تحریک لبیک کا مارچ وزیر آباد سے نکلنے کے لیے کوشاں

گوجرانوالہ سے وزیر آباد شہر پہنچنے والا تحریک لبیک کا لانگ مارچ راستے میں موجود رکاوٹوں کے باعث اسلام آباد جانے کے لیے متبادل راستہ اپنانے کی کوششوں میں ہے جس کے بعد رینجرز نے قافلے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحریک لبیک کے مظاہرین کےمابین تصادم کے امکانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعے سے شروع ہونے والے اس لانگ مارچ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ وزیرآباد میں موجود تحریک لبیک کے کارکنان کی تعداد کئی ہزار ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران انھیں شہر کے مختلف مقامات پر رینجرز کی جانب سے شیلنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد لانگ مارچ کے شرکا تھوڑا سا پیچھے گئے تاہم اس وقت وہ شہر کے اندر ہی موجود ہیں اور وزیر آباد سے نکلنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ اس وقت لانگ مارچ کے شرکا کی پیش قدمی روکنے کے لیے رینجرز آ چکے ہیں اور ان کے پیچھے پولیس کی نفری موجود ہے۔
علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹی ایل پی کی قیادت وزیرآباد کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے اپنا خطاب جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر آباد سے اسلام آباد جانے کے لیے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ بائی پاس کے ذریعے ہے جو شہر سے باہر سے ہوتا ہوا جی روڈ کے ذریعے دریائے چناپ کے پل پر آ ملتا ہے۔ دریائے چناپ کے پل سے پہلے مختلف مقامات پر سڑکوں کو توڑ کر خندقیں کھودی گئی ہیں جن میں پانی چھوڑ دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی جانب آنے والا دوسرا راستہ وزیرآباد شہر کے اندر سے گزرتا ہے اور پھر دریائے چناپ کے اسی پل سے آ کر ملتا ہے لیکن اس جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خندقیں نہیں کھودی گئیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لانگ مارچ کے شرکا کے پاس کرینوں کے علاوہ اس بار لکڑی کے بڑے بڑے پھٹے بھی ہیں جو عموماً کسی بھی گڑھے یا کھدے ہوئے مقام کو عبور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ انہیں خندقیں پار کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی سہالہ ریسٹ ہاوس اسلام آباد میں موجود ہیں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب بنانے پر آمادہ ہیں تاہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کی نچلی قیادت ان کے احکامات ماننے کو تیار نہیں اور نہ ہی اب ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے معاہدے پر عملدرآمد سمیت متعدد مطالبات کی تکمیل کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والی تحریک لبیک سے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کیے جائیں گے اور قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے والوں کو مزید کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ ادھر تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کے رکن سرور سیفی نے کہا ہے کہ حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے اور اگر گولی چلی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔
اسوقت صورتحال یہ ہے کہ تحصیل وزیرآباد میں پنجاب رینجرز نے مظاہرین کے لیے تنبیہی بینرز لگا دیے ہیں جن پر تحریر ہے کہ اس علاقے میں امن و امان کی ذمہ داری انھیں سونپی گئی ہے اور انھیں شرپسندوں پر گولی چلانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے لہٰذا مظاہرین واپس چلے جائیں۔ پنجاب حکومت کی درخواست پر رینجرز کو دو ماہ کے لیے صوبے میں تعینات کیا گیا ہے اور انھیں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ پانچ کے تحت پولیسنگ کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔
اس قانون کے تحت مسلح افواج یا نیم عسکری ادارے (رینجرز، فرنٹیئر کور) کو پولیس کے اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جنھیں استعمال کرتے ہوئے پولیس، فوجی یا نیم عسکری اہلکار دہشتگردانہ اقدامات یا انسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں موجود جرائم کو روکنے کے لیے فائرنگ کر سکتے ہیں، بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکتے ہیں اور کسی کی گرفتاری یا اسلحے کی ضبطی کے لیے بغیر وارنٹ کسی جگہ پر داخل ہو سکتے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ رینجرز تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو وزیرآباد میں روکنے کی پوری کوشش کر رہی ہے چونکہ اگر یہ قافلہ وہاں سے نکل گیا تو پھر اسے جہلم پل پر روکنا ناممکن ہوگا۔ وزیر آباد۔کے بعد آنے والے گجرات شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سکیورٹی سخت ہے اور لاہور سے آنے والے تمام راستے بند کر کے دریائے چناب کے پل پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد و راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک کو چاروں جانب کنٹینرز لگا پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔ دونوں شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ تاہم تحریک لبیک کی قیادت کا دعوی ہے کہ انہیں اسلام آباد پہنچنے سے روکنا اب حکومت کے لیے ممکن نہیں رہا۔
