مریم کو جانے دینا احتساب کے بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہوگی

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا باہر جانا احتساب کے بیانئےکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ تاریخ گزرنے کے باوجود میاں نواز اور شہباز شریف واپس نہیں آرہے ہیں، ایسا لگتا ہے ملک میں دو قوانین ہیں۔
فواد چوہدری نے نواز شریف کے مریم نواز کی لندن آنے سے متعلق بیان پر سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے، نیب کی کمزور پراسیکیوشن اور عدالتوں سے ریلیف کی وجہ سے احتساب کے بیانئے کو سخت زد پڑی ہے. انھوں نے مزید کہا کہ اس ماحول میں مریم نواز کا باہر جانا احتساب کے بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہوگی، اگر مریم نواز پلی بارگین کے بغیر باہر جاتی ہیں تو پاکستان میں جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہیئں۔
احتساب کے بیانئے کو نواز شریف کے باہر جانے، نیب کی کمزور پراسیکیوشن اور عدالتوں سے ریلیف سے سخت زد پڑی ہے اس ماحول میں مریم نواز کا باہر جانا احتساب کے بیانئےکے تابوت میں آخری کیل ہو گا،اگر مریم نواز پلی بارگین کے بغیر باہر جاتی ہیں تو پاکستان میں جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 5, 2020
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ نواز شریف اگر بیمار ہیں تو اللہ صحت دے لیکن جس طرح انکی فیملی نے کیا لگتا ہے ملک سے فرار کا پلان ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو جانا ہے تو پلی بارگین کریں، لگتا ہے پاکستان میں دو قوانین ہیں بڑے لوگوں کےلیے علیحدہ قانون ہے اور عوام کے لئے علیحدہ قانون پر عمل کیا جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ جب شہباز و شریف ملک سے جارہے تھے میں نے اس وقت بھی آواز اٹھائی تھی، تاریخ نکل گئی، نواز شریف واپس آرہے ہیں نہ شہباز شریف آرہے ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف باہر جیسے گھوم رہے ہیں ملکی قانون، عدالتی نظام کا دو رخی چہرہ سامنے آرہا ہے، ووٹرز، سپورٹرز ناراض ہیں، جن کا احتساب ہونا ہے وہ باہر جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ نواز شریف کا 30 جنوری کے روز آپریشن ہونا تھا تاہم انہوں نے مریم نواز کے لندن آنے تک علاج کرانے سے انکار کردیا ہے کیوںکہ نواز شریف کی خواہش تھی کہ ان کے آپریشن کے وقت مریم نواز اُن کے ہمراہ ہوں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے جبکہ آئندہ ہفتے ان کو اسپتال میں داخل کیے جانے کا امکان ہے۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو نواز شریف کے علاج کی تیاری کر لی گئی تھی لیکن ان کی درخواست پرٹریٹمنٹ کو ایک ہفتے آگے بڑھایا دیاگیا کیونکہ نواز شریف چاہتے تھے کہ علاج کے وقت ان کی صاحبزادی مریم نواز ان کے ساتھ ہوں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے جس کے باعث وہ بیرون ملک نہیں جاسکتیں۔ مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے جبکہ وفاقی کابینہ ان کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی منظوری دے چکی ہے۔
