زہریلی گیس سے جاں بحق افراد کے خون میں سویابین ڈسٹ کا انکشاف

کراچی کے علاقے کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس پھیلنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے خون کے نمونوں میں سویابین ڈسٹ کی موجودگی کاانکشاف ہواہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے جس کے بعد ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف کمیسٹری ڈیپارٹمنٹ جامعہ کراچی نے رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے خون کے نمونوں میں سویابین ڈسٹ کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویابین ڈسٹ کا مسئلہ 2 سال قبل اسپین میں ہوا تھا جہاں متعدد افراد متاثر ہوئے تھے۔ جامعہ کراچی نے رپورٹ تیار کرکے کمشنر کراچی کو ارسال کردی ہے جبکہ واقعے پر سرکاری سطح پر ابھی کوئی واضح اور حتمی رپورٹ نہیں دی گئی۔
سندھ حکومت کے ترجمان و وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون و ماحولیات مرتضیٰ وہاب نے جامعہ کراچی کی جانب سے رپورٹ جمع کرانے کی تصدیق کردی ہے۔
Preliminary report has been submitted by experts at Khi Uni which suggests that Keamari incident happened due to over exposure of soybean dust which is known to have also caused similar incidents in other parts of the world. This soybean is in a shipment docked at Khi Port
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) February 18, 2020
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کیماڑی کے واقعے پر جامعہ کراچی کے ماہرین نے رپورٹ جمع کرادی جس کے مطابق واقعہ سویابین ڈسٹ کی وجہ سے پیش آیا۔
دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایا کہ آج بحری جہاز سے سویابین کی آف لوڈنگ رکوادی گئی تھی جس کے بعد سے علاقے کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ اُدھر ریسکیو ذرائع کے مطابق علاقے میں شام کے بعد سے اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ 16 فروری کی شام سے کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس کے اخراج سے اب تک 14 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ مبینہ زہریلی گیس سے علاقے کے سینکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے اکثر اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اسپتال میں 10 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
