تنقیدسے نہیں گھبراتا، نہ نظریہ پر سمجھوتہ کروں گا

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اصلاحات ایک دردناک عمل ہے جس سے گزرے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نا ہی اپنے نظریے پر سمجھوتہ کروں گا.بڑے ہدف کو پانے کے لیے اپنی کشتیاں جلانی پڑتی ہیں۔فرسودہ نظام میں اصلاحات لانا آسان نہیں ہوتا، کچھ کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جو اب جیل میں ہیں
ڈیووس میں پاکستان بریک فاسٹ میٹ کی تقریب کے دوران کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے مگر اصلاحات کے عمل سے گزرے بغیر ترقی ممکن نہیں جیسے آپریشن کے بغیر ٹیومر نکالنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی اہم شخصیات ڈیووس میں موجود ہیں، یہاں آنے کا مقصد کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ یہاں ایک جگہ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے جن سے ملنے کے لیے آپ کو بہت زیادہ سفر اور اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوومیں میں قیام بہت مہنگا ہے اور حکومت کے پیسے اس پر خرچ کرنا نہیں چاہ رہا تھا تاہم اکرام سہگل اور محمد عمران کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس دورے کو اسپانسر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیووس میں آنے والے تمام وزرائے اعظم میں سب سے سستا دورہ میرا ہوگا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں پر امید رہنا ہوتا ہے، اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیتے ہیں، زندگی میں آگے جانے کے لیے آپ کو مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘غریب اور معاشرے کے نچلے طبقے میں آگے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے، میں نے اپنے ملک کے انتہائی پسماندہ علاقے میں نمل یونیورٹی بنائی، میانوالی کی نمل یونیورسٹی کو بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ڈگری جاری ہوتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘نمل یونیورسٹی میں زیر تعلیم غریب طلبا میں بڑی صلاحیت دیکھنے کو ملی ہے’۔
شوکت خانم میموریل ہسپتال کے قیام کے حوالے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘جب میری والدہ کو کینسر کی بیماری ہوئی تو معلوم ہوا پاکستان میں اس وقت ایک بھی کینسر ہسپتال نہیں تھا، والدہ کی تکلیف دیکھ کر ارادہ کیا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال بناؤں گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لاہور کے بہترین 20 ڈاکٹروں سے ہسپتال کے قیام کے حوالے سے مشاورت کی جن میں سے 19 ڈاکٹر نے کہا کہ آپ ہسپتال نہیں بناسکتے تاہم ہمت نہیں ہاری اور ہسپتال قائم کیا جہاں آج 75 فیصد غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب سیاست میں آیا تب بھی سب میرا مذاق اڑاتے تھے، اس وقت صرف 2 جماعتیں اقتدار میں تھیں تاہم کئی سالوں کی محنت کے بعد اس میں بھی کامیابی حاصل کی’۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے آپ کو پہلے بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں، بڑا ہدف حاصل کرنے کے لیے آپ کو کشتیاں بھی جلانی پڑتی ہے، پاکستان میں ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’60 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھا، پاکستان کی ترقی کے لیے بہترین نظام حکومت ناگزیر ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا جو ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، پاکستان کو قائد اعظم اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے’۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر 14 سونے اور تانبے کی کانیں موجود ہیں، صرف 2 کانوں کا منافع 100 ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ اس کے علاوہ پاکستان میں گیس کوئلے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتہائی باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے تاہم اب تک سابقہ حکومتوں نے افرادی قوت، صحت، تعلیم پر کچھ خرچ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘میرا نظریہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں موجودہ تحریک انصاف کی حکومت صنعتوں کی ترقی کے کے لیے کام کر رہی ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج کرپٹ عناصر کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر روز ایک نئی افواہ پھیلاتے ہیں، ہماری حکومت نے کچھ کرپٹ عناصر کا محاصبہ کیا ہے اور اب وہ جیل میں ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں ریاستی اداروں کی خراب صورتحال کا بھی سامنا ہے جبکہ ایک اور چیلنج سابقہ حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کا انبار ہیں’۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہماری آمدنی کا بڑا حصہ سابقہ حکومت کے قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہوتا ہے جبکہ زیر گردش قرضوں کا حجم اربوں روپے تک بڑھ چکا ہے’۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘اگر مشکل حالات میں آگے بڑھنے کا مجھے تجربہ نہ ہوتا تو شاید میں بھی ہمت ہاردیتا، میں تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نہ ہی کبھی اپنے اہداف پر سمجھوتہ کروں گا’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘فرسودہ نظام میں اصلاحات لانا آسان نہیں ہوتا، اصلاحات ایک درد ناک عمل ہے جس سے گزرے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے مگر اصلاحات کے عمل سے گزرے بغیر ترقی ممکن نہیں جیسے آپریشن کے بغیر ٹیومر نکالنا ممکن نہیں۔انہوں نے عوام کو نہ گھبرانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘تحریک انصاف کی حکومت ملک کے جاری حسابات کے خسارے میں 75 فیصد تک کمی لائی ہے جبکہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں 200 فیصد اضافہ ہوا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ 15 ماہ میرے لیے زندگی کا سب سے مشکل ترین وقت رہا اور اس عرصے میں ہماری حکومت کو مختلف محاذوں پر بڑے چیلنجز کا سامنا رہا’۔انہوں نے کہا کہ ‘مشکل حالات کے بعد اب عوام کو آگے بڑھنے کا جامع روڈ میپ دے سکتے ہیں’۔
پاکستان میں سیاحت کے فروغ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے شمالی علاقوں میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت پہاڑ ہیں، 5 ہزار سال قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں اور 4 بڑے مذاہب کے تاریخی مقدس مقامات بھی موجود ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف سیاحت کو ہی ترقی دے کر پاکستان کو بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘سیاحت سے سوئٹزرلینڈ سالانہ 80 ارب ڈالر اور ترکی 20 ارب ڈالر کمارہا ہے اور ہم بھی سیاحت کو فروغ دے کر پاکستان کی مجموعی برآمدات سے بھی زائد کما سکتے ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button