تحریک لبیک کا لانگ مارچ کپتان حکومت کے لیے نیا درد سر


پہلے سے ہی مختلف چیلنجز میں گھری ہوئی عمران خان حکومت کو اب تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان نے ایک اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر تحریک لبیک کے مظاہرین کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے نہ روکا گیا تو وہ ایک بار پھر فیض آباد پر دھرنا دے دیں گے جسے کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں کالعدم تحریک لبیک نے 23 اکتوبر بروز جمعہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ تحریک لبیک کے ترجمان کے مطابق ان کی جماعت اور کارکن بعد از نماز جمعہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کریں گے۔
یاد رہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے لاہور میں تحریک لبیک کے کارکن دھرنے پر بیٹھے تھے اور انکا مطالبہ تھا کہ وفاقی حکومت انکے سربراہ علامہ سعد رضوی کی رہائی کے علاوہ انکی جماعت کے ساتھ چند ماہ پہلے طے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد کرے۔
تاہم کپتان حکومت کے لیے پریشانی یہ ہے کہ اس معاہدے میں بنیادی نکتہ پاکستان سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ اگر تحریک لبیک کے مطالبے پر پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا گیا تو پاکستان کے یورپی ممالک سے تعلقات کشیدہ ہو جائیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان یورپی ملکوں سے باہر ہو جائے گا جس کا ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
چنانچہ حکومت نے اسلام آباد کی طرف تحریک لبیک کا مارچ روکنے کے لئے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں۔ سگیاں پل اور راوی پل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور تحریک لبیک کے قافلوں کو لاہور سے روانہ ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ لاہور پولیس نے تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنوں کو لاہور سے اسلام آباد جانے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا ہے۔
اس سے پہلے تحریک لبیک نے لاہور میں عید میلاد النبی کے موقع پر اپنے مرکزی جلسے کو ’پرامن احتجاجی دھرنے‘ میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ماضی میں تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ تنظیم کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر اپریل میں ہونے والا معاہدہ پورا نہ کیا گیا تو جمعرات کی شام آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
تحریک لبیک کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے سے بار بار ’روگردانی‘ کی گئی ہے۔ ان سے تین دن میں معاہدے پر عملدرآمد کا کہا گیا تھا جبکہ اب چھ ماہ گزر گئے لیکن معاہدے کی ایک شق پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ لہذا اب مزید انتظار نہیں کیا جائے گا اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغا ہو گا۔
بتایا گیا ہے کہ لاہور کے علاوہ راولپنڈی کی پولیس نے بھی مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر تحریک لبیک کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کالعدم تنظیم کے کارکنوں پر چھاپوں کا سلسلہ خفیہ اداروں کی رپورٹس روشنی میں کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے متحرک کارکن لاہور میں دھرنا دینے کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد پر دھرنا دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق جب سے قانون نافد کرنے والے اداروں نے چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے بعد سے متعدد کارکن انڈر گراونڈ چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے فیض آباد انٹر چینج پر کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے کافی بڑی تعداد میں پولیس کی نفری تعینات کر دی ہے۔
یاد رہے کہ تحریک کا اپریل میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد ختم کیا گیا تھا۔
تاہم اس احتجاجی دھرنے کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ دھرنا واقعی معاہدے کی پاسداری ہے یا پسِ پردہ جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل تحریک لبیک کا بنیادی مطالبہ علامہ سعد رضوی کی رہائی ہے لیکن وہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی شحص کو نظربند رکھنے کی ایک مدت ہوتی ہے لیکن سعد رضوی کے معاملے میں لگتا ہے کہ ریاست ابہام کا شکار ہے کیونکہ پہلے یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ آیا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں بھیج دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر حکومت اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہے تو اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ ماضی قریب میں تحریک لبیک کے کارکنوں نے لاہور میں جو دھرنا دیا تھا اس کی وجہ سے لاہور میں تین دن تک زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ چناچہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تحریک لبیک کے اسلام آباد لانگ مارچ کو رکوانا چاہتی ہے تو بہتر ہوگا کہ سعد رضوی کو رہا کر دیا جائے۔ خفیہ ایجنسیوں نے بھی وزارت داخلہ کو آگاہ کیا ہے کہ اگر تحریک لبیک کے مظاہرین کو فوری طور پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے نہ روکا گیا تو وفاقی حکومت کے لیے ایک بڑی مشکل پیدا ہو جائے گی اور اگر ٹی ایل پی کا اجتماع فیض آباد دھرنے میں بدل گیا تو پھر سے قابو کرنا ناممکن ہوگا۔

Back to top button