اوورسیزکوغیرملکی ظاہر کرنے پرالیکشن کمشین کو نوٹس

لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو اوورسیزپاکستانیوں کوغیرملکی ظاہر کرنے پرنوٹس جاری کردیا۔

عدالت عالیہ لاہورتحریک انصاف کیخلاف ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو چیلنج کرنے والی بیرون ملک مقیم پاکستانی خاتون کی درخواست پر جمعہ کو الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کر دیے جہاں مبینہ طور پر درخواست گزار کو غیر ملکی ظاہر کیا گیا ہے۔

ایک مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں رہنے والی بینش فریدی نے اپنے خصوصی اٹارنی کے ذریعے درخواست دائر کی اور ساتھ ہی ’فارن فنڈنگ کیس‘ میں پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا۔

درخواست گزار بینش فریدی کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق پیش ہوئے اور عدالت میں بیان دیا کہ ’فارن نیشنل ڈونر‘ سے متعلق اسکروٹنی رپورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی قومیت کا غلط تعین کیا گیا،پاکستان کے شہریوں اور بیرون ملک رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر سامنے آئی اور غیر ملکی قومی عطیہ دہندہ کے طور پر اپنی حیثیت کی تردید کی، انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کے دوران معلومات کی تصدیق نہیں کی۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق ذاتی معلومات طلب کرکے قانون کی خلاف ورزی کی اور بغیر کسی تصدیق کے ایسے ڈیٹا پر اندھا اعتماد کیا، ایک سیاسی جماعت کا رکن ہونے کے ناطے ہر شہری کو آئینی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کو جمہوری طریقے سے منتخب کرنے کے لیے جائز سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی عمل میں حصہ لے۔

انکا کہناتھا الیکشن کمیشن نے مختلف تنظیموں کی حیثیت کو سمجھنے میں غلطی کی اور پی ٹی آئی، اس کے ارکان اور حامیوں کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا،الیکشن کمیشن نے غلط نتیجہ اخذ کیا کہ پی ٹی آئی برطانیہ ایک پبلک لمیٹیڈ کمپنی ہے اور اسے برطانیہ کے قوانین کے تحت سیاسی عطیات جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ کہ پاکستان کے قوانین بیرون ملک مقیم کمپنی کو کسی بھی قسم کی فنڈنگ کی اجازت نہیں دیتے۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ الیکشن کمیشن اور اس کی اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر روک دے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل سے معاونت بھی طلب کر لی۔

Back to top button