اسٹیبلشمنٹ کو کپتان کے جانشین کی تلاش کا چیلنج درپیش

مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایک موزوں ترین امیدوار کی تلاش ہے کیونکہ اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون میں آپسی تقسیم واضح ہے اور وزارت عظمیٰ کے کم از کم تین امیدوار سامنے آچکے ہیں۔
تحریک انصاف حکومت کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہوتے اختلافات کے پیش نظر سیاسی پنڈتوں کی جانب سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ بجٹ سے پہلے پہلے وزیراعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں گھر جا سکتے ہیں۔ تاہم بنیادی چیلنج یہ ہے کہ کپتان کے گھر جانے کے بعد ان کی جگہ کس کو دی جائے، اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ابھی تذبذب کا شکار ہے۔
حکومتوں کی تبدیلی کے مجوزہ منصوبے کے مطابق پہلی اسٹیج پر عثمان بزدار کی چھٹی کروا کر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی مدد سے ق لیگ کو برسراقتدار لائے جانے پر غور جاری ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مرکز میں تبدیلی کے حوالے سے سلیکٹرز کے پاس پہلا آپشن یہ ہے کہ کپتان کو ہٹا کر تحریک انصاف میں سے ہی شاہ محمود قریشی یا اسد عمر جیسے کسی رکن اسمبلی کو وزیراعظم منتخب کروایا جائے۔ دوسری صورت میں اگر بالفرض تحریک انصاف ان ہاؤس تبدیلی میں رکاوٹ بنے تو واحد آپشن مسلم لیگ نون ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں ایسی صورتحال میں اقتدار نون لیگ کے حوالے کرنا بھی آسان نہ ہوگا کیونکہ نون لیگ میں بھی وزارت عظمی کے کم از کم تین امیدوار سامنے آچکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف برادران کی غیر موجودگی میں نون لیگ کی قیادت کرنے والے خواجہ محمد آصف ان دنوں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ صاحب ملک کی اعلیٰ ترین عسکری شخصیت کے سسر اور ریٹائرڈ میجر جنرل کے ساتھ مل کر لابنگ کر رہے ہیں تا کہ کپتان کی چھٹی کرائے جانے پر وہ وزیراعظم بن سکیں۔
دوسری جانب ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کے غیر مشروط فیصلے کے بعد ن لیگ کے صدر شہبازشریف بھی ایک مرتبہ پھر وزارت عظمی کے تگڑے امیدوار بن چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف کو لندن لیجانے کی اجازت بھی شہباز شریف نے اسی ریٹائرڈ فوجی شخصیت کے ذریعے حاصل کی جن کے ساتھ وہ اب بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
اسی طرح حالیہ دنوں آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف بغاوت کر کے خود کو با اصول اور نظریاتی سیاسی رہنما ثابت کرنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی وزارت عظمیٰ کے لئے انتہائی موزوں امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم موزوں امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی پریشانی اس لئے بڑھ چکی ہے کہ نون لیگ سے تعلق رکھنے والے تینوں ہیوی ویٹ رہنماؤں کے مستقبل میں وزیراعظم بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پارٹی قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ہیں۔
لیگی حلقوں کے مطابق مریم نواز سمجھتی ہیں کہ اس وقت وزارت عظمی کا سب سے زیادہ حقدار کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود ہیں۔ مریم کے خیال میں شہباز شریف اور خواجہ آصف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں اس لیے یہ وزیراعظم بن گئے تو عمران خان سے بڑی کٹھ پتلی ثابت ہوں گے لیکن دوسری طرف مریم نواز کو شاہد خاقان عباسی کی حد درجہ اصول پسندی اور راست بازی بھی پسند نہیں۔ مریم کا خیال ہے کہ اگر نواز شریف کی ہدایت پر لیگی قیادت نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دی تو ایسے میں شاہد خاقان عباسی نے باغی بن کر پارٹی کارکنان کے سامنے ہیرو بننے کے لیے الٹا موقف اختیار کر لیا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے والد کو یہ مشورہ دیا ہے کہ خاقان عباسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ مستقبل کے منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ایسا گیم پلان بنانے میں مصروف ہے کہ تحریک انصاف کے بعد نون لیگ سے کوئی ایسا شخص وزیراعظم بنایا جائے جو اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملا کر نہ صرف ملک کو بحران سے نکالے بلکہ تمام سفارتی، معاشی اور سیاسی معاملات میں بھی سو فیصد یس مین کا کردار ادا کرے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نون لیگ بھی تقسیم کا شکار ہے اور پارٹی کی سطح پر کسی ایک امیدوار پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔ اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے بہترین آپشن نوازشریف ہیں لیکن انہیں دوبارہ اقتدار دینا تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہوگا۔ ایسا کرنے کی صورت میں سب سے زیادہ ہزیمت اسٹیبلشمنٹ کو اٹھانا پڑے گی۔ اس لئے جب تک عمران خان کے متبادل کا انتظام نہیں ہوتا تب تک تحریک انصاف حکومت کسی نہ کسی طرح اقتدار کے دن پورے کرتی رہے گی لیکن یہ دن چند مہینوں سے زیادہ نہیں لگتے۔
