تحریک انصاف اور حکومت میں پس پردہ نصف درجن سے زائد ملاقاتیں بھی تعطل ختم کرنے میں ناکام
گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان نصف درجن سے زائد پسِ پردہ ملاقاتیں ہوئیں، تاہم اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کے معاملے پر پیدا ہونے والا تعطل ختم نہ ہوسکا۔

اسلام آباد: گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران تحریک انصاف اور حکام کے درمیان نصف درجن سے زائد پسِ پردہ ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ان رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی جانب پارٹی کے مجوزہ مارچ کے معاملے پر پیدا ہونے والا تعطل ختم نہ ہوسکا۔
مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق ان رابطوں کے دوران سب سے اہم مسئلہ یہ رہا کہ آیا پی ٹی آئی اپنی مجوزہ متحرک مہم کو صرف ملتوی کرے گی یا اسے مکمل طور پر منسوخ کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی حکام کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے، تاہم احتجاج، تشدد، سڑکوں کی بندش اور مارچ پر مبنی سیاست قابل قبول نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو یہ بھی پیغام دیا گیا کہ سیاسی رابطے اور بعض معاملات میں سہولت کاری کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے پارٹی کو محاذ آرائی کا راستہ ترک کرنا ہوگا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی سے واضح طور پر مارچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، کیونکہ محض تاریخ آگے بڑھانے سے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب بڑے پیمانے پر لوگوں کے متحرک ہونے سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوتے۔
ذرائع نے بتایا کہ مارچ منسوخ کرانے کے امکان کے حوالے سے محمود خان اچکزئی سے بھی رابطہ کیا گیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اچکزئی نے عندیہ دیا کہ اگر انہیں جیل میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کا انتظام فراہم کیا جائے تو مارچ منسوخ کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
تاہم دوسری جانب سے اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ پی ٹی آئی پہلے مارچ منسوخ کرے، جس کے بعد عمران خان سے ملاقات، وکلا تک رسائی اور طبی علاج سے متعلق معاملات قابلِ اطلاق ضابطہ کار کے تحت آسان بنائے جاسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے متعدد بیانات کے بعد ماحول مزید مشکل ہوگیا، جبکہ بعض بیانات کو دوسری جانب سے دھمکی آمیز یا محاذ آرائی پر مبنی سمجھا گیا۔
اس کے بعد پی ٹی آئی کو پیغام دیا گیا کہ اگر مارچ کیا گیا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے اندر اس حوالے سے یہ بحث بھی شروع ہوئی کہ اگر پارٹی مارچ مکمل طور پر منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں تو متحرک مہم سے نمٹنے کے لیے متبادل طریقے کیا ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک امکان یہ بھی زیر غور آیا کہ تحریک کو سست کیا جائے یا ایک ہی مرتبہ بڑے پیمانے پر متحرک ہونے کے بجائے لوگوں کو بتدریج اسلام آباد کی جانب لایا جائے، تاہم یہ آپشن بھی دوسری جانب کو مطمئن نہ کرسکا۔
پسِ پردہ رابطوں کے دوران مستقبل کی سیاسی ٹائم لائن سے متعلق بھی اہم پیغام دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ اگر وہ مارچ کرتی ہے تو اس کے بعد شروع ہونے والا کوئی بھی عمل ضروری نہیں کہ پارٹی کی مطلوبہ ٹائم لائن کے مطابق آگے بڑھے، بلکہ اس کے بعد کی ٹائم لائن حکومت اور سکیورٹی حکام طے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ ممکنہ سہولت کاری کے معاملات میں وکلا تک رسائی، عمران خان سے ملاقاتیں اور طبی علاج جیسے امور شامل تھے۔
