پاکستان میں طالبان امارات اسلامی کے قیام کا کتنا امکان ہے؟

20 برس بعد کابل پر افغان طالبان کے دوبارہ قبضے سے پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنجز بڑھ گئے ہیں اور اسے سلامتی کے خطرات لاحق ہو گے ہیں جسکی بنیادی وجہ یہ خدشات ہیں کہ اب پاکستانی طالبان کے حوصلے بھی بلند ہو جائیں گے اور وہ ملک واپس آ کر دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کی فتوحات دیکھ کر ان کے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وہ پاکستانی ریاست کو نہ صرف چیلنج کرسکتے ہیں بلکہ اس کو شکست دے کر افغان طالبان کی امارات اسلامی کی طرز پر یہاں بھی ایک آزاد ریاست قائم کر سکتے۔
واضح رہے کہ افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے اور اب تقریباﹰ پورا افغانستان عسکریت پسند گروہ طالبان کی ‘امارات اسلامیہ‘ کے قبضے میں ہے۔ ناقدین کے مطابق افغان طالبان کے برسراقتدار آنے سے پاکستان کی سلامتی کے لیے مسائل پیدا ہونے والے ہیں کیوں کہ نہ صرف بڑی تعداد میں سرحد پار بھاگ جانے والے پاکستانی طالبان واپس آنا شروع ہوجائیں گے بلکہ پاکستان میں موجود ان کے ساتھی بھی متحرک ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ 2014 کے فوجی آپریشن کے بعد بیشتر پاکستانی طالبان رہنما افغانستان فرار ہو گئے تھے جہاں سے وہ کراس بارڈر حملے کیا کرتے تھے۔ لیکن پاکستان اپنے تمام تر اثر و رسوخ کے باوجود اُن ٹی ٹی پی اور داعش رہنماؤں کو ختم نہیں کر پایا جنہوں نے افغانستان میں پناہ لی تھی۔ جب کبھی اسلام آباد نے افغان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو یہی کہا گیا کہ وہ ایسے سرحدی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں جہاں افغان فوج کی عمل داری نہیں ہے لہذا ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن اب سقوط کابل کے بعد پاکستانی سکیورٹی حکام کو انہی طالبان رہنماؤں کے متحرک ہو جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان ميں روسی افواج اور مجاہدين کے مابين 1979 سے لے کر 1989 تک دس برس جنگ جاری رہی۔ سرد جنگ کے دور ميں سوويت افواج کو شکست دينے کے ليے امريکا، برطانيہ، پاکستان، ايران، سعودی عرب، چين اور ديگر کئی ملکوں نے افغان مجاہدين کی مدد کی۔ 1989ء ميں سوويت افواج کی واپسی کے بعد بھی مجاہدين نے صدر نجيب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے ليے مسلح کارروائياں جاری رکھيں۔ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے ایک بار پھر پاکستان کو سکیورٹی کے حوالے سے خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے قید دہشت گردوں کو رہا کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا، ”افغان حکام نے گزشتہ بارہ سالوں میں ٹی ٹی پی کے کئی دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہوا تھا جو ان کی جیلوں میں تھے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے سے جہاں دوسرے قیدی رہا ہوئے ہیں وہاں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھی رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وہیں رہیں گے یا پاکستان میں آکر ہمارے لیے مسائل کھڑے کریں گے اورسکیورٹی فورسز پر حملے کریں گے۔‘‘
یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی نے حال ہی میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ پاکستانی قبائلی علاقوں کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے فوج کے تسلط سے آزاد کروائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے بقول یہ اعلان پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان نظریاتی طور پر بھائی ہیں۔ اگر پاکستان نے افغان طالبان کے ذریعے ان کو گرفتار نہیں کیا تو پاکستان کے لیے بہت بڑا نیشنل سکیورٹی مسئلہ کھڑا ہو جائے گا، جس کو حل کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹی ٹی پی کے سربراہ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ لیکن اب ایک آزاد ریاست کی بات کرنا نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی طالبان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں اور افغان طالبان کی فتوحات دیکھ کر ان کے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وہ پاکستانی ریاست کو نہ صرف چیلنج کرسکتے ہیں بلکہ اس کو شکست دے کر ایک آزاد ریاست بھی قائم کر سکتے ہیں۔ اگر افغان امارات اسلامی ٹائپ ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کی گئی تو یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا درد سر بنے گی۔
دفاعی تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی کے لوگ حملہ کر کے افغانستان کے کچھ علاقوں میں چھپ جاتے تھے لیکن اُس وقت وہاں پر کیوں کہ افغان حکومت اور نیٹو کی فوجیں ہوا کرتی تھی، اس لیے بہت سارے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے۔ لیکن اب ایسی پریشان کن خبریں آرہی ہیں کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو، جس میں مولوی فقیر بھی شامل ہیں، افغان طالبان نے رہا کردیا ہے۔ یہ خبر پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔‘‘ ان کے بقول ٹی ٹی پی اگر پاکستان میں اب کوئی عسکریت پسندی کی تحریک شروع کرتی ہے، تو ان کے لیے یہ بڑا آسان ہو گا کہ یہاں سے حملے کر کے وہ اپنے نظریاتی بھائیوں کے پاس افغانستان میں پناہ لے لیں اور پاکستان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
لہازا انکے خیال میں پاکستان کی سکیورٹی کا یہ تقاضا ہے کہ پاکستان فوری طور پر افغان طالبان سے مطالبہ کریں کہ ٹی ٹی پی کے جتنے بھی دہشت گردوں کو رہا کیا گیا ہے ان کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ ان کو پاکستان لا کر ان پر کیاز دائر کیے جائیں۔ اگر ان کو افغانستان میں ہی رہنے دیا گیا، تو یہ پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن کر ابھریں گے۔
