توہین عدالت میں عمران کا دفاع جھوٹے بیانیے پر مبنی نکلا


سابق وزیراعظم عمران خان نے خاتون جج بارے دھمکی آمیز گفتگو کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ وہ شہباز گل پر دوران حراست ہونے والے بہیمانہ تشدد کی وجہ سے غصے میں آ گئے تھے، لیکن در حقیقت اب تک سامنے آنے والی چھ عدد میڈیکل رپورٹس میں سے کسی ایک میں بھی اس تشدد کی تصدیق نہیں ہو سکی جس کا دعوی ٰخود شہباز گل نے بھی کیا ہے۔ اس تقریر پر توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری ہونے کے بعد اپنا دفاع کرتے ہوئے عمران نے تحریری جواب میں یہ توجیح پیش کی تھی کہ ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گل پر تشدد کے شواہد کے باوجود اسے دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے ساتھ بھیج کر زیادتی کی۔ تاہم خان صاحب کا یہ دعویٰ اب جھوٹا ثابت ہو رہا ہے جس سے انکے خلاف توہین عدالت کیس میں مزید مسائل پیدا ہونے جا رہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ خاتون جج زیبا چوہدری کے سامنے ایسی کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی تھی جس سے ثابت ہوتا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے۔ شہباز گل پر تشدد کا الزام عمران خان نے لگایا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے ساتھ دوران حراست جنسی زیادتی بھی ہوئی ہے۔ لیکن بار بار عدالتی پیشیوں کے دوران شہباز گل نے ایک مرتبہ بھی تحریری طور پر کسی عدالت میں یہ الزام نہیں لگایا کہ اس کیساتھ دوران حراست تشدد ہوا یا جنسی زیادتی کی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان کی جانب سے تشدد کا الزام سامنے آنے کے بعد شہباز گل کا چھ مرتبہ میڈیکل ہوا لیکن کسی ایک بھی رپورٹ میں تشدد کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ایسے میں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ عمران خان کے الزامات جھوٹے تھے اور ان کا بنیادی مقصد ہمیشہ کی طرح صرف ایک بیانیہ تراشنا تھا تا کہ غداری کے الزامات سے عوامی توجہ ہٹائی جا سکے۔

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار شاہ زیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں عمران خان کے الزامات اور شہباز گل کیس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شہباز گل کے خلاف غداری کا مقدمہ 8 اگست کو درج ہوا اور اگلے ہی دن انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل سے مزید تفتیش کے لئے 14 دنوں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، لیکن مجسٹریٹ عمر شبیر نے 10 اگست کو پولیس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے شہباز کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ سنایا۔ دو روزہ ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد جب 12 اگست کو شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لئے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو یہاں شہباز نے پہلی بار خود یہ زبانی الزام لگایا کہ دوران تفتیش اُن پر تشدد کیا گیا اور اُنکا میڈیکل بھی نہیں ہوا ہے، صرف اپنی مرضی سے فرضی میڈیکل بنایا گیا ہے۔ یہی وہ سماعت تھی، 12 اگست کو ہونے والی اس سماعت میں ڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر نے اسلام آباد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے شہباز گل کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دینے کا فیصلہ سنایا۔
اس سماعت کے بعد عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ شہباز گل پر ہونے والے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ کس قانون کے تحت اور کس کے کہنے پر ایسا کیا جا رہا ہے؟ اگر شہباز گل نے کوئی قانون توڑا ہے تو اسے صفائی کا پورا موقع ملنا چاہئے۔ لیکن امپورٹڈ غلام حکومت کے لئے بلاخوف آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شہباز گل پر تشدد کے الزام کی سختی سے تردید کی اور اسے جھوٹا قرار دیا۔اسی دن یعنی 12 اگست کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ریمانڈ مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف ایڈیشنل سیشن کورٹ میں کریمنل ریویو کی درخواست دائر کی جس کو اسی دن، یعنی 12 اگست کو ہی مسترد کر دیا گیا۔ اگلے دن ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، جہانگیر جدون نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ دو دن بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کو شہباز کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو دوبارہ سننے کا حکم دیا۔یعنی، پہلے مجسٹریٹ نے شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست مسترد کی پھر سیشن کورٹ نے بھی مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ معاملہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھیجا۔اس دوران 12 اگست سے لیکر 16 اگست تک، شہباز گل جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں رہے، جبکہ جیل سے باہر پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے جیل میں اُن پر تشدد کا بیانیہ زور پکڑتا رہا۔

پی ٹی آئی رہنما، ٹی وی شوز میں، پریس کانفرنسز میں، اور سوشل میڈیا پر بھرپور بیانیہ بناتے رہے کہ شہباز گل کی جان کو خطرہ ہے، اُن پر تشدد کیا گیا ہے اور ن لیگ کی حکومت شہباز گل پر تشدد کے ذریعے انتقامی سیاست کررہی ہے۔ پھر 16 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کا یہ معاملہ نظرثانی کے لئے دوبارہ سیشن کورٹ کے پاس گیا۔ شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کا کیس، ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے سنا۔ ایک طرف جہاں پی ٹی آئی یہ بیانیہ بنارہی تھی کہ شہباز پر تشدد ہوا ہے، تو دوسری طرف خود عمران خان اس حوالے سے سرگرم تھے۔ مگر جب 16 اگست کو پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر سے پوچھا گیا کہ جب عمران کہہ رہے ہیں کہ شہباز پر تشدد ہوا ہے تو پنجاب حکومت کے ماتحت اڈیالہ جیل میں اُن کا میڈیکل کیوں نہیں کروایا جا رہا؟ اس پر ہاشم ڈوگر نے جواب دیا کہ شہباز نے خود میڈیکل کرانے سے انکار کیا ہے۔ یعنی 16 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم دیا، اسی دن جج زیبا نے شہباز کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا سنی اور اسی دن تحریک انصاف کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے یہ انکشاف کیا کہ شہباز نے خود تحریری طور پر اپنا میڈیکل کرانے سے منع کیا ہے۔

اس کے اگلے روز 17 اگست کو جج زیبا چوہدری نے اپنا تحریری فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی کیس کے تفتیشی افسر کو شہباز گل کا میڈیکل کرانے کا حکم دیا۔ یعنی خود جج زیبا نے حکم دیا کہ شہباز کا میڈیکل کرایا جائے ورنہ پنجاب کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ شہباز نے میڈیکل کرانے سے انکار کردیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ شہبازگل کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور پھر خبر آئی کہ عمران نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ شہباز گل کو کسی صورت، پنجاب حکومت کی ماتحت اڈیالہ جیل سے وفاقی حکومت کے ماتحت اسلام آباد پولیس کے حوالے نہ کیا جائے اس حوالے سے یہ خبریں بھی رپورٹ ہوئیں کہ اُن کی جانب سے پولیس کو دھمکی دینے اور اُس پر اپنے وزراء کی جانب سے اثرانداز ہونے کے لئے دباؤ بھی ڈالا گیا ہے۔ لیکن، بالآخر، 4 گھنٹوں کی تاخیر کے بعد شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا اور پولیس انہیں پمز ہسپتال لے گئی۔

پمز میں شہباز گل کا ابتدائی میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ اس دوران ان کے وکلاء نے اُن کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے اور جیل میں اُن پر تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ جبکہ اس دوران اُن پر جنسی تشدد کے بھی سنگین الزامات لگائے گئے۔ جب شہباز گل پمز ہسپتال میں داخل تھے تو اس دوران دو بار اور دو میڈیکل بورڈز نے انکا طبی معائنہ کیا۔

پہلا میڈیکل بورڈ 4 رکنی تھا جس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شہباز کا معائنہ کیا، ان کو بچپن سے ایستھیما ہے، اور ضرورت پڑنے پر وہ دوائی استعمال کرتے ہیں۔ شہباز کو سانس لینے میں دشواری کی شکایت ہے، اور وہ جسم کے پچھلے حصے اور سینے میں بائیں طرف درد محسوس کررہے ہیں۔میڈیکل بورڈ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مریض کو مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ اور انہیں کارڈیالوجسٹ کا معائنہ درکار ہے۔ اس کے اگلے ہی دن پمز اسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کا دوبارہ معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ کے نتیجے میں لکھا کہ شہباز گل کی میڈیکل رپورٹس اور کارڈیالوجسٹ کی رائے اور رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مریض مستحکم ہے۔ انہوں نے لکھا کہ شہباز دمہ کے مریض ہیں لیکن فی الحال اس کے کوئی آثار نہیں ہیں جس کے بعد مشورہ دیا گیا کہ انہیں ڈسچارج کردیا جائے۔ یعنی ان رپورٹس میں بھی شہباز گل پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ دو دن پمزاسپتال میں داخل رہنے کے بعد شہباز کو اسپتال انتظامیہ نے صحت مند قرار دیتے ہوئے 19 اگست کی صبح سوا 7 بجے اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا جو جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے لئے انہیں سیدھا سیشن کورٹ لے کر چلی گئی۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز گل کو عدالت وہیل چیئر پر لایا گیا اور وہ کمرہ عدالت کے باہر اور اندر روتے ہوئے سانس اکھڑنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے آکسیجن ماسک کا مطالبہ کرتے رہے۔اس سماعت کے بعد عدالت نے پمز اسپتال کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں طبی معائنے کے لئے 22 اگست تک دوبارہ پمز اسپتال بھیج دیا۔ اس دوران شہباز کی اسپتال کی ویڈیوز لیک ہوئیں جن میں وہ صحت مند نظر آرہے تھے اور پولیس سے باتیں کررہے تھے، کبھی پولیس سے کھانے کا کہہ رہے تھے تو کبھی ڈاکٹرز انہیں زبردستی کھانا کھلا رہے تھے۔ جج زیبا چودھری کے 17 اگست کے فیصلے کے مطابق شہباز کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ 20 اگست کو ایک جلسے میں عمران نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی جی کو دھمکی دے دی اور زیبا چوہدری کا براہ راست نام لے کر کہا کہ مجسٹریٹ صاحبہ، زیبا۔۔ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے خلاف بھی ہم ایکشن لیں گے۔ اور عمران خان صرف یہیں تک نہیں رُکے بلکہ اگلے دن اپنی اس دھمکی آمیز گفتگو کا دفاع بھی کیا۔ چنانچہ 22 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکی دینے پر عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس کے دفاع میں عمران نے یہ موقف اپنایا کہ وہ شہباز گل پر پولیس تشدد کی وجہ سے غصے میں آ گئے تھے۔ تاہم سچ یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی میڈیکل رپورٹ میں شہباز گل پر تشدد کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ یاد رہے کہ توہین عدالت کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button