سلمان شہباز کے مزید 13 اکائونٹس منجمد کرنے کا حکم

لاہور خصوصی سنٹرل کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادےسلمان شہباز کے مزید 13 بینک اکائونٹس منجمد کرنے کا حکم دیدیا۔
خصوصی عدالت کے جج اعجاز حسن اعوان نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں سلیمان شہباز کے شناختی کارڈ پر کھولی گئی شوگر ملز سمیت دیگر کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ العربیہ شوگرملز، رمضان شوگرملز، چنیوٹ پاورلمیٹڈ، شریف فیڈ ملز، یونی ٹاس اسٹیل کے اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ بینکوں کو اشتہاری ملزمان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا واضح حکم دیا تھا اور اس متعلق تفتیشی افسر نے بھی بینک کو آگاہ کیا تھا، اس کے باوجود بینکوں کے افسران عدالتی حکم پر عملدر آمد میں ناکام رہے، اکاؤنٹس مجمند کرنے کی بجائے بینکوں نے ملزم کے اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں، عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر کیوں نہ بینکوں کے افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
اب ملک کی تباہی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہوگی
عدالت نےبینک افسران کو 17 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا۔
قبل ازیں منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ سپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔جس میں شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے ان کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی جس کے مطابق شہباز شریف متعدد اہم امور میں مصروف عمل ہیں، ایف آئی اے نے شہباز شریف کی ایک روز کی حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت نہیں کی۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت میں ملزم سلمان شہباز کے منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کے لیے درخواست دی گئی، عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سلمان شہباز کے اکاوئٹنس منجمد ہونے سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جا سکیں۔ آئندہ سماعت پر ایف آئی اے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دے۔
واضح رہے کہ 7 ستمبر کو ایف آئی اے اسپیشل سینٹرل عدالت لاہور نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس پر سماعت کی تھی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائر کی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 17ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، سلیمان شہباز برطانیہ میں ہیں اور انہیں مفرور قرار دے دیا گیا تھا، بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2) اور 5(3) (مجرمانہ بدانتظامی) کے تحت 14 دیگر افراد کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو ان کی آمدنی کے نامعلوم ذرائع سے مال جمع کرنے میں مدد دی، ایف آئی اے نے 13 دسمبر 2021 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ عدالت میں جمع کروایا تھا اور دنوں کو مرکزی ملزم نامزد کر دیا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرایے گئے 7 والیمز کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی تھی اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف 100 گواہ پیش ہوں گے۔ چالان میں کہا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کے چپڑاسیوں، کلرکوں کے ناموں پر لاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں بنائے گئے۔
ایف آئی اے کے مطابق 28 بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے، 17 ہزار سے زیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا اور ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔ چالان میں کہا گیا کہ اس سے قبل شہباز شریف (وزیر اعلیٰ پنجاب 1998) 50 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث تھے، انہوں نے بیرون ملک ترسیلات (جعلی ٹی ٹی) کا انتظام بحرین کی ایک خاتون صادقہ سید کے نام اس وقت کے وفاقی وزیر اسحٰق ڈار کی مدد سے کیا۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا تھا کہ ’یہ چالان شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو مرکزی ملزم ٹھہراتا ہے جبکہ 14 بے نامی کھاتے دار اور 6 سہولت کاروں کو معاونت جرم کی بنیاد پر شریک ملزم ٹھہراتا ہے۔ چالان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں ہی 2008 سے 2018 عوامی عہدوں پر براجمان رہے تھے۔
