پنجاب تجربات کی زد میں ہے، عمران خان فیصلے سے پہلے سوچا کریں

چودھری پرویز الہی نے کپتان سرکار کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پونےدوسال سےپنجاب تجربات کی زدمیں ہے،عمران خان دیکھیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اتحادیوں کے ساتھ چلتے ہوئےمعاملات روک رہےہیں۔ پی ٹی آئی سنبھل کر حکومت کرے جو وعدے کئے ہیں انہیں پورا کیا جائے۔ عمران خان کو فیصلہ سے پہلے ہزار بار سوچنے کا مشورہ دے دیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ نے ہمیں پہلے وزارت اعلیٰ کی آفر کی تھی لیکن اب خاموش ہے.
سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین کی سربراہی میں بننےوالی کمیٹی سےملاقاتوں کے بعد معاملات پرعملدرآمد شروع ہوگیا تھا۔ جواب رک چکا ہے۔عملدرآمد شروع ہونے کے بعد کمیٹی میں تبدیلی حیران کن ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے بغیر نئی حکومتی کمیٹی سے مذاکرات نہیں کریں گے. فیصلہ کیا ہے کہ طے شدہ معاملات پر عمل درآمد کے بعد نئی کمیٹی سے ملاقات ہوگی. وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے حوالے سے کہنا تھا کہ نئی کمیٹی بنی تو ہمارا شک یقین میں بدل گیا ہے،عمران خان فیصلہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیں کیوں کہ فیصلہ لینےکے بعد اس کو واپس لینے پر ان کی ساکھ پر فرق پڑتا ہے، وہ وزیراعظم ہیں انھوں نے مزید کہا کہ اب تک ہم خود کو سوتن سمجھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان دیکھیں معاملات کون روک رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم کرانے کا کریڈٹ دینے کی بجائے ڈس کریڈٹ دیا گیا۔۔مسلم لیگ ن نے ہمیں پہلے وزارت اعلیٰ کی آفر کی تھی لیکن اب وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے.
چودھری پرویز الہی نے کہا کہ ہمارے علاقوں کے لئے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرادی گئی تھی ہمارے اراکین اسمبلی نے اپنے علاقوں میں اسکیموں کا اعلان کردیا تھا لیکن اب سب رک گیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دھرنے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا ہم تو قادری صاحب اور عمران خان کی صلح کرانے جاتے تھے. سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ہمیں وزارتوں کی ضرورت نہیں ہے لیکن اپنا حق نہیں چھوڑیں گے. پونے دو سال سے پنجاب تجربے کی زد میں ہے جب یہ تجربہ ختم ہوگا تو کچھ clarity آئے گی. انھوں نے مزید کہا کہ سیاست میں ون ڈے ٹیسٹ نہیں ہوتے، سیریز چلتی ہیں.
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال میں 3 مرتبہ عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے، اِس حکومت کےاُس طرح سےاتحادی نہیں جس طرح زرداری صاحب کے تھے، ہم نے سارے اتحاد دیکھے ہیں اور سب سے ٹف اتحاد جماعت اسلامی کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے خان صاحب کا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد برا ثابت ہوا اور شاید خان صاحب کولگتا ہے سب اتحادی جماعت اسلامی کی طرح ہوتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا تھا، پرانی کمیٹی نے اُس معاہدے کی توثیق بھی کی۔
پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 50 آئی جی اورچیف سیکرٹری لگادیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم مشورے لے کربازار میں نہیں پھرتے، کوئی پوچھے گا تو بتائیں گے، ان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہمیں بھی نقصان ہوگا، پنجاب میں ڈیلیور نہیں ہورہا، پونے 2 سال سے پنجاب تجربے کی زد میں ہے۔
ق لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کی بات جب سامنے آئے گی تب دیکھیں گے، سوکن کی گھر میں کیا حالت ہوتی ہے،اِس وقت ہمارے جذبات ویسے ہی ہیں۔ اپنے مطالبات کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں جو چیزیں طے ہوئیں وہ پوری نہیں ہوئیں، وفاق اورپنجاب میں 2 وزارتوں کی بات ہوئی تھی، مجھے اسپیکر بننے کا کوئی شوق نہیں تھا اور ہم نے کہہ دیا تھا کہ مونس کو وزارت نہیں چاہیے.چوہدری پرویز الٰہی کا وزیراعظم عمران خان سے متعلق کہنا تھا کہ ’چاہتے تھے کہ خان صاحب سے تعلقات بڑھائیں، کسی کو جاننا اور اتحادی بن کرکام کرنا الگ بات ہے، عمران خان ، اچھے اوردیانتدارآدمی ہیں، چاہتے ہیں وہ کامیاب ہوں‘۔ انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’نام لیے بغیرکہتا ہوں عمران خان ساتھیوں کی وجہ سے گمراہ نہ ہوں کیوں کہ سیاست میں اعتبار ختم ہوجائے تو وہ بحال نہیں ہوتا‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button