نیب میں دو بڑوں کی لڑائی، ایک دوسرے کو چور قرار دینے لگے

قومی احتساب بیورو میں دو بڑوں کی جنگ میں تیزی آنے کے بعد چوروں نے ایک دوسرے کے ماضی کے کارناموں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ اور اسکی لائی حکومت کے ایما پر اپوزیشن رہنماوں کا احتساب کرنے والے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کی اپنی مبینہ کرپشن کے خلاف نیب میں ہی ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ نیب کے لاہور آفس نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو انکے نمبر ٹو حسین اصغر کی کرپشن کے خلاف ایک شکایت بھیجی ہے جس میں کہ نیب چیئرمین سے قانونی کارروائی شروع کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ اس شکایت میں چیئرمین جاوید اقبال سے نیب کی کارروائی کے پہلے مرحلے یعنی شکایت کی تصدیق کا عمل شروع کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔
سینئیر صحافی انصار عباسی کی جنگ میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نیب کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ نیب لاہور آفس نے چیئرمین نیب کو ایک شکایت بھیجی ہے جس میں حسین اصغر کی بطور پولیس افسر کرپشن کا ذکر ہے۔ یاد رہے کہ حسین اصغر ریٹائرڈ پولیس افسر اور نیب کے موجودہ ڈپٹی چیئرمین ہیں اور انکی ریپوٹیشن بھی جسٹس جاوید اقبال جیسی ہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حسین اصغر کیخلاف یہ شکایت اس زمانے کی ہے جب وہ کمانڈنٹ پنجاب کنسٹیبلری تعینات تھے۔ شکایت گزار نے 2016 اور 2017 کی آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حسین اصغر نے پنجاب کنسٹیبلری میں غیر قانونی بھرتیاں کیں اور سرکاری فنڈز سے 30 کروڑ روپے کی خرد برد کی۔ یہ الزام بھی ہے کہ بطور پنجاب کنسٹیبلری کے سابق کمانڈنٹ حسین اصغر نے جعلی بھرتیوں کے لیٹر جاری کیے اور ان جعلی بھرتی کردہ ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بھاری رقوم نکلوائیں۔
چیئرمین نیب کو بھیجی گئی شکایت میں آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بے ان تمام ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسا کرنے سے قومی خزانے کو 30؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ماضی میں سابق ڈپٹی چیئرمین نیب امتیاز تاجور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا تو انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ مارچ 2017ء میں نیب کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین نیب کیخلاف کیس درج ہونے کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر زیر غور آیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عہدے کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین فوری طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر رخصت پر چلے جائیں اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی پوزیشن کلیئر کریں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین کیخلاف ایف آئی اے نے کرپشن کا کیس درج کیا تھا۔ 2017ء میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جب امتیاز تاجور کے پاس نادرا کا ایڈیشنل چارج تھا اس وقت انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کرپشن کی اسلئے ان کیخلاف پریونشن آف کرپشن ایکٹ کے سیکشن 5(2)47 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوسری جانب حسین اصغر کے قریبی ذرائع کے مطابق انکے استعفی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اپنے خلاف تمام الزامات کو غلط ثابت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ان کے خلاف ہیں اور جب سے انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے انہیں قبول ہی نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا مذید کہنا یے کہ احتساب بیورو میں کچھ سینئر عہدیدار حسین اصغر سے سخت ناخوش ہیں کیونکہ وہ براہ راست شہزاد اکبر کو رپورٹ کرتے ہیں اور انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے جسٹس جاوید اقبال سمیت کئی افسران کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔ ان دعووں کی تصدیق تو نہیں ہو پائی تاہم اتنا ضرور کنفرم ہوا ہے کہ حسین اصغر کی نیب میں تعیناتی سے پہلے اسٹیبلشمنٹ جسٹس جاوید اقبال کے ذریعے اپنا احتسابی ایجنڈا آگے بڑھاتے تھی لیکن بعد ازاں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین کی تعیناتی کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب کی کارروائیوں میں تیزی آگئی اور نیب میں جاوید اقبال اور اسٹیبلشمنٹ کا اثر رسوخ کم پڑگیا۔ اس کے بعد سے نہ تو جاوید اقبال اور نہ ہی انکی سرپرست فوجی اسٹیبلشمنٹ حسین اصغر سے خوش ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے قربت کا دعوی کرتے ہیں اور انہی کا نام کے کر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مرضی کے کیسز بنواتے اور چلواتے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چونکہ جسٹس جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ تقریب ہے اس لئے حسین اصغر چیئرمین نیب کے عہدے کے امیدوار بھی بن چکے ہیں۔
