تحریک انصاف ق لیگ کے تحفظات دور کرنے میں ناکام

مسلم لیگ ق کی طرف سے تحفظات اور شکایات کے اظہار کے بعد وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے رکن شفقت محمود نے چودھری پرویز الہی سے ملاقات کی. تاہم ق لیگی قیادت نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے صاف انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ق لیگ اور حکومت کے مابین طے پائے گئے معاہدے پر عملی اقدامات پر ہی تحفظات کا ازالہ ممکن ہے. ق لیگ کے غیر لچکدار مؤقف کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود خالی ہاتھ واپس روانہ ہو گئے.
وفاقی وزیر شفقت محمود مسلم لیگ قائداعظم کی قیادت کو نئی کمیٹی سے مذاکرات کے لئے قائل نہ کر سکے، ق لیگ اپنے مطالبے پر ڈٹ گئی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اتحادیوں کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنے کے مشن کے تحت پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شفقت محمود نے چودھری پرویز الہی سے ملاقات کی اور انھیں وزیر اعظم عمران خان کا خصوصی پیغام پہنچایا. ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے نئی حکومتی کمیٹی کے رکن اور ذاتی حیثیت میں ملاقات کرنے والے شفقت محمود سے اتحاد کے معاملات پر بات چیت سے گریز کیا۔ وفاقی وزیر نے ملاقات کے بعد اکیلے میڈیا ٹاک کی جس میں مسلم لیگ ق کا کوئی رہنما شریک نہ ہوا۔ ق لیگی قیادت کا موقف تھا کہ پہلے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی کمیٹی میں طے شدہ معاملات پر عملدرآمد، پھر نئی کمیٹی سے بات ہوگی۔ نئے سرے سے دوبارہ اتحاد کے معاملات پر بات نہیں کر سکتے۔ پہلی کمیٹی میں جو طے ہوا، اس پر عمل کیا جائے۔
چودھری پرویز الہی سے ملاقات کے بعد شفقت محمود کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کا مضبوط رشتہ ہے۔ دونوں اتحادیوں کے درمیان جلد ملاقات ہوگی۔ ق لیگ کے جو خدشات تھے، وہ بڑی حد تک حل ہو چکے ہیں۔ انھیں خدشہ تھا کہ نئی کمیٹی بنی تو دوبارہ شروع سے بات ہوگی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پرویز الٰہی کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ تاثر پھیل رہا تھا کہ حکومت اور مسلم لیگ (ق) میں اختلافات ہیں لیکن یہ غلط ہے۔ ہماری سوچ ایک دوسرے سے ملتی ہے۔ ہمارا رشتہ صرف کچھ دو اور کچھ لو پر مبنی نہیں ہے۔
انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کا بہت تجربہ ہے، ہم ان سے سیکھتے ہیں۔ نئی کمیٹی بننے کا مقصد یہ نہیں کہ معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ جو معاہدہ ہوا، اسے آگے لے کر چلیں گے۔ تاہم صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران چودھری پرویز الہی کی عدم موجودگی بارے سوالات پوچھنے پر وفاقی وزیر تعلیم میڈیا ٹاک ادھوری چھوڑ کر واپس روانہ ہو گئے
دوسری طرف مسلم لیگ ق اور حکومت کے درمیان تحریری معاہدے میں طے ہونے والے نکات سامنے آگئے ہیں۔ چار نکاتی معاہدے میں پاور شیئرنگ کے اصول طے کیے گئے تھے۔ وفاق میں 2 اور پنجاب میں میں بھی 2 وزارتیں ملنا تھیں جس پرحکومت عمل نہ کرسکی۔
پاور شیئرنگ کے تحت ضلعی سطح اور مختلف حکومتی اداروں میں مسلم لیگ ق کے رہنماوں کو نمائندگی ملنا تھی۔ ڈے ٹو ڈے افیئرز میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے درمیان مشاورت کا معاہدہ ہوا۔ پالیسی میکنگ میں بھی حکومت نے معاہدے میں مسلم لیگ ق کو شریک کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ترقیاتی فنڈز اور عوامی مسائل کے حل کے لئے مسلم لیگ ق کے ارکان کو با اختیار بنانا بھی معاہدے کا حصہ تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button