تنازعات میں گھرا ڈرامہ جلن تو ختم ہوگیا مگر بحث اب بھی جاری ہے

پاکستانی معاشرے کےلیے انتہائی بولڈ اور متنازع موضوع پر مبنی کہانی کی وجہ سے ڈرامہ ‘جلن’ سوشل میڈیا پر مسلسل زیر بحث رہا۔ کبھی اسے معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا گیا تو کبھی اسے نوجوانوں کو خراب کرنے اور رشتوں کے تقدس کی دھجیاں بکھیرنے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈرامے کے آغاز پر ناظرین کو لگا یہ دو بہنوں میں قربانی دینے اور جلن سے لے کر ناجائز فرمائشیں کرنے جیسی کوئی کہانی ہوگی لیکن جوں ہی ایک سالی کا بہنوئی کی دولت اور شان و شوکت دیکھ کر اسے اپنی جھوٹی محبت کا یقین دلا کر بہن کو طلاق دلوانے والا موڑ آیا تو کئی ناظرین کےلیے بات گویا پانی سر سے گزرنے کی حد تک آ گئی۔
ہوا کچھ یوں کے سوشل میڈیا پر اس کے خلاف گرما گرم مباحثے ہوئے اور نوبت پیمرا میں شکایت اور پابندی تک آ گئی۔ گو کہ کچھ مناظر سنسر کیے جانے کے بعد یہ ڈرامہ دوبارہ نشر بھی ہوا اور اختتام پذیر بھی ہوگیا۔
آخری قسط میں کے شائقین کا دکھ دوہرا تھا۔ ایک تو یہ کہ وہ اس ڈرامے کے کرداروں خصوصاً ’مرکزی کردار نشا’ کو بہت مس کریں گے اور دوسرا یہ کہ انہیں یہ اختتام پسند نہیں آیا۔ گو کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کے کسی ڈرامے کا اختتام ناظرین کے من پسند طریقے سے نہ ہوا ہو لیکن اب کی بار شائقین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صرف ڈرامے کو ختم کرنے کےلیے برے کرداروں کو سزائیں دینا ٹھیک نہیں کیوں کہ حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔
ایک ڈائیلاگ جو اس ڈرامے کے آخری منظر میں شامل تھا کہ ’کچھ لوگوں کی سزا اس دنیا میں ہی شروع ہو جاتی ہے‘ کے بارے میں ڈرامے کے ہدایت کار عابس رضا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ جملہ خود لکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈرامے کے مصنف سے خصوصی درخواست کرکے یہ ڈائیلاگ ڈرامے کا حصہ بنایا۔ عابس رضا کا کہنا تھا ان کے خیال میں کسی بھی بُرے کردار کےلیے مر جانا زیادہ آسان ہے لیکن سزاؤں کے ساتھ جیتے رہنا زیادہ اذیت ناک ہے۔ نشا کے کردار کے اختتام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نشا اس ڈرامے کے آخر میں پاگل نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ تو شروع سے ہی جنونی تھی، وہ ایک نفسیاتی مریضہ تھی، اس لیے جنونی کو ڈرامے میں اور پاگل نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک نشا کے آخری منظر میں بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کا تعلق تھا اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی جو جیتنا ہی جانتی تھی اور وہ صرف پا رہی تھی اب اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے واحد وکٹم سے ہار رہی تھی، اسے یہ وہم ہو رہا تھا کہ اس سے ہارنے والی اس کی بہن اب جیت رہی ہے۔ تو وہ بوکھلا رہی تھی۔ ایک دوسرے اہم کردار اسفند کے انجام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں ایک دم نہیں دی گئیں بلکہ یہ سب بتدریج ہوا۔ جیسا کہ اسفند نے نشا کے چھوڑ کر جانے کے بعد پہلے غصے، پھر مینو سے بے وفائی کے پچھتاوے اور پھر شرمندگی کا سفر طے کیا جس کے بعد اس نے خود کشی کی۔
ہدایت کار عابس رضا کا کہنا تھا کہ ڈرامے کا مقصد تھا کہ یہ بتایا جائے کہ وہ تمام ممنوع چیزیں جن میں حسد، نشہ، غیبت شامل ہیں ان کے نتائج معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اور ہمیں کسی بھی معاشرے میں ایک باعزت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرامے میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ خود غرضی جیسی برائیوں کے نتائج برے ہوتے ہیں اور ایسا کرنے والے بدلحاظ ہو جاتے ہیں۔ ڈرامے میں سالی اور بہنوئی کے افیئر کا متنازع موضوع دکھانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انہیں ملا جلا ردعمل ملا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اتنے شدید ردعمل کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں یہ ڈرامہ بنا رہا تھا تو میرے لیے یہ ایک چیلنج تھا کیوں کہ یہ کوئی نیا موضوع نہیں تھا اور پہلے سے دکھائے جانے والے موضوع کو مجھے دوبارہ بنانا تھا۔ انہوں نے اس ایک کہاوت پر بھی اعتراض کیا جس میں کہا جاتا ہے کہ ‘سالی آدھی گھر والی ہوتی ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جو حدود ہیں انہیں پوری طرح سے تسلیم کیا جانا چاہیے اور ڈرامے کے حوالے سے لاگو اخلاقیات کو عام زندگی میں بھی اپنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سالی سالی ہوتی ہے اور گھر والی گھر والی ہوتی ہے اس لیے ان حدود کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک اور بات پر لوگوں کا کافی ردعمل دیکھنا پڑا جس میں ایک منظر میں نشا ابارشن کروا کر آتی ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ نشا کا کردار کبھی سچ نہیں بولتا تھا اس لیے اس منظر کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اس کا کردار ’بچہ نہیں چاہتا‘ اور ممکن ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہو لیکن ناظرین اس کی جزئیات میں چلے گئے کہ ایک لڑکی ابارشن کروانے کے بعد ایسے کیسے ٹھیک ٹھاک چل کر آ سکتی ہے۔ ان کے خیال میں ہمارے ناظرین کو ہر چیز کو ڈائیلاگ کے ذریعے تفصیل سے سمجھائے جانے کی عادت پڑ گئی ہے اس لیے وہ بچوں کی پرورش جیسے اہم موضوع پر زیادہ بحث کرتے دکھائی نہیں دیے حالانکہ یہ بھی ان کے ڈرامے کا ایک اہم موضوع تھا۔ زیادہ تر نئے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اداکاروں میں محنت کرنے کی لگن زیادہ ہوتی اس لیے تمام نئے اداکاروں نے ان کی ہدایت کاری کو سمجھتے ہوئے اپنی بھرپور محنت سے کرداروں کو نبھایا۔
اس سے پہلے اس ڈرامے کی مرکزی کردار ادا کرنے والی منال خان کو شائقین کی جانب سے نفرت بھرا رد عمل بھی پسند آیا۔ کیوں کہ ان کے بقول ان کی نظر میں یہ نفرت ان کے کردار کےلیے ہے ان کےلیے نہیں۔ چونکہ یہ ڈرامہ کہانی کے ایک پہلو کی وجہ سے تنازع کا شکار بھی ہوا اور یہاں تک کہ پیمرا نے اس پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر پابندی تک لگا دی تھی۔ اس حوالےسے وضاحت دیتے ہوئے منال خان کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں دکھائے گئے موضوع میں ‘یہ معاملہ سالی اور بہنوئی کا نہیں تھا لوگوں نے اسے بنا دیا ہے۔ حالانکہ یہ کہانی ایسی لڑکی کی ہے جسے سب کچھ چاہیے۔’ پیمرا کی جانب سے پابندی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ڈرامے کی کہانی اب کھل کر سامنے نہیں آئی تھی۔ منال خان کے خیال میں ‘شائیقین کے ہاتھ میں پابندی کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے انھیں صرف یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ دیکھیں یا نہ دیکھیں۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button