تحریک لبیک والے بار بار رنجیت سنگھ کا مجسمہ کیوں توڑتے ہیں؟

لاہور میں شاہی قلعے کے باہر نصب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو تین برس میں تیسری بار تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند ہتھوڑا بردار شخص نے اچانک حملہ کر کے توڑ دیا اور مہاراجہ کو اسکے گھوڑے سے نیچے گرا دیا۔ یاد رہے کہ اس مجسمے کو پہلی مرتبہ اگست 2019 میں اور دوسری مرتبہ دسمبر 2020 میں توڑا گیا تھا اور دونوں واقعات میں تحریک لبیک کے کارکنان ملوث تھے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق 17 اگست 2021 کو رضوان نامی ایک سفید ٹوپی پہنے باریش نوجوان نے مجسمے پر ہتھوڑے سے حملہ کیا اور لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے اسے شدید نقصان پہنچایا۔ ترجمان کے مطابق رضوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پرانے لاہور کی دیکھ بھال کے لیے قائم ادارے والڈ سٹی اتھارٹی نے مجسمہ گرائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجسمے پر حملہ کرنے والے ملزم کو شاہی قلعہ انتظامیہ نے اسی وقت پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ انہوں نے مجسمے کی حفاظت پر معمور سیکیورٹی والوں کی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ والڈ سٹی اتھارٹی نے مجسمے کو دوبارہ بحال کرنے کی کارروائی شروع کر دی یے۔ ترجمان ورلڈ سٹی نے بتایا کہ پہلے دو حملوں کے بعد مجسمے کی حفاظت کی خاطر اس کے ارد گرد ایک حفاظتی جنگلہ لگایا گیا تھا لیکن چبوترے کی اونچائی کم ہونے کی وجہ سے 17 اگست کے روز حملہ آور اس جنگلے کو پھلانگ کر اندر جا گھسا اور مجسمہ توڑ دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق منگل کی صبح پونے نو بجے کے قریب ایک شخص جس نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی، مجسمے کے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔ 10 منٹ تک یہ شخص مجسمے کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ جس کے بعد اچانک اس نے مجسمے کے گرد بنا جنگلہ پھلانگ کر ہتھوڑے سے حملہ کر دیا۔ مجسمہ گرانے کے بعد یہ شخص لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتا رہا۔ حسب سابق واردات مکمل ہونے کے بعد شاہی قلعہ کے سکیورٹی گارڈز نے اسے حراست میں لے لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔
اس سے پہلے اگست 2019 میں تحریک لبیک کے دو کارکنان نے لکڑی کی لاٹھیوں سے رنجیت سنگھ کے مجسمے پر حملہ کر کے اسے توڑ دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا بھارت کی جانب سے جموں کشیمر کو اپنا حصہ بنانے کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا۔ بعد ازاں دسمبر 2020 میں تحریک لبیک کے ذیشان نامی کارکن نے رنجیت کے مجمسے پر دوبارہ حملہ کیا اور اسکا ایک بازو ہتھوڑا مار کر توڑ دیا جسے گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم دونوں مواقع پر پر تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کو چند روز بعد رہا کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہی قلعہ میں ایک سکھ حکمران کے مجسمے کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔
یاد رہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یہ مجسمہ ان کی 180ویں برسی پر لندن میں مقیم نامور سکھ ادیب، تاریخ دان اور فلم میکر بوبی سنگھ بنسال نے بنوا کر بطور تحفہ شاہی قلعے کی انتظامیہ کو دیا تھا۔ مجسمے کی رونمائی مائی جنداں حویلی میں کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے لاہور کے شاہی قلعے کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 17 اگست کو رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑنے والے زبیر نامی تحریک لبیک کے کارکن نے اپنے ابتدائی بیان میں یہ غلط العام کہانی دہرائی کہ چونکہ رنجیت سنگھ مسلمانوں کا قاتل تھا، اس لئے اس نے اسکا مجسمہ توڑا ہے۔ باریش حملہ آور کا کہنا تھا کہ وہ بت شکن مسلم حکمران سلطان محمود غزنوی کا پیروکار ہے اور شاہی قلعہ میں ایک سکھ حکمران کا مجسمہ نصب کئے جانا اسکے لیے ناقابل برداشت ہے۔ خیال رہے کہ یہ مجسمہ شاہی قلعہ کی مائی جندہ حویلی میں 28 جون 2019 کو نصب کیا گیا تھا۔ اس مجسمے کی اونچائی نو فٹ ہے اور اس میں سنہری دھات سے بنا مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک گھوڑے پر سوار دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم علمی اور ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ پڑھیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ رنجیت سنگھ بنیادی طور پر ایک ایسا سیکولر حکمران تھا جو تمام مذاہب کی برابر عزت کرتا تھا خصوصا اسلام کی۔ رنجیت سنگھ نے اپنی حکومت بابا گرونانک کے فلسفے پر چلائی اور کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب کی تاریخ کا واحد حکمران تھا جسکی فوج میں مسلمان ہندو اور سکھ تینوں مذاہب کے لوگ اہم عہدوں پر فائز تھے۔ رنجیت سنگھ کے قریب ترین لوگوں میں انکے وزیر خارجہ فقیر عزیز الدین کے علاوہ نور الدین، امام الدین، محی الدین، سلطان محمود اور دیگر کئی نامی گرامی مسلمان بھی شامل تھے جنہوں نے اس کے دور میں اہم عہدے سنبھالے رکھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں اور اس کا مجسمہ توڑنے والوں کو ایک واقعہ سنانا بہت ضروری ہے۔
ایک مرتبہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے وزیر خارجہ فقیر عزیز الدین سے کہا ‘رب چاہتا ہے کہ میں ہر مذہب کو ایک نظر سے دیکھوں اس لیے رب نے مجھے صرف ایک آنکھ ہی دی ہے’۔ فقیر عزیز الدین اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اس بات چیت کا ذکر کرتار سنگھ دوگل کی کتاب ‘رنجیت سنگھ ، دی لاسٹ ٹو لے آرم’میں کیا گیا ہے۔ فقیر عزیز الدین کی طرح کئی اور مسلمان بھی مہاراجہ رنجیت کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے جنھیں ان کے مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی خصوصی صلاحیتوں کی وجہ سے ان عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت خود ایک پکے سکھ تھے اور ان کا عقیدہ گروہ گرنتھ صاحب پر تھا۔ اس کے باوجود مہاراجہ رنجیت سنگھ کا رحجان کسی ایک مذہب کی طرف نہیں تھا۔
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں رنجیت سنگھ کو ایک بہترین سیکولر حکمران قرار دیا جاتا ہے۔ وہ خود ایک پکے سکھ تھے لیکن انھوں نے اپنی حکومت، فوج اور اپنے رویے میں مذہب کو کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ لہذا مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں اور اس کے اصل مقام کو جانیں۔
