تحریک انصاف کےعمران کی معافی کیلئے مغربی سفارتکاروں کے ترلے

امریکی سازش اور ایبسیلیوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر بیانیہ بنانے والی تحریک انصاف نے اب اپنے ہی نعرے کے برخلاف امریکی اور مغربی سفارتکاروں سے عمران خان کی جیل سے رہائی کیلئے مدد مانگ لی ہے۔دی نیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی رہائشگاہ پر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی ہےذرائع کے مطابق اس ملاقات میں امریکی سفیر، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کے ہائی کمشنر اور ناروے اور یورپی یونین کے سفیربھی موجود تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں تحریک انصاف کے سینیٹرعلی ظفر بھی شاہ محمود قریشی کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پرشاہ محمود قریشی کی جانب سے سفیروں کوعمران خان کو اٹک جیل میں رکھنے کے حالات کے بارے میں بریف کیا گیا۔اس موقع پر تحریک انصاف کی ٹیم نے امریکی سفیر سے سائفر ایشو اور عمران خان کے خلاف مقدمہ کے اندراج پر بھی بات کی۔ تحریک انصاف کی ٹیم نے سفیروں پر زور دیا کہ وہ عمران خان کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے غیر ملکی سفیروں سے رابطہ کیا ہے، شاہ محمود قریشی، رؤف حسن اور سینیٹر علی ظفر نے مختلف ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہےکہ ناشتے پر ہونے والی ملاقات میں پی ٹی آئی قیادت نے غیر ملکی سفیروں سے چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملے پر مدد طلب کی، سفارت کاروں کو چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کے حالات کے بارے میں بریف کیا گیا، پی ٹی آئی ٹیم نے امریکی سفیر سے سائفر ایشو اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدموں پر بات کی اور ملک کی سیاسی صورت حال اور انتخابات پر بھی بریف کیا۔
دوسرئ جانب شاہ محمود قریشی نے مغربی سفارتکاروں سے ملاقات کی تردید کی ہے تاہم رؤف حسن اور سینیٹر علی ظفر نے تصدیق کی ہے۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن کے مطابق آسٹریلیا کے ہائی کمیشن نے ناشتے پر بلایا تھا، ہم نے پاکستان کی سیاسی صورت حال سے سفارت کاروں کو آگاہ کیا۔سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہےکہ ملاقات میں دہشت گردی کے بڑھتے رجحانات اور علاقائی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، آنے والے انتخابات اور سیاسی معاملات پر بھی وہاں موجود سفیروں سے گفتگو ہوئی۔
جہاں ایک طرف پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کی رہائی کیلئے مغربی ممالک کے ترلے اوف منتیں شروع کر رکھی ہیں وہیں دوسری طرف ذرائع کا دعوی ہے کہ اٹک جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو بیرون ملک بھیجنے کی پیشکش کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا جارہا ہےاور اس حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے فضا بنائی جارہی ہے جس کے تحت آنے والے قومی انتخابات میں ملک کی بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی دوسری جماعتوں کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کیلئے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ تاہم ذرائع کے مطابق تینوں جماعتوں کے قائدین کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین اور راہنما مسلسل یہ اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے قائد میاں نواز شریف چوتھی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنیں گے اور انتخابات میں حصہ لینے کیلئے جلد ہی پاکستان واپس آکر انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ لیکن ان کی راہ میں قانونی اور آئینی پیچیدگیاں موجود ہیں اس لئے ان کے مخالفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس بناء پر میاں نواز شریف کی وطن واپسی انتہائی مشکل ہوگی اور اگر وہ وطن واپس آنے کا ارادہ کر بھی لیتے ہیں تو انہیں وطن واپسی پر پہلے جیل جانا پڑے گا، جبکہ دوسری طرف سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ مسلسل یہ دعویٰ ببانگ دہل کر رہے ہیں اور ٹی وی پروگرامز میں بھی اس دعوے کا بار بار اظہار کر رہے ہیں کہ ’’ہماری بات ہوچکی ہے میاں نواز شریف وطن واپس بھی آئیں گے اور ہرگز جیل نہیں جائیں گے بلکہ انتخابی مہم کی قیادت کریں گے‘‘
