انصاف نے وفاق میں اکثریتی حکومت بنانے کا موقع اپنے ہاتھ سے گنوا دیا ہے جس کی بڑی وجہ عمران خان کے پیپلزپارٹی سے متعلق بیانیے کو قرار دیا جا رہا ہے، دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے گریز کیا۔ملک میں اس وقت جہاں متعدد سیاسی جماعتوں اور انفرادی سطح پر اُمیدواروں کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ’’مینڈیٹ چوری‘‘ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں وہیں چند جماعتیں سراپا احتجاج بھی ہیں۔ان جماعتوں میں پاکستان تحریکِ انصاف، جمیعت علمائے اسلام ف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈے اے) نمایاں ہیں۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی جانب سے ایک عرصے سے یہ بیانیہ بنایا گیا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ’ملک کی مشکلات کی اصل وجہ ہیں۔‘انتخابی مہم کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے بجائے مسلم لیگ ن پر زیادہ تنقید کی تھی۔اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ الیکشن کے نتیجے میں مخلوط حکومت تشکیل پائی تو وہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں سے کسی کے ساتھ سیاسی تعاون نہیں کریں گے تاہم الیکشن کے بعد بلاول کی جماعت یعنی پیپلز پارٹی ن لیگ سے زیادہ پی ٹی آئی سے تعاون کی خواہش مند دکھائی دی۔تاہم پی ٹی آئی کے پاس آپشن تھا کہ وہ پیپلزپارٹی سے سیاسی تعاون کر کے وفاق میں حکومت سازی کی طرف جا سکتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اس آپشن پر پیپلز پارٹی کو مثبت جواب کیوں نہ دیا؟ اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کہتے ہیں کہ ’ایک تو ہمیں دوسری جماعتوں پر اعتماد کے فقدان کا معاملہ تھا، جو جماعتیں ساڑھے تین برس پی ٹی آئی حکومت کا حصہ رہی تھیں وہ بعد میں پی ڈی ایم میں شامل ہو گئیں اور دوسرا پہلو یہ کہ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور ایم کیو ایم نے ہمارے مینڈیٹ کو چرایا ہے، ہماری سیٹوں پر قبضہ کیا ہے، جو ہماری سیٹوں پر قبضہ کر چکے ہیں، ہم اُن کے ساتھ کیوں بیٹھیں؟اس بارے میں جب ہم نے سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سے پوچھا تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پیپلز پارٹی کو عمران خان کی حمایت ملتی تو دونوں کے مابین حکومت سازی کا امکان تھا مگر عمران کو ڈر ہے کہ اس طرح بلاول کو آگے آنے کا موقع مل جائے گا۔ اس پہلو پر بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار خورشید احمد ندیم کہتے ہیں کہ ’عمران خان کی اپنی سوچ دونوں بڑی پارٹیوں سے اتحاد کی مخالف ہے مگر ہماری مقتدرہ کے پیشِ نظر جو سیاسی بندوبست تھا اُس میں کسی صورت پی ٹی آئی کو اقتدار کا حصہ نہیں ہونا تھا۔خیال رہے کہ شہباز شریف کی جانب سے الیکشن نتائج کے اعلان کے بعد ایک موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد اُمیدوار حکومت بنانا چاہیں تو بنا سکتے ہیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔جب عمران حکومت کے خاتمے کے بعد پی ڈی ایم حکومت بنی تو اس وقت بھی میاں نوازشریف حکومت لینے کے حق میں نہیں تھے۔ یہ سوچ اور نقطۂ نظر آج بھی موجود ہے اگر اس کو اختیار کیا جاتا تو مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل کے لیے زیادہ بہتر ہوتا تاہم کالم نگار عمران یعقوب اس مفروضے کو نہیں مانتے کہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے مابین حکومت سازی کے لیے اتحاد ہوتا اور ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کرتی۔وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کے لیے حالات سازگار نہیں تھے اور راوی چین نہیں لکھ رہا تھا۔عمران خان کی تقاریر اور بیانات اس پہلو کی غمازی کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاست دیگر بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخالفت کے بیانیے پر اُستوار ہے اگر پی ٹی آئی اتحادی حکومت کی تشکیل کی طرف جاتی تو ایسا پہلی مرتبہ نہ ہوتا۔ 2018 کے الیکشن میں یہ مختلف پارٹیوں کے اتحاد سے اقتدار میں آئی تھی۔ مگر اتحاد برقرار نہ رہ پایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔

Back to top button