نیب آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ، درخواست میں بنیادی زور صوبائی وفاقی کابینہ، ان کی کمیٹیوں کو دیئے جانے والے تحفظ اور قومی احتساب بیورو (نیب) چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے عہدے کی مدت میں توسیع پر دیا گیا ہے۔
چونکہ درخواست گزار نے قومی احتساب آرڈیننس (دوسری ترمیم) 2021 کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا لہٰذا درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا، سماعت کے دوران درخواست گزار لطیف قریشی کے وکیل جی ایم چوہدری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرڈیننس کی دفعہ 4 میں تمام حکومتی مشینری کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دفعہ وفاقی اور صوبائی کابینہ، کاروباری برادری، کمیٹیوں یا ذیلی کمیٹیوں کے مشترکہ فیصلے، مشترکہ مفادات کونسل، قومی اقتصادی کونسل، قومی مالیاتی کمیشن، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی، صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی، محکمہ جاتی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو نیب کے دائرہ کار سے خارج کرتی ہے۔
آرڈیننس کے مطابق وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکسوں سے متعلق تمام معاملات ، دیگر محصولات یا منافع بشمول ریفنڈز، یا ٹیکس سے متعلق خزانے کے نقصان سے ریونیو اور بینکنگ قوانین کے مطابق نمٹا جائے گا اور ان معاملات کو احتساب عدالت سے متعلقہ دائرہ کار کی عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کا دائرہ کار صرف چپڑاسی تک محدود رہ گیا ہے ، قانون کی نوعیت امتیازی ہے کیونکہ یہ مخصوص طبقے کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو آئین کی دفعہ 25 کی روح کے منافی ہے۔جی ایم چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت غیر معینہ مدت تک کے لیے بڑھائی ہے کیونکہ قانون میں موجودہ چیئرمین کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی تعینیاتی کے لئے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت قانون اور دیگر فریقین کے علاوہ سیکریٹری قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی کہ کیا آرڈیننس ایوان میں پیش کیا گیا تھا یا نہیں۔
سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کڈنی ہلز ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کر دی جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیب آرڈیننس دوسری ترمیم کے بعد یہ معاملہ نیب کے دائرہ کار سے خارج ہو چکا ہے۔عدالت نے سلیم مانڈوی والا کی درخواست پر نیب کے پروسیکیوشن ونگ سے جواب طلب کرلیا اور مزید سماعت 3 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔
