تحقیقاتی ادارے کراچی میں گیس کے اخراج کا سراغ لگانے میں ناکام

کراچی کے علاقے کیماڑی میں مبینہ طور پر گیس لیکیج کے باعث 9 افراد جاں بحق اور 500 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں. جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کروادیا گیا ہے جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے حکام نے مختلف طریقوں سے تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم تا حال اس حوالے سے کسی بھی نتیجے میں پہنچنے میں ناکام ہیں جبکہ دوسری طرف کراچی پورٹ سے متصل علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس سے ہلاکتوں اور شہریوں کے متاثر ہونے کا مقدمہ جیکسن تھانے میں درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 143/20 جیکسن تھانے کے ایس ایچ او ملک عادل کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق کیماڑی میں مسان روڈ، ریلوے کالونی، جیکسن بازار اور اطراف کی آبادی میں زہریلی گیس سے شہریوں کے متاثر ہونے کا عمل گزشتہ شام 6 بجے شروع ہوا تھا۔ ایف آئی آر آج صبح 6 بجے کے وقت پر درج کی گئی ہے جس کے مطابق مقدمے کے اندراج کے وقت تک زہریلی گیس کا شکار ہوکر 5 افراد جاں بحق، 63 متاثر ہوچکے تھے۔ ایف آئی آر میں گیس پھیلنے کی وجوہات کا کھوج لگانے اور ملزمان کو تلاش کرنے کا کہا گیا ہے۔ جیکسن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 284 (زہریلے مواد سے متعلق غفلت برتنے)، دفعہ 321 (انسان کا قتل) اور دفعہ 337 جے (زہریلے مواد سے تکلیف پہنچانا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
گیس کے اخراج سے پے در پے ہلاکتوں کے بعد صوبائی حکومت بھی حرکت میں آگئی ہے اور متاثرہ علاقوں سے رہائشیوں کے انخلا کا حکم دے دیا ہے۔اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی اور رہائشیوں کے انخلا کے احکامات دئیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے زہریلی گیس کی بو کم نہیں ہورہی اور لوگ اب بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔
اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہوا کی سمت میں تبدیلی کے ساتھ بو پھیل رہی ہے‘، ان کا کہنا تھا کہ محفوظ مقامات پر موجود شادی ہالز کو متاثرہ افراد کی رہائش کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے اس واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔
ادھر پولیس نے متاثرہ علاقوں اور وہاں کی آب و ہوا صاف کرنے کے لیے جامعہ کراچی کے اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی مدد مانگ لی ہے جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پی ٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ پاکستان بحریہ بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کی ایک ٹیم نے متاثرہ علاقوں سے نمونے بھی اکٹھے کیے ہیں۔
متعلقہ حکام اب تک معاملے کی درست وجوہات کے حوالے سے لاعلم ہیں، اس سلسلے میں کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ ’ہم اب تک واقعے کی ممکنہ وجہ کا سراغ نہیں لگا پائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر پولیس افسران واقعے کی حقیقی نوعیت کے تعین کے لیے ڈاکٹرزسے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں، ان کے ساتھ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ضلعی پولیس، پورٹ سیکیورٹی فورس، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ٹیمز تشکیل دے دی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں ڈی آئی جی شرجیل کھرل نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ گیس کا اخراج کہاں سے ہوا یہ جانننے کے لیے ویسٹ وہارف کو چیک کیا جارہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیپسول کی شکل کے کنٹینرز کو خاص طور پر چیک کیا جارہا ہے کیوںکہ علاقے کے عوام نے تحقیقات کرنے والوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے اس قسم کے کنٹینرز کو وہاں کھڑے دیکھا تھا۔
دریں اثنا کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین جمیل اختر نے صحافیوں کو بتایا کہ بندرگاہ پر کام معمول کے مطابق جاری ہے، ’تمام ٹرمینلز چیک کیے گئے اور یہاں کہیں سے بھی گیس لیکیج نہیں ہورہی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بندرگاہ سے گیس لیکیج کی خبریں غلط ہیں، ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بندرگاہ سے گیس کا اخراج نہیں ہوا‘۔ انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی کی تمام برتھس کا جائزہ لیا گیا، ان کا ماننا تھا کہ عوام کو بندرگاہ کے حوالے سے اکثر چیزوں کا علم نہیں۔
چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ پاک بحریہ نے کچھ نمونے اکٹھے کیے ہیں اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی اس کی رپورٹ آجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button