تصویر کے باعث نوازشریف کا لندن قیام خطرے میں پڑ گیا

پاکستان میں آٹھ ہفتوں کے لئے سزا معطلی کے بعد علاج کی غرض سے برطانیہ میں قیام پذیر سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پینے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باعث نواز شریف کے بیرونِ ملک قیام میں توسیع خطرے میں پڑ گئی ہے چونکہ اس حوالے سے میاں صاحب کی درخواست کا فیصلہ پنجاب حکومت نے ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ابھی کرنا ہے۔
یاد رہے کہ عدالت کی طرف سے میاں صاحب کو علاج کے لیے دی جانے والی آٹھ ہفتوں کی مہلت ملت ختم ہوچکی ہے اور اور انہوں نے بیرون ملک قیام بڑھانے کے لیے حکومت پنجاب کو درخواست دے رکھی ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے میاں نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان کی سزا معطل کرتے ہوئے آٹھ ہفتوں کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی قرار دیا تھا کہ اگر اس عرصے میں ان کا علاج مکمل نہ ہو اور وہ زیادہ عرصہ کے لیے بیرونِ ملک قیام کرنا چاہیں تو اس حوالے سے پنجاب حکومت کو درخواست دے کر قیام کی مدت بڑھا سکتے ہیں۔
علاج کے لیے دی گئی آٹھ ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔ تاہم پنجاب حکومت نے اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اب ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس مانگ لی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب حکومت پنجاب نے میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ محمد حارث سے اس ضمن رابطہ کیا تو خواجہ حارث نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا کہ ان کے پاس میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس نہیں ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر عدنان خان سے رابطہ کریں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایات پر میاں نواز شریف کے ساتھ لندن میں موجود ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان سے رابطہ کرکے انہیں پابند کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حکومت پنجاب کو میاں نواز شریف کی تازہ ترین طبی صورتحال سے آگاہ کریں اور اس حوالے سے تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس بھی پنجاب حکومت کو فراہم کی جائیں۔
دوسری جانب نوازشریف کی لندن ریسٹورنٹ کی تصویر وائرل ہونے کے بعد وفاقی حکومت بھی شدید ندامت کا شکار ہے کیونکہ اس سے عمران خان کا بیانیہ متاثر ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی این آر او نہیں دیا بلکہ ایک شدید بیمار شخص کو علاج کے لیے جانے کی اجازت دی۔ نوازشریف کی فیملی ممبرز کے ساتھ لندن کے ریسٹورنٹ میں ہوا خوری کی تصویر کا چرچا اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھی ہوا۔ وزیراعظم نے ریسٹورنٹ والی تصویر پر انتہائی تعجب کا اظہار کیا اور پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس منگوا کر ان کے لندن میں مزید قیام کے حوالے سے فی الفور کوئی فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں نواز شریف کی لندن روانگی کے وقت وزیراعظم نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ شخص علاج کے لیے باہر نہیں گیا تو کسی بھی وقت وفات پا جائے گا لیکن لندن جانے والی ایئر ایمبولینس میں سوار ہوتے ہوئے ہی ان کی طبیعت اچانک ٹھیک ہوگئی اور ایک دم صحت مند نظر آئے۔
دوسری جانب ن لیگی قیادت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما نواز شریف کی صحت پر سیاست کررہے ہیں، انہیں ’شریف فوبیا‘ سے باہر نکل کر ملک کے اہم مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ اس بارے میں لندن میں موجود میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ڈاکٹر نے نواز شریف کو ماحول تبدیل کرنے کے لیے باہر نکلنے کا کہا تھا کہ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل گھر کے اندر رہنا ان کی صحت کے لیے درست نہیں اس لیے اتوار کے روز وہ تازہ ہوا کھانے باہر نکلے اور ایک ریسٹورنٹ میں چائے پی، یہ سب علاج کا حصہ ہے۔
آرمی ترمیمی ایکٹ میں مسلم لیگ نون کی جانب سے غیر مشروط حمایت کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ نون لیگ نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کر لی ہے اس لیے اب میاں نواز شریف کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے صرف فیس سیونگ کے لیے نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس مانگی ہوں تاکہ اپنے ووٹر کو مطمئن رکھا جاسکے کہ نوازشریف کو بلاوجہ باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم حکومتی ذرائع اس امکان کو بھی رد نہیں کر رہے کہ اگر کسی وقت وزیراعظم جلال میں آگئے تو ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک مزید قیام کی اجازت سے انکار ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button