کیا تحریک انصاف حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا؟

نئے سال کے آغاز سے ہی تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تواتر کے ساتھ شدید تحفظات کے اظہار اور نو تشکیل شدہ مذاکراتی کمیٹیوں پر عدم اعتماد سے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے اور 2020 بڑی سیاسی تبدیلی کا سال ثابت ہوگا۔
ملک کے سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو صاف نظر آتا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں میں بے چینی بڑھنے لگی ہے جس کا وہ برسر اقتدار جماعت کیساتھ برملا اظہار کرنے لگے ہیں۔ کپتان اینڈ کمپنی کی جانب سے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے غیر سنجیدگی دکھانے کے باعث اتحادی جماعتوں کا غصہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کلیدی اتحادی جماعتیں مرکز اور پنجاب میں کپتان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں۔
مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل گروپ نے ایک بار پھر حکومت کے ساتھ اپنے شکوے شکایات کا اعادہ کر دیا یے۔ ق لیگ اور بی این پی مینگل گروپ نے کپتان کی جانب سے مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی نئی کمیٹیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کرنے سے ہی صاف انکار کردیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) نے تحریک انصاف کے ساتھ معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں مستقبل کے حوالے سے پالیسی وضع کی گئی ہے۔ اجلاس میں بڑی ڈویلپمنٹ یہ سامنے آئی کہ ق لیگ کی قیادت نے مذاکرات کے لیے کپتان کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی کو مسترد کر دیا۔ واضح رہے کہ کپتان نے ق لیگ کے ساتھ معاملات درست کرنے کے لیے گورنر پنجاب چوہدری سرور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی جس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود شامل ہیں۔
چوہدری شجاعت حسین نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی۔ تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کو یہ باور کرایا جائے کہ سیاسی معاملات جب طے ہو جاتے ہیں تو پھر بار بار تبدیلی سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے کیونکہ پہلے دونوں جانب سے پوری مشاورت کے بعد فیصلے کئے گئے تھے جن کو یکلخت الٹ دیا گیا اور ایک نئی مذاکراتی کمیٹی بنا دی گئی۔
چوہدری شجاعت حسین کے بقول تحریک انصاف سے ہمارا الیکشن سے پہلے کا تحریری معاہدہ ہے جس پر آج تک عملدرآمد نہ ہو سکا، پھر حکومت بنانے کے بعد پہلی مذاکراتی ٹیم بنی مگر اس کے کسی فیصلہ پر کوئی عملدرآمد نہ ہوا، اس کے بعد دوسری کمیٹی سے معاملات طے ہوئے مگر اس کمیٹی کو بھی فارغ کر دیا گیا اور اب تیسری کمیٹی بنائی جا رہی ہے، ہمارا خیال ہے کہ جو فیصلے دوسری کمیٹی میں ہوئے ان پر پہلے عملدرآمد ہو جائے تو پھر نئے معاملات پر بات کی جائے۔
چوہدری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی حکومت سے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کر رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے چند وزراء اور معززین وزیراعظم اور ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ق لیگ کو گلہ ہے کہ کپتان نے ان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی میں ردوبدل کیوں کیا ہے کیونکہ ق لیگ والے جہانگیر ترین کے ساتھ معاملات طے کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ مرکز میں ایک اور اہم اتحادی جماعت بی این پی مینگل نے بھی نئی مذاکراتی کمیٹی مسترد کردیا ہے۔ پارٹی کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ حکومت ٹیم تبدیل کرے، نئی ٹیم کو کچھ علم نہیں، مذاکرات وقت کا ضیاع ہونگے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بی این پی مینگل کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وزیر دفاع پرویز خٹک کو سونپی گئی ہے جبکہ دیگر دو اراکین میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور میر خان محمد جمالی شامل ہیں۔
مرکز اور صوبوں میں اتحادیوں کے ساتھ بگڑتے ہوئے معاملات کو سنوارنے کے لیے کپتان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ وہ اتحادی جماعتوں کی قیادت سے ملاقات کرکے انہیں بیان بازی سے روکیں۔ صادق سنجرانی نے گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے کراچی میں ملاقات کی اور متحدہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم وہ خالد مقبول کو وزارت واپس لینے کے حوالے سے منانے میں ناکام رہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بار بار منانے کے باوجود اگر ایم کیو ایم دوبارہ سے کابینہ میں شمولیت پر راضی نہیں تو یقیناً یہ دھڑا آنے والے دنوں میں بڑا سیاسی دھماکہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے اتحادیوں کے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئےاتحادیوں کیساتھ کیے گئے وعدوں کو جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں جمعرات کو اہم اجلاس طلب کیاگیا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ اب تک کے مذاکرات انتہائی کامیاب رہے ہیں اور ان کے ساتھ جو بھی وعدے کیے ہیں اور جو جائز مطالبات ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کررہے ہیں ق لیگ ، ایم کیو ایم ، بلوچستان نیشنل پارٹی منگل گروپ ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button